تین بلاک چین انٹیلی جنس فرموں نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ بائنانس پر ہونے والا حالیہ حملہ شمالی کوریا کی ریاستی سرپرستی میں کام کرنے والے ہیکرز نے کیا تھا، جب کہ اس دراندازی کی باضابطہ تحقیقات تاحال جاری ہے۔
جمعرات کو بائنانس والٹس سے کم از کم دو ارب ڈالر چرائے گئے جسے کسی کرپٹو ایکسچینج پر دنیا کا سب سے بڑا سائبر حملہ سمجھا جا رہا ہے۔
اگرچہ بائنانس اور سرکاری اداروں نے ابھی اپنی تحقیقات مکمل کرنی ہیں، لیکن بلاک چین سکیورٹی فرموں ٹی آر ایم لیبز، چینالیسز اور زیک ایکس بی ٹی نے اس حملے کا ذمہ دار پیانگ یانگ سے جڑے ہیکرز کو قرار دیا ہے۔
ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ہیکر نے بائنانس کے ایک انجینئر کے ہیک شدہ لیپ ٹاپ تک رسائی حاصل کرنے کے بعد غیر مجاز لین دین کیا۔
یہ واقعہ دبئی کی کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائی بٹ پر سال 2025 میں ہونے والے حملے کے بعد پیش آیا ہے، جس میں شمالی کوریا کے ہیکرز نے ڈیڑھ ارب ڈالر کی تاریخی چوری کی تھی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سائبر حملے کرنے میں شمالی کوریا کی کامیابی کی بنیادی وجہ پیانگ یانگ کی جانب سے بیرون ملک تعینات کارندوں کا استعمال ہے۔
ٹی آر ایم لیبز نے جمعہ کو اپنی ایک رپورٹ میں کہا کہ یہ ’انتہائی وثوق‘ کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ بائنانس پر حالیہ حملہ شمالی کوریا کے ٹریڈر ٹریٹر ہیکنگ یونٹ نے کیا تھا، جس کا تعلق بدنام زمانہ لازارس گروپ سے ہے۔ کمپنی نے کہا کہ اس کی یہ نشاندہی ’مضبوط آن اور آف چین انٹیلی جنس‘ پر مبنی ہے۔
بلاک چین سکیورٹی فرم چینالیسز کے سربراہ جونی لیون نے بھی کہا کہ یہ حملہ ‘ممکنہ طور پر’ شمالی کوریا کے گروپ ٹریڈر ٹریٹر نے کیا تھا۔
سائبر ماہرین نے گذشتہ ایک دہائی کے دوران سائبر حملوں کے حوالے سے شمالی کوریا کے طریقہ کار میں ایک واضح تبدیلی کی نشاندہی کی ہے، جو اب تباہ کن کارروائیوں، جیسے کہ 2014 کا سونی پکچرز پر حملہ، سے ہٹ کر کرپٹو کرنسی والٹس اور مرکزی بینکوں سے بڑی رقوم چرانے پر مرکوز ہو گئی ہے۔
شمالی کوریا کے ہیکرز بیرون ملک مالیاتی سسٹمز کو ہیک کرنے اور چوری شدہ رقم پیانگ یانگ کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام پر خرچ کرنے میں تیزی سے ماہر ہو گئے ہیں۔
جاپان کی وزارت خارجہ نے گذشتہ سال ایک رپورٹ میں خبردار کیا تھا کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کی قیادت میں، پیانگ یانگ کی سائبر فورس ایک ’مکمل دائرہ کار کے قومی پروگرام‘ میں تبدیل ہو چکی ہے جو اس قدر جدت سے کام کر رہی ہے جو ’چین اور روس کے سائبر پروگراموں کے قریب‘ ہے۔
کیوں کہ شمالی کوریا کا عالمی انٹرنیٹ سے رابطہ انتہائی محدود ہے، اس لیے چین یا روس سے کام کرنے کی وجہ سے اس کے ہیکرز کو بہتر بنیادی ڈھانچے تک رسائی مل جاتی ہے اور ساتھ ہی انہیں غیر ملکی آئی پی ایڈریس کا پردہ بھی مل جاتا ہے جس سے سائبر حملوں کے ماخذ کی شناخت کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
جاپانی وزارت خارجہ نے رپورٹ میں کہا کہ عالمی ہیکنگ کی کارروائیوں میں اکثر ‘بیرون ملک مقیم شمالی کوریا کے شہریوں اور غیر ملکی سازشیوں کے نیٹ ورکس’ کے ذریعے مدد لی جاتی ہے۔
بیرون ملک مقیم ہونے سے شمالی کوریا کے ہیکرز کے لیے غیر ملکی مالیاتی نیٹ ورکس کے ساتھ مل کر کام کرنا بھی آسان ہو جاتا ہے تاکہ چوری شدہ کرپٹو کرنسی کو روایتی رقم میں تبدیل کیا جا سکے۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ خاص طور پر جنوب مشرقی ایشیا کم جونگ ان کے سائبر نیٹ ورک کے لیے ایک اہم خطے کے طور پر ابھرا ہے، جو پیانگ یانگ کے لیے ایک ہدف اور کارروائیوں کے مرکز، دونوں کے طور پر کام کر رہا ہے۔
سینٹر فار سٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز (سی ایس آئی ایس) کی ایک رپورٹ کے مطابق، شمالی کوریا نے کمبوڈیا، تھائی لینڈ اور انڈونیشیا جیسے ممالک کے ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے میں مالویئر اور غیر مجاز رسائی کے ٹولز پھیلا رکھے ہیں، جس سے اسے اپنی عالمی کارروائیوں کو مسلسل خفیہ رکھنے میں مدد ملتی ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سینٹر فار اے نیو امریکن سکیورٹی کی سال 2020 کی ایک رپورٹ میں، جس میں شمالی کوریا کے بیرون ملک سائبر نیٹ ورک کا جائزہ لیا گیا تھا، انڈیا کو بھی ان ممالک میں شامل بتایا گیا جہاں شمالی کوریا کے سائبر ایجنٹس کام کرتے تھے۔
اطلاعات کے مطابق دنیا بھر میں شمالی کوریا کے مجموعی طور پر چھ ہزار تک سائبر ایجنٹس کام کر رہے ہو سکتے ہیں، جن میں چین، انڈیا، روس، بیلاروس اور ملائیشیا جیسے ممالک میں تعینات ایجنٹس بھی شامل ہیں۔
سی ایس آئی ایس کی رپورٹ کے مطابق، یہ افراد غیر ملکی کمپنیوں میں ملازمت حاصل کرنے کے لیے تیسرے ممالک کے شہری بن کر جعلی شناختیں اختیار کرتے ہیں۔
پیانگ یانگ کی جانب سے ان کارندوں کو کم عمری سے ہی اس طرح تیار کیا جاتا ہے کہ وہ ملک کے سائبر وارفیئر ایجنڈے کا حصہ بن سکیں۔
شمالی کوریا میں تعلیم میں بہترین کارکردگی دکھانے والے ذہین طلبہ کی جلد ہی شناخت کر لی جاتی ہے اور انہیں کمپیوٹر سائنس اور انفارمیشن سکیورٹی کی طرف راغب کیا جاتا ہے۔
پیانگ یانگ کی انٹیلی جنس سروسز، جیسے کہ ’ریکونیسنس جنرل بیورو‘ میں شامل ہونے والے افراد کو ایسی پیشکشیں دے کر لبھایا جاتا ہے جو عام طور پر شمالی کوریا کے شہریوں کے لیے حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہیں، جن میں بغیر کسی پابندی کے انٹرنیٹ اور اچھی تنخواہیں شامل ہیں۔
