سپر ایل نینیو 10 ماہ میں نو لاکھ اضافی اموات کا سبب بن سکتا ہے: سائنس دان

موسمیاتی سائنس دانوں نے تشویش ناک نئی پیش گوئی میں خبردار کیا ہے کہ سپر ایل نینیو صرف 10 ماہ کے دوران دنیا بھر میں تقریباً نو لاکھ اضافی اموات کا سبب بن سکتا ہے۔

یونیورسٹی آف شکاگو کی کلائمیٹ امپیکٹ لیب کا تیار کردہ ایل نینو ہیٹ مورٹیلیٹی ٹریکر اس موسمیاتی مظہر کے انسانی اثرات کی پیش گوئی کرتا ہے۔ ایل نینو اس وقت رونما ہوتا ہے جب وسطی اور استوائی بحر الکاہل میں سمندر کی سطح کا اوسط درجہ حرارت طویل مدتی اوسط سے 2 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے زیادہ بڑھ جاتا ہے۔

محققین کا اندازہ ہے کہ یہ موسمیاتی پیٹرن رواں سال جون اور ستمبر کے درمیان گرمی سے متعلق چار لاکھ 84 ہزار 500 اضافی اموات کا باعث بن چکا ہے، جب کہ اگلے چھ ماہ کے لیے مزید تقریباً 3 لاکھ 72 ہزار 900 اموات کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

مورٹیلیٹی ٹریکر کا نقشہ اس بات کی تفصیل فراہم کرتا ہے کہ کون سے ممالک سب سے زیادہ بری طرح متاثر ہوئے ہیں، جس میں نائیجیریا میں ہلاکتوں کی تعداد سب سے زیادہ ہونے کی توقع ہے۔ کلائمیٹ امپیکٹ لیب کے مطابق ماہرین کی پیش گوئی ہے کہ اگلے چھ ماہ کے دوران اس افریقی ملک میں 56 ہزار سے زائد اضافی اموات ہوں گی۔

اس میں انڈیا میں گرمی سے متعلق مزید 55 ہزار اموات کی پیش گوئی کی گئی ہے، جب کہ جنوب مشرقی ایشیا کو بھی خطرہ لاحق ہے جہاں انڈونیشیا میں تقریباً 29 ہزار اموات کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق، پیش گوئی کی گئی ہے کہ ایل نینو سے متعلق اموات میں سے ایک تہائی سے زیادہ صرف چین، نائیجیریا اور انڈیا میں ہوں گی۔

کلائمیٹ امپیکٹ لیب کے شریک بانی مائیکل گرین سٹون نے کہا، ’ہماری تحقیق درپیش ایک انتہائی فوری سوال کا جواب دینے کے لیے پیش گوئی کی نئی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتی ہے: شدید گرمی سے کہاں جانیں جانے کا امکان ہے؟‘

’شدید گرمی کے مہلک اثرات کی پیش گوئی کرنے کے قابل ہونا ایک بڑا قدم ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم ان مقامات کی نشان دہی کر سکتے ہیں جہاں لوگوں کو سب سے زیادہ خطرات کا سامنا ہے اور فیصلہ سازوں کو جانیں ضائع ہونے سے پہلے کارروائی کرنے کا موقع دے سکتے ہیں۔ ٹریکر اس سپر ایل نینو کے لیے یہ معلومات فراہم کرتا ہے جس سے ہم آج گزر رہے ہیں۔‘

اس موسم گرما میں کئی ممالک میں پڑنے والی شدید گرمی کے بعد، کلائمیٹ امپیکٹ لیب کی جانب سے گرمی سے ہونے والی کل اضافی اموات کی پیش گوئی میں ستمبر 2026 کی ایک رپورٹ کے مقابلے میں ڈرامائی طور پر اضافہ ہوا ہے۔

اس میں کہا گیا ہے، ’یہ دو مہینے پیش گوئی سے کہیں زیادہ گرم ثابت ہوئے‘، اور مزید کہا گیا کہ ’اگست ریکارڈ پر گرم ترین اگست اور ستمبر دوسرا گرم ترین ستمبر تھا‘۔

عام طور پر ایل نینو کا واقعہ بے قاعدگی سے ہر دو سے سات سال بعد رونما ہوتا ہے، جب کہ سپر ایل نینو تقریباً ہر 10 سے 15 سال بعد آتا ہے۔

سپر ایل نینو پہلے ہی دنیا بھر کے موسم کو متاثر کر رہا ہے۔ یہ عام طور پر موسم خزاں اور سردیوں کے دوران امریکہ، جنوبی امریکہ کے کچھ حصوں اور یورپ میں زیادہ بارشوں اور طوفانی حالات کا سبب بنتا ہے۔

یہ آسٹریلیا، انڈونیشیا اور جنوبی ایشیا میں طویل خشک سالی کا سبب بن سکتا ہے، جو بعض اوقات شدید قحط کا باعث بنتا ہے۔ انڈونیشیا میں ایل نینو کے باعث جنگلات میں لگنے والی آگ کے دھویں نے ملک میں سانس کی بیماریوں میں اضافہ کیا ہے اور سنگاپور اور ملائیشیا میں ہوا کے معیار میں ڈرامائی کمی واقع ہوئی ہے۔

سمندر سے فضا میں خارج ہونے والی حرارت کی وجہ سے عالمی سطح پر بھی درجہ حرارت بڑھ سکتا ہے۔

ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن (ڈبلیو ایم او) کے مطابق، رواں سال کئی خطوں نے ریکارڈ توڑ موسم گرما کا سامنا کیا، اور زمین پر اگست کا مہینہ تاریخ کا گرم ترین اگست رہا۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایل نینو کے بجائے موسمیاتی تبدیلیوں اور گلوبل وارمنگ کا نتیجہ تھا، جو عام طور پر موسم خزاں کے اواخر سے سردیوں تک اپنے مضبوط ترین اثرات مرتب کرتا ہے۔

رواں سال کے شروع میں، ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ انسانوں کی پیدا کردہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ایل نینو مزید طاقت ور ہو رہے ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جمعرات کو جریدے سائنس میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق، 1800 کی دہائی کے وسط میں صنعتی دور شروع ہونے سے پہلے کے مقابلے میں ایل نینو 36 فیصد سے زیادہ طاقت ور ہو چکے ہیں، جب کہ صرف گزشتہ 40 سالوں میں 16 فیصد اضافہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس میں تیزی آ رہی ہے۔

یونیورسٹی آف مشی گن میں پیلیو کلائمیٹ سائنس دان اور تحقیق کی مرکزی مصنفہ جولیا کول نے کہا، ’یہ اہم ہے کیوں کہ طاقت ور ایل نینو دنیا بھر میں موسمیاتی خطرات اور شدت پر بہت زیادہ اثرات مرتب کرتے ہیں۔‘

’جب ہم اس سوال کا جواب تلاش کرنے نکلے کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے، تو ہم نے اپنے ڈیٹا کا موازنہ عالمی درجہ حرارت کے ریکارڈ سے کیا، اور ہم نے پایا کہ ایل نینو کی طاقت میں اضافہ عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے بالکل متوازی ہے جس کی وجہ فوسل فیولز کا جلنا جیسے انسانی عوامل ہیں۔‘

یہ پیش گوئیاں لینسیٹ کاؤنٹ ڈاؤن آن ہیلتھ اینڈ کلائمیٹ چینج کی ایک نئی رپورٹ کے بعد بھی سامنے آئی ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ 2023 میں شدید گرمی ریکارڈ 7 لاکھ 10 ہزار ہلاکتوں کا باعث بنی، جب کہ محققین نے 70 فیصد سے زائد اموات کو براہ راست انسانوں کی پیدا کردہ گلوبل وارمنگ سے جوڑا ہے۔

وہ ممالک جنہیں سب سے زیادہ ممکنہ ہلاکتوں کا سامنا ہے (جون تا مارچ)

1: انڈیا۔ 1 لاکھ 60 ہزار (بشمول اگلے چھ ماہ میں 55 ہزار 200)

2: چین۔ 85 ہزار 400 (بشمول اگلے چھ ماہ میں منفی 240)

3: نائیجیریا۔ 69 ہزار 700 (بشمول اگلے چھ ماہ میں 56 ہزار 100)

4: سوڈان۔ 53 ہزار 200 (بشمول اگلے چھ ماہ میں 14 ہزار 700)

5: انڈونیشیا۔ 49 ہزار 500 (بشمول اگلے چھ ماہ میں 29 ہزار 300)

6: برازیل۔ 26 ہزار 700 (بشمول اگلے چھ ماہ میں 19 ہزار 500)

7: جمہوریہ کانگو۔ 24 ہزار 700 (بشمول اگلے چھ ماہ میں 11 ہزار 300)

8: بنگلہ دیش۔ 18 ہزار 400 (بشمول اگلے چھ ماہ میں 6 ہزار 700)

9: ویت نام۔ 18 ہزار 100 (بشمول اگلے چھ ماہ میں 8 ہزار 300)

10: چاڈ۔ 17 ہزار (بشمول اگلے چھ ماہ میں 17 ہزار 300)


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *