عالمی ثقافتی میلہ: فلسطین سمیت دنیا بھر کے فن کاروں کی کراچی آمد

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام موسیقی، تھیٹر، رقص، فلم اور ویژل آرٹس کے رنگ بکھیرنے کے لیے ورلڈ کلچر فیسٹیول 2026 کا آغاز 29 اکتوبر سے ہو رہا ہے جو 22 نومبر تک جاری رہے گا۔

اس فیسٹیول میں 150 سے زائد ممالک کے ایک ہزار سے زیادہ غیر ملکی اور 500 سے زائد پاکستانی فنکاروں کی شرکت متوقع ہے۔

اس بار فیسٹیول میں فلسطینی فن کاروں کی کہانیاں، بین الاقوامی تھیٹر، مختلف ملکوں کی موسیقی اور رقص کے ساتھ پاکستانی ثقافت کو دنیا کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ منتظمین کے مطابق اس کا بنیادی مقصد فن کے ذریعے مختلف قوموں کو قریب لانا اور پاکستان کا مثبت ثقافتی تشخص اجاگر کرنا ہے۔

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے صدر محمد احمد شاہ نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس سال فیسٹیول میں تقریباً 90 فیصد پرفارمنسز نئی ہیں، جبکہ گذشتہ سال کی 10 سے 15 فیصد غیر معمولی پرفارمنسز کو دوبارہ شامل کیا گیا ہے۔

ان کے مطابق: ’گذشتہ سال فیسٹیول 39 دن جاری رہا تھا، جبکہ اس مرتبہ یہ 25 دن کا ہے، لیکن اس سال فنکاروں کی تعداد گذشتہ برس کے مقابلے میں دگنی سے بھی زیادہ ہے۔‘

احمد شاہ کا کہنا تھا کہ فیسٹیول کو صرف شرکا کی تعداد سے نہیں بلکہ اس کے معیار، ثقافتی تنوع اور عام لوگوں تک رسائی سے بھی جانچنا چاہیے۔ اس میں موسیقی، تھیٹر، رقص، فلم اور ویژل آرٹس کی مختلف سرگرمیاں شہر کے متعدد مقامات پر منعقد ہوں گی۔

فلسطین کی کہانیاں، تھیٹر کے ذریعے دنیا تک

فیسٹیول میں فلسطین کے حوالے سے ایک اہم پروگرام فلسطینی تھیٹر ڈائریکٹر اور اداکار احمد الطوباسی کا ڈراما ’اینڈ ہیئر آئی ایم‘ ہے، جو دو نومبر کو پیش کیا جائے گا۔ یہ ڈراما ان کی زندگی، جنین کے پناہ گزین کیمپ میں گزارے وقت، قید کے تجربات اور تھیٹر کی دنیا تک ان کے سفر پر مبنی ہے۔

احمد شاہ نے کہا کہ جنگ یہ نہیں دیکھتی کہ متاثرہ شخص فن کار ہے، فوجی ہو یا بچہ، اس کا دکھ پوری انسانیت کا دکھ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’فلسطین کا معاملہ صرف مذہب تک محدود نہیں بلکہ انسانیت کا معاملہ ہے۔ فن اور ثقافت کے ذریعے ایسے تجربات دنیا کے سامنے لائے جا سکتے ہیں جن سے مختلف معاشروں کے لوگ ایک دوسرے کے حالات اور احساسات کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔‘

احمد شاہ کے مطابق آرٹس کونسل نے سعودی عرب کے ثقافتی اداروں سے بھی رابطے کیے تھے اور مستقبل میں ان کے ساتھ شراکت داری کی خواہش رکھتی ہے۔ تاہم، موجودہ علاقائی صورت حال کے باعث سعودی فنکاروں کی شرکت ممکن نہیں ہو سکی۔

آرٹس کونسل حکام کے مطابق فیسٹیول میں فلسطینی فن کاروں کی شرکت کے حوالے سے تازہ صورت حال یہ ہے کہ احمد الطوباسی کا ڈراما پروگرام میں شامل ہے، جب کہ ایک فلسطینی گروپ کی شرکت منسوخ ہو چکی ہے۔ اس کے باوجود فلسطینی فنکاروں کی کہانی اور ان کے تجربات کو عالمی ثقافتی پلیٹ فارم پر پیش کرنا فیسٹیول کے اہم پہلوؤں میں شامل ہے۔

سویڈش آرٹسٹ ڈومی فورسٹ کی کراچی واپسی

ورلڈ کلچر فیسٹیول میں شرکت کے لیے سویڈن سے تعلق رکھنے والی میورل آرٹسٹ ڈومی فورسٹ بھی دوسری بار کراچی آئی ہیں۔ گذشتہ سال انہوں نے فیسٹیول کے دوران تین پینٹنگز بنائی تھیں، جن میں دو بڑی اور ایک چھوٹی پینٹنگ شامل تھی، جو سکول کے اندر موجود ہے۔

ڈومی فورسٹ نے کہا کہ انہیں یقین نہیں آتا کہ گذشتہ فیسٹیول کو ایک سال گزر چکا ہے اور وہ دوبارہ کراچی آ کر بہت خوش ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے بتایا: ’گذشتہ سال وہ تقریباً دو ہفتے کراچی میں رہی تھیں اور اس دوران تین آرٹ ورک تخلیق کیے تھے۔ اس سال وہ آرٹس کونسل سکول کے قریب تین مختلف دیواروں پر پینٹنگز بنائیں گی، جو ایک دوسرے سے منسلک ہوں گی۔‘

ڈومی فورسٹ کا کہنا تھا کہ وہ اس سال کے کام کے لیے بہت پرجوش ہیں اور دوسرے فنکاروں کے ساتھ مل کر نئے تجربات حاصل کرنے اور نئی دوستیاں قائم کرنے کی منتظر ہیں۔

دنیا بھر کے فن کار، ایک شہر میں

فیسٹیول میں امریکہ، ایران، عراق، فلسطین اور لاطینی امریکہ سمیت مختلف خطوں کے فنکاروں کی شرکت کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات، قطر، الجزائر، مراکش، ترکیہ اور مصر سے بھی فن کاروں کی آمد متوقع ہے۔

ویژل آرٹس کی نمائش ’میتھڈ اینڈ میڈنیس‘ میں بنگلہ دیش، جرمنی، متحدہ عرب امارات، ایران اور ایتھوپیا سے تعلق رکھنے والے فنکاروں کا کام پیش کیا جائے گا۔ اس نمائش میں سویڈن کی ڈومی فورسٹ اور سنگاپور کے میورل آرٹسٹ یپ ییو چونگ بھی شامل ہیں۔

احمد شاہ کے مطابق فیسٹیول میں موسیقی اور رقص کی پرفارمنسز کے علاوہ مختلف ممالک کے فنکار اپنے روایتی آلات اور فنون بھی پیش کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کی سرگرمیاں پاکستانی عوام کو دنیا کی مختلف ثقافتوں سے متعارف کرانے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔

عام شہریوں کی فن اور ثقافت تک رسائی

صدر آرٹس کونسل احمد شاہ نے کہا کہ گذشتہ سال فیسٹیول کی متعدد سرگرمیوں کے لیے ٹکٹ رکھے گئے تھے، لیکن اس بار منتظمین نے زیادہ سے زیادہ پروگرام عام لوگوں کے لیے مفت رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ان کے مطابق مقصد یہ ہے کہ وہ افراد بھی عالمی فنون سے لطف اندوز ہو سکیں جو مہنگے ٹکٹ خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے، لیکن فن اور ثقافت میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

آرٹس کونسل کی جانب سے جاری معلومات کے مطابق فیسٹیول کے تقریباً پروگرام مفت ہوں گے، تاہم بیشتر مفت پروگراموں کے لیے پیشگی رجسٹریشن ضروری ہے۔

قوالی سے تھیٹر اور فلم تک

فیسٹیول کا آغاز 29 اکتوبر کو حمزہ اکرم قوال اینڈ برادرز کی قوالی نائٹ اور ہپ ہاپ ڈانس پرفارمنس سے ہوگا۔ اس کے بعد مختلف تاریخوں میں تھیٹر، موسیقی، رقص، فلم اور ویژل آرٹس کی سرگرمیاں منعقد ہوں گی۔

30 اکتوبر سے دو نومبر تک ’میتھڈ اینڈ میڈنیس‘ کے عنوان سے ویژل آرٹس کی نمائش احمد پرویز آرٹ گیلری میں ہوگی۔ 31 اکتوبر کو ’دی اوورکوٹ‘ سمیت تھیٹر پرفارمنسز بھی پروگرام کا حصہ ہیں، جبکہ 2 نومبر کو احمد الطوباسی کا ڈرامہ ’اینڈ ہیئر آئی ایم‘ پیش کیا جائے گا۔

فیسٹیول 22 نومبر کو پاکستانی گلوکار سجاد علی کی پرفارمنس کے ساتھ اختتام پذیر ہوگا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *