پشاور میں تجاوزات کے خلاف آپریشن کس قانون کے تحت؟

پشاور سمیت خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں گذشتہ تقریباً ایک ہفتے سے تجاوزات کے خلاف ضلعی انتظامیہ کی جانب سے آپریشن جاری ہے اور مختلف شاہراہوں پر غیر قانونی تعمیرات کو مسمار کیا جا رہا ہے۔

پشاور رنگ روڈ پر جاری آپریشن کی جگہ پر انڈپینڈنٹ اردو کی ٹیم نے دیکھا کہ اسسٹنٹ کمشنر کی نگرانی میں رنگ روڈ کی دونوں جانب 124 فٹ کے اندر ہر قسم کی تعمیرات کو مسمار کیا جا رہا تھا۔

دوران آپریشن دیکھا گیا کہ کسی نے کار شوروم کی دیوار مبینہ سرکاری زمین کے حدود میں بنائی تھی تو کسی نے تجاوز کر کے سی این جی سٹیشن کی دیوار تعمیر کی تھی۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

اسی طرح رنگ روڈ پر واقع بعض ریسٹورنٹ کے کچھ حصوں کو بھی تجاوزات کی مد میں ہٹایا گیا اور حکومت کے مطابق صرف متنی تحصیل میں اب تک 500 کے قریب چھوٹے بڑے غیر قانونی تعمیرات مسمار کیے گئے۔

رنگ روڈ پر موجود اسسٹنٹ کمشنر متنی سعید منان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ روڈ کی دونوں جانب پیمائش کی جاتی ہے اور روڈ کے وسط سے دونوں جانب 124 فٹ سرکاری ملکیت ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ’یہ آپریشن مفاد عامہ کے لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ تجاوزات کی وجہ سے ٹریفک میں خلل اور بارش کے دوران پانی سڑکوں پر جمع ہوتا ہے جس سے عوام کو مشکلات ہوتی ہیں۔‘

آپریشن کس قانون کے تحت؟

پشاور سمیت خیبر پختونخوا میں تجاوزات ہٹانے کے لیے باقاعدہ ایک قانون موجود ہے جو 1977 میں قانون بنایا گیا تھا جس کے تحت سرکاری حکام کو تجاوزات ہٹانے کا اختیار دیا گیا۔

خیبر پختونخوا پبلک پراپرٹی (اینکروچمنٹ ایکٹ) 1977 کے شق نمبر 3 کے مطابق مجاز اتھارٹی کو اختیار ہے کہ وہ سرکاری زمین پر تجاوزات کو ہٹائے اور ہٹانے سے پہلے کم از کم تین دن کا پیشگی نوٹس دے ۔

تاہم اس قانون کے مطابق اگر کسی مرکزی شاہراہ، سڑک، اور دریا کنارے کوئی غیر قانونی تعمیرات ہیں تو انہیں نوٹس دیے بغیر ہٹایا جا سکتا ہے اور نقصان کا ذمہ دار تعمیرات کرنے والے ہوں گے۔

اس قانون کے مطابق غیر قانونی تعمیرات ہٹانے کا خرچ بھی تعمیرات کرنے والوں سے وصول کیا جائے گا جبکہ تجاوزات کرنے والوں کو تین سال قید کی سزا یا اس زمین کا 0.10 فیصد رینٹ وصول کیا جائے گا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس قانون کے مطابق تجاوزات کے ہٹانے کے لیے کوئی بھی سول عدالت اس حوالے سے کیسز کی شنوائی نہیں کرے گی بلکہ ڈسٹرکٹ جج یا ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج، ضلعی مجسٹریٹ یا ایڈیشنل مجسٹریٹ پر مشتمل ٹریبوینل اس قسم کی اپیلوں کو سنیں گے۔

تجاوزات کے حوالے سے بعض لوگوں کی شکایت ہے کہ ان کو پیشگی نوٹس نہیں دیا گیا، جس کی وجہ سے قیمتی سامان خراب ہوجاتا ہے۔

محمد داؤد کا رنگ روڈ پر کار سروس سٹیشن ہے اور اس کے سٹیشن کا کچھ حصہ تجاوزات کی وجہ سے مسمار کیا گیا لیکن ان کا کہنا تھا کہ پہلے سے نوٹس ملنا ضروری ہے۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ تجاوزات ہٹانا حکومت کا حق ہے لیکن کم از کم کچھ دن پہلے نوٹس دینا ضروری ہے، تاکہ وہاں سے قیمتی سامان ہٹایا جا سکے۔

دوسری جانب اسسٹنٹ کمشنر سعید منان کے مطابق تمام غیر قانونی تعمیرات کو سالوں پہلے نوٹس ملا ہے تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد تجاوزات کو ہٹایا جا رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ’پھر بھی اگر کسی کو شکایت ہے، تو اپیل کے لیے فورم موجود ہے اور کوئی بھی اس فورم میں اپیل کا حق رکھتا ہے۔‘

سعید منان نے بتایا کہ تجاوزات کے خلاف آپریشن تب تک جاری رہے گا، جب تک سرکاری زمین پر بنی ہر قسم کی غیر قانونی تعمیرات کو نہ ہٹایا جائے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *