سپین میں تیز رفتار ٹرینوں کے تصادم سے 64 اموات، 100 سے زائد زخمی

سپین کے دارالحکومت میڈرڈ کے جنوب میں بدھ کو دو تیز رفتار ٹرینوں کے تصادم میں 64 افراد جان سے گئے اور درجنوں زخمی ہوئے۔

 حکام کے مطابق اموات میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

یہ حادثہ رواں صدی کے دوران یورپ میں ٹرینوں کے مہلک ترین حادثات میں سے ایک ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

سپین کے وسطی علاقے کاسٹیا لا مانچا میں جائے حادثہ پر موجود خبر رساں ادارے اے ایف پی کے صحافیوں نے دیکھا کہ ایک ٹرین دوسری ٹرین میں دھنس گئی تھی۔

 رواں سال سپین میں تیز رفتار ٹرینوں کے تصادم کا یہ دوسرا حادثہ ہے۔

ٹرین کی بعض بوگیاں پٹری کے کنارے ڈھلوان کے نیچے الٹی پڑی تھیں جبکہ امدادی اداروں کی درجنوں گاڑیاں جائے حادثہ پر پہنچ رہی تھیں۔

کاسٹیا لا مانچا کے سربراہ ایمیلیانو گارسیا پاجے نے جائے حادثہ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ہم تقریباً 64  اموات کی بات کر رہے ہیں لیکن اس تعداد میں مزید اضافے کا امکان ہے۔

اس سے قبل حکام نے31  افراد کی موت کی اطلاع دی تھی۔

کاسٹیا لا مانچا کی علاقائی حکومت کی ایک ترجمان نے اے ایف پی کو بتایا کہ حادثے میں 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے 58 کو ہسپتال منتقل کیا گیا جبکہ 15 کی حالت تشویش ناک ہے۔

حادثے میں زندہ بچ جانے والے افراد کی تلاش کے لیے جاری ہنگامی کارروائیوں کے دوران ہیلی کاپٹر جائے حادثہ کے اوپر پرواز کرتے رہے جبکہ میتوں کی منتقلی کے ادارے کی کئی سیاہ گاڑیاں بھی وہاں پہنچیں۔

سپین کے سرکاری ریلوے آپریٹر رینفے نے ایک بیان میں تصدیق کی کہ اس کی ایک ٹرین اور نجی ہسپانوی کمپنی ایریو (Iryo)  کی ٹرین کے درمیان حادثے کے بعد میڈرڈ سے جنوبی سپین جانے والی مرکزی تیز رفتار ریلوے لائن پر ٹرین سروس معطل کر دی گئی ہے۔

نجی ریلوے کمپنی ایریو نے ایک بیان میں کہا کہ اس کی ٹرین میں 147 مسافر اور ڈرائیور سمیت عملے کے پانچ افراد سوار تھے، جب رینفے کی ٹرین نے اسے ’پیچھے سے ٹکر ماری‘۔

میڈرڈ سے تقریباً 130 کلومیٹر جنوب میں واقع قریبی گاؤں اُردا کے رہائشی 49  سالہ مینوئل اورٹیز نے اے ایف پی کو بتایا کہ وہ حادثے میں زندہ بچ جانے والے افراد کو صبح سے اپنی گاڑی میں منتقل کر رہے ہیں۔

اورٹیز نے مزید بتایا کہ ایریو ٹرین کے مسافروں نے انہیں بتایا تھا کہ تصادم کے وقت ان کی ٹرین کھڑی تھی۔

انہوں نے جائے حادثہ کو ’انتہائی خوف ناک اور ہولناک‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں ’حادثے اور دھات کی بو‘ پھیلی ہوئی تھی۔

ریلوے کے حفاظتی انتظامات پر سوالات

یہ حادثہ سپین میں 29 نومبر کو ہونے والے قبل از وقت عام انتخابات سے تقریباً ایک ماہ قبل پیش آیا ہے جن میں سوشلسٹ وزیراعظم پیدرو سانچیز رائے عامہ کے اپنے خلاف نتائج کو بدلنے اور آٹھ سالہ دور اقتدار بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

پیدرو سانچیز کو رواں سال ٹرین کے پہلے بڑے حادثے کے بعد بھی شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

وزیراعظم پیدرو سانچیز کے دفتر نے بتایا کہ وہ جائے حادثہ کی جانب روانہ ہو رہے ہیں۔

اس سے قبل وزیراعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا تھا کہ وہ حادثے پر ’شدید صدمے‘  میں ہیں اور انہوں نے تمام متاثرین اور ان کے اہل خانہ کے لیے اپنی ’محبت، یکجہتی اور حمایت‘  کا اظہار کیا۔

حادثے کے بعد سپین اور یورپ بھر سے تعزیتی پیغامات موصول ہونے لگے۔

سپین کے شاہی خاندان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ وہ حادثے پر ’صدمے اور تشویش‘  میں مبتلا ہے۔

 شاہی خاندان نے متاثرین، ان کے اہل خانہ اور امدادی اداروں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔

یورپی یونین کی ایک ترجمان نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر یورپی یونین ’سپین کی مدد کے لیے تیار ہے‘۔

دوسری جانب یورپی کمیشن کی سربراہ ارسلا وان ڈیر لائن نے حادثے کی ’تباہ کن خبر‘  پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’یورپ متاثرین کے غم میں شریک ہے‘۔

سپین کی فٹ بال فیڈریشن نے حادثے کے متاثرین کے ساتھ ’احترام اور یکجہتی کے اظہار‘ کے لیے کوپا ڈیل رے فٹ بال ٹورنامنٹ کے پہلے راؤنڈ کے 24  میچ ملتوی کر دیے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سپین کے تیز رفتار ریلوے نیٹ ورک میں حالیہ برسوں کے دوران بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی گئی ہے جس کے نتیجے میں یہ چین کے بعد دنیا کا دوسرا سب سے بڑا تیز رفتار ریلوے نیٹ ورک بن چکا ہے اور اسے قومی فخر کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

تاہم بدھ کا حادثہ رواں سال جنوری میں جنوبی سپین کے گاؤں آداموز کے قریب دو تیز رفتار ٹرینوں کے تصادم کے بعد پیش آیا ہے جس میں 46  افراد جان سے گئے تھے۔

جنوری کے حادثے نے ملک کے ریلوے نظام میں حفاظتی انتظامات کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کر دیے تھے۔

جنوری کا حادثہ 2013  کے بعد سپین میں ٹرین کا سب سے مہلک حادثہ تھا۔

سال 2013  میں شمال مغربی شہر سانتیاگو دے کومپوستیلا کے قریب ایک ٹرین پٹری کے موڑ پر بے قابو ہو کر پٹری سے اتر گئی تھی، جس کے نتیجے میں 80  افراد جان سے گئے۔

رواں سال ٹرینوں کے تصادم کے دونوں حادثات میڈرڈ کو جنوبی شہر سیویا سے ملانے والی ریلوے لائن پر پیش آئے۔

تازہ حادثے کی وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی۔

 یہ حادثہ ریلوے ٹریک کے ایک سیدھے حصے پر اس وقت پیش آیا جب موسم صاف اور خشک تھا۔

اے ایف پی کے مطابق سفید حفاظتی لباس پہنے پانچ افراد ریلوے ٹریک کا معائنہ کر رہے تھے اور تصاویر لے رہے تھے۔

یہ سپین کے مصروف ترین ریلوے راستوں میں سے ایک ہے۔ 1992 میں سیویا میں منعقد ہونے والی عالمی نمائش کے موقع پر اس کا افتتاح کیا گیا تھا اور یہ ملک کی پہلی تیز رفتار ریلوے لائن تھی۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *