خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں چشمہ شوگر مل کے 17 ملازمین اغوا کے چھ روز بعد بھی بازیاب نہیں ہو سکے جبکہ ان کی واپسی کے لیے لواحقین اور علاقہ مکینوں نے گذشتہ روز احتجاج کرتے ہوئے انڈس ہائی وے کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا۔
ان ملازمین کو 21 اکتوبر کی شام نامعلوم مسلح افراد نے اس وقت اغوا کیا تھا جب وہ شوگر مل میں ڈیوٹی ختم کرنے کے بعد بس کے ذریعے اپنے گھروں کو واپس جا رہے تھے۔
واقعہ ڈی آئی خان کے تھانہ پروآ کی حدود میں پیش آیا جہاں مسلح افراد نے انڈس ہائی وے پر ملازمین کی بس روکی اور اسلحے کے زور پر 17 افراد کو اپنے ساتھ لے گئے۔
اغوا ہونے والوں میں سکیورٹی گارڈز اور درجہ چہارم کے ملازمین بھی شامل ہیں۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
پولیس کے مطابق مغویوں کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری ہیں تاہم اب تک کسی کی رہائی کی تصدیق نہیں ہوئی۔
پولیس نے مغوی ملازمین کے بارے میں کیا بتایا؟
ڈیرہ اسماعیل خان کے ضلعی پولیس افسر (ڈی پی او) ضیا الدین نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’مغویوں کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔‘
تھانہ پروآ کے محرر طارق بلوچ نے بتایا کہ چشمہ شوگر مل کی بس روزانہ ڈیوٹی ختم ہونے کے بعد ملازمین کو لے کر ڈی آئی خان شہر کی جانب روانہ ہوتی تھی اور راستے میں مختلف دیہات میں انہیں اتارتی تھی۔
ان کے مطابق 21 اکتوبر کو بھی ملازمین اسی معمول کے مطابق گھروں کو واپس جا رہے تھے جب مسلح افراد نے انہیں اغوا کر لیا۔
طارق بلوچ نے بتایا کہ اسی موقع پر ایک دوسری مسافر بس سے بھی کچھ مسافروں کو اغوا کیا گیا تھا تاہم انہیں بعد میں رہا کر دیا گیا۔
انہوں نے کہا ’شوگر مل کے ملازمین کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔‘
لواحقین کا انڈس ہائی وے پر احتجاج
مغوی ملازمین کی بازیابی میں تاخیر کے خلاف پیر کو ان کے لواحقین اور مقامی رہائشیوں نے پروآ کے علاقے میں احتجاج کیا اور انڈس ہائی وے کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا۔
مظاہرین نے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی سے مطالبہ کیا کہ وہ مغویوں کی بحفاظت بازیابی کے لیے اقدامات کریں۔
مغوی ملازمین میں شامل ایک شخص کے بھائی قاری محی الدین نے مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پانچ دن گزرنے کے باوجود ان کے بھائی سمیت دیگر ملازمین کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
انہوں نے کہا ’ڈی آئی خان فیصل کریم کنڈی کا آبائی علاقہ ہے اور ان کے علاقے میں یہ واقعہ پیش آیا ہے، اس لیے وہ بازیابی کے لیے کوششیں تیز کریں۔‘
شوگر ملز ایسوسی ایشن کا اظہار تشویش
پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے چشمہ شوگر مل کے ملازمین کے اغوا کی مذمت کرتے ہوئے واقعے کو تشویش ناک قرار دیا ہے۔
ایسوسی ایشن کے جاری کردہ بیان کے مطابق اس نوعیت کے واقعات سے صنعتی اداروں میں کام کرنے والے ملازمین میں خوف کی فضا پیدا ہوتی ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
بیان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا گیا کہ مغوی ملازمین کی بحفاظت بازیابی کے لیے کوششیں تیز کی جائیں اور واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں۔
چشمہ شوگر مل کہاں واقع ہے؟
چشمہ شوگر مل ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے رمک میں واقع ہے جسے 1988 میں قائم کیا گیا تھا۔
مل میں روزانہ تقریباً 18 ہزار میٹرک ٹن گنے کی کرشنگ کی صلاحیت ہے اور اس میں ڈی آئی خان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد ملازمت کرتے ہیں۔
مل کے ملازمین کو روزانہ ڈیوٹی کے بعد بسوں کے ذریعے مختلف علاقوں میں ان کے گھروں کے قریب اتارا جاتا ہے۔
21 اکتوبر کو اسی معمول کے سفر کے دوران 17 ملازمین کو اغوا کیا گیا تھا۔
واقعے کے چھ روز گزرنے کے باوجود ان ملازمین کی بازیابی نہ ہونے سے ان کے اہل خانہ کی تشویش برقرار ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ بازیابی کے لیے کوششیں جاری ہیں تاہم تاحال اغوا کی ذمہ داری قبول کرنے والے کسی گروہ یا اغوا کاروں کے مطالبات کے بارے میں کوئی مصدقہ معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔
