خیبر پختونخوا کے چند نوجوان صحافیوں کا ایک وفد پچھلے دنوں مطالعاتی دورے پر ہمارے نیوز روم آیا۔ ان میں سے اکثر دور دراز علاقوں میں اپنے چھوٹے ڈیجیٹل ادارے چلا رہے تھے۔ سب محنتی تھے اور صحافت کو محض پیٹ بھرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ جبر کے خلاف آواز اٹھانے کا وسیلہ سمجھتے تھے۔ لیکن ان تمام کا ایک ہی مشترکہ دکھ تھا: مالی بحران۔
ان کا سوال سادہ مگر سنگین تھا کہ کیا وہ طویل عرصے تک اپنے ان اداروں کو زندہ رکھ بھی پائیں گے یا نہیں؟ یہ وہی سوال تھا جس پر اسی سال کے وسط میں، میں نے برطانیہ کی ویسٹ منسٹر یونیورسٹی میں اپنا تحقیقی مقالہ لکھا تھا، جسے برطانوی میڈیا کی نامور محقق اور میری سپروائزر پروفیسر جین سیٹن نے خاصا سراہا تھا۔
مقالے کا بنیادی مقصد یہ سمجھنا تھا کہ چھوٹے آزاد ڈیجیٹل میڈیا ادارے سرکاری اشتہارات اور بیرونی گرانٹس کا محتاج بنے بغیر اپنے پاؤں پر کیسے کھڑے ہو سکتے ہیں؟ پروفیسر جین سیٹن نے میرا تعارف برطانیہ کے ان میڈیا اداروں سے کروایا جو سبسکرپشن ماڈل، پبلک فنڈنگ اور قارئین کی ملکیت کے بل بوتے پر کامیابی سے چل رہے تھے۔ وہاں عوام ان آزاد پلیٹ فارمز کو اس لیے سپورٹ کرتے تھے تاکہ مقامی مسائل کو آواز مل سکے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمارے ہاں اس قسم کا کوئی ماڈل چل سکتا ہے؟ اس کا مختصر اور تلخ جواب ہے: نہیں۔
ایک رپورٹ کے مطابق آج پاکستان میں صرف نیٹ فلکس جیسے تفریحی پلیٹ فارم کے صارفین کی تعداد کئی لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔ یعنی تفریح کے لیے لوگ رقم خرچ کرنے پر تیار ہیں۔ لیکن کیا یہ لوگ سنجیدہ صحافتی مواد دیکھنے یا کسی آزاد ادارے کو زندہ رکھنے کے لیے کبھی سبسکرپشن لیں گے؟ آٹے میں نمک کے برابر شاید چند فیصد لوگ ہاں کہہ دیں۔
لیکن میرے نزدیک اس سے بھی زیادہ اہم اور تشویشناک سوال یہ ہے کہ اگر مان لیجیے کہ لوگ پیسے دینے پر تیار ہو بھی جائیں، تو وہ بدلے میں ہم سے کس قسم کا مواد دیکھنا پسند کریں گے؟
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
خیبر پختونخوا سے آئے ان صحافیوں نے باتوں باتوں میں ایک بڑا دلچسپ انکشاف کیا۔ ان کا کہنا تھا: ’ہم تعلیم، صحت یا کرپشن پر جان مار کر سٹوری بنائیں تو کوئی نہیں دیکھتا، لیکن جیسے ہی ہم کرائم بیٹ کی کوئی سنسنی خیز خبر دیتے ہیں تو رسپانس غیر معمولی آتا ہے۔‘ دیگر نیوز اداروں کے مدیروں سے جب اس پر گفتگو ہوئی تو ان کا مشاہدہ بھی اس سے مختلف نہیں تھا۔
ایک نیوز روم چلانے کے میرے اپنے تجربے میں بھی ڈیٹا یہ ہی ظاہر کرتا ہے کہ جب بھی کوئی خونی واردات یا قتل و غارت سے بھرپور کہانی پیش کی جائے، تو عوامی انگیجمنٹ آسمان کو چھونے لگتی ہے۔
میں اکثر خود سے یہ سوال پوچھتا ہوں کہ جس ملک میں معاشی بحران ہو، صحت کا بنیادی انفراسٹرکچر تباہ ہو اور تعلیم جیسے گھمبیر مسائل درپیش ہوں، وہاں صرف قتل و غارت ہی وہ موضوع کیوں ہے جس میں سب کی دلچسپی ہے؟
کیا یہ سن دو ہزار کے اوائل سے ملک میں جاری اس طویل خون خرابے کا اثر ہے جسے مین سٹریم میڈیا گھنٹوں لائیو دکھاتا رہا اور ہم بحیثیتِ قوم اس کے عادی ہو گئے؟ یا پھر یہ ہمارے بچپن کی وہ کہانیاں ہیں جن میں ’ہتھوڑا مار گروپ‘ کے قصے ہماری ذہنیت میں سرایت کر گئے؟ اور کیا رہی سہی کسر اسی اور نوے کی دہائی کی ان فلموں نے پوری کر دی جن میں ہیرو کے سفید لٹھے پر سرخ خون کے دھبے دیکھنا ہی تفریح کا معیار سمجھا جاتا تھا؟
آج بھی یوٹیوب پر وہی پوڈکاسٹس ملینز میں ویوز سمیٹتی ہیں جن کے تھمب نیلز پر ’بیوی نے آشنا کے ساتھ مل کر شوہر کا قتل کر دیا‘ یا ’لرزہ خیز قتل کی داستان‘ لکھا ہوتا ہے۔
ظاہر ہے اس سب کو جانچنے کے لیے ہمارے پاس کوئی ٹھوس سائنسی تحقیق تو شاید میسر نہ ہو، لیکن ‘نیشنل سائیکاٹری موربیڈیٹی سروے آف پاکستان’ کی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق ملک میں ہر تین میں سے ایک شخص کسی نہ کسی طرح ذہنی عارضے کا شکار ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا سکرینوں پر یہ قتل و غارت دیکھنے والی عوام ان تین میں سے وہ ایک شخص ہے، یا پھر یہ قتل و غارت دکھا دکھا کر ہم نے ہر تین میں سے ایک شخص کو ذہنی مریض بنا دیا ہے؟
مصنف ایک ڈیجیٹل میڈیا نیوز نیٹ ورک میں بطور نیوز ڈایئریکٹر خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور دی بگ کویئسچن کے نام سے ایک پوڈکاسٹ کی میزبانی بھی کرتے ہیں۔


