ایران کے خلاف امریکہ کی بدلتی جنگی حکمت عملی

ایران کے خلاف امریکی جنگی حکمت عملی میں تبدیلی کو صرف جنگی طیاروں، بحری بیڑوں اور بموں کی تعداد سے نہیں سمجھا جا سکتا۔ واشنگٹن اب ایران کی جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت، عسکری رابطوں اور معاشی وسائل کو مربوط دباؤ میں لانے کی کوشش کر رہا ہے۔ شواہد سے ایسی حکمت عملی ابھرتی ہے جس میں دور سے حملہ، مسلسل نگرانی، سمندری ناکہ بندی اور مذاکرات ساتھ چلتے ہیں۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ تکنیکی برتری سیاسی اطاعت کیسے پیدا کرے گی؟

23 اکتوبر کی برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی اور اسرائیلی افواج نے وسط مدتی انتخابات کے بعد ممکنہ نئے حملوں کے منصوبے تیار کیے ہیں۔ ان میں توانائی کے ڈھانچے، جوہری تنصیبات، میزائلوں اور ڈرونز کو نشانہ بنانے کے امکانات شامل ہیں۔ تاہم منصوبہ تیار ہونا حملے کا حتمی فیصلہ نہیں۔ اسی روز استنبول میں علاقائی اور یورپی وزرائے خارجہ نے نئی کارروائی سے جنگ پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا۔ اس لیے موجودہ فوجی تیاری کو سفارتی دباؤ اور ممکنہ جنگ، دونوں کے تناظر میں پڑھنا ضروری ہے۔

اس تبدیلی کا سرا جون 2025 کا آپریشن مڈنائٹ ہیمر ہے۔ امریکی تفصیلات کے مطابق سات بی ٹو بمباروں نے 14 جی بی یو 57 بم استعمال کیے جبکہ آبدوز سے ٹام ہاک میزائل داغے گئے۔ ہدف ایران کی تین جوہری تنصیبات تھیں۔ بی ٹو کی سٹیلتھ خصوصیات ریڈار پر شناخت مشکل بناتی ہیں جبکہ بھاری بم مضبوط زیر زمین تعمیرات کے خلاف بنائے گئے ہیں۔ یہاں قوت کا ارتکاز چند منتخب اہداف پر تھا: پوری ریاست کی مسلسل جنگی صلاحیت مختلف مسئلہ ہے۔

28 فروری 2026 سے شروع ہونے والے آپریشن ایپک فیوری میں دائرہ وسیع ہوا۔ پینٹاگون نے ایرانی میزائل، ان کی پیداوار، بحری قوت اور دوسرے سلامتی ڈھانچوں کی تباہی کو مقاصد میں شمار کیا۔ جوہری ہتھیاروں کی روک تھام بھی اعلان کا حصہ رہی۔ اس کا مفہوم ہے کہ واشنگٹن موجودہ ہتھیاروں کے ساتھ انہیں دوبارہ بنانے کی صلاحیت پر بھی دباؤ ڈال رہا ہے۔ ذخیرہ ختم ہونے اور صنعتی صلاحیت ختم ہونے کے اثرات یکساں نہیں ہوتے۔

اس مہم کی تکنیکی بنیاد کمانڈ اینڈ کنٹرول، یعنی احکامات اور رابطوں کے نظام، کی اہمیت ہے۔ محض میزائل کی موجودگی مؤثر کارروائی کی ضمانت نہیں۔ اسے معلومات، شناخت، فیصلہ اور مربوط کارروائی درکار ہوتی ہے۔ فوجی قیادت، نگرانی اور عملی دستوں کے درمیان رابطہ متاثر ہو تو دستیاب ہتھیاروں کی افادیت بھی کم ہو سکتی ہے۔ امریکی کارروائیوں میں ان مراکز کو نشانہ بنانے کا اعلان اسی منطق کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ البتہ رابطوں میں خلل کو ایرانی قوت کی مکمل معطلی سمجھنا غلط ہوگا۔

یہیں سائبر اور الیکٹرانک جنگ اہم ہو جاتی ہے۔ الیکٹرانک جنگ میں ریڈار، مواصلات اور رہنمائی کے لیے استعمال ہونے والی برقی مقناطیسی لہروں پر اثر ڈالا جاتا ہے۔ سائبر کارروائی کمپیوٹر نیٹ ورکس، سافٹ ویئر اور ڈیٹا کو متاثر کرتی ہے۔ دونوں ایک دوسرے کی معاون ہو سکتی ہیں۔ جنرل ڈین کین نے مارچ کی بریفنگ میں ایرانی مواصلاتی صلاحیت متاثر کرنے کے لیے امریکی سائبر اور خلائی کمانڈ کی کارروائی کا ذکر کیا تھا۔ تاہم اس اعلان سے ہر ایرانی مواصلاتی خرابی کی وجہ اخذ نہیں کی جا سکتی۔

مصنوعی ذہانت اسی معلوماتی برتری کو رفتار دیتی ہے۔ اپریل کی بریفنگ میں سینٹ کام کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے بڑی مقدار میں معلومات چھانٹنے اور فیصلوں میں مدد کے لیے اس کے استعمال کی تصدیق کی، ساتھ انسانی نگرانی کا دعویٰ بھی کیا۔ اس کا مطلب مختلف ذرائع کے ڈیٹا کو قابل استعمال صورت دینا ہے۔ لیکن تیز تجزیہ درست تجزیے کی ضمانت نہیں۔ نامکمل معلومات یا غلط شناخت جب تیزی سے فیصلے میں بدلیں تو شہری نقصان اور غیر ارادی توسیع کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ڈرونز اس تبدیلی کا نمایاں پہلو ہیں۔ اگست میں سینٹ کام نے ٹاسک فورس فالکن سٹرائیک کے قیام کی کوششوں کا اعلان کیا، جس میں فضائی، سطح سمندر اور زیر آب بغیر عملے کے نظام شامل کرنے کا منصوبہ ہے۔ سکارپین سٹرائیک نے یک طرفہ حملہ آور ڈرون استعمال کیے تھے۔ اس رجحان سے لگتا ہے کہ امریکہ مہنگے طیاروں کے ساتھ نسبتاً کم لاگت اور قابل صرف نظاموں کی تعداد بڑھانا چاہتا ہے۔ یوں جنگی طاقت میں معیار کے ساتھ پیداواری وسعت بھی اہم ہو جاتی ہے۔

تاہم حملہ آور قوت بڑھانے کے ساتھ دفاع کی ضرورت بھی بڑھتی ہے۔ تھاڈ بیلسٹک میزائلوں کو ان کے آخری مرحلے میں بلندی پر روکنے کے لیے بنایا گیا ہے جبکہ پیٹریاٹ دفاع کی دوسری تہہ فراہم کرتا ہے۔ سینسر اور دفاعی نظام ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں مگر ہر نظام ہر خطرے کے خلاف یکساں مؤثر نہیں ہوتا۔ بیلسٹک، کروز میزائل اور چھوٹے ڈرون کی رفتار اور پرواز میں فرق ہے۔ اس لیے دفاعی چھتری کو ناقابل تسخیر ڈھال سمجھنا تکنیکی حقیقت سے دور ہے۔

اس دفاع کی معاشی قیمت بھی حکمت عملی متعین کرتی ہے۔ مسلسل حملوں میں دفاعی میزائلوں کا ذخیرہ، مرمت اور نئی پیداوار فیصلہ کن بن جاتے ہیں۔ جولائی میں پینٹاگون نے پیٹریاٹ اور تھاڈ کے اہم پرزوں کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے طویل مدتی معاہدوں کا اعلان کیا۔ یہ ضرورت ظاہر کرتی ہے کہ میدان میں موجود نظام کافی نہیں؛ ان کے پیچھے کارخانے اور رسد بھی درکار ہیں۔ جنگ طول پکڑے تو صنعتی رفتار خود ایک تزویراتی حد بن جاتی ہے۔

سمندری ناکہ بندی اسی دباؤ کو معاشی سطح تک لے جاتی ہے۔ سینٹ کام کے مطابق ایرانی بندرگاہوں میں آنے جانے والے جہازوں کی ناکہ بندی 14 جولائی کو دوبارہ شروع کی گئی۔

امریکی بیان اسے ایرانی بندرگاہوں اور ساحل کی ناکہ بندی قرار دیتا ہے، پوری آبنائے ہرمز کی بندش نہیں۔ یہ فرق اہم ہے: ایران کی تجارتی آمدن محدود کرتے ہوئے دوسرے ممالک کی جہاز رانی جاری رکھنا۔ لیکن عملی سلامتی، بیمے اور ترسیل کی قیمت اس تفریق سے خود بخود محفوظ نہیں ہو جاتی۔

ایران کی جوابی منطق یہ ہی قیمت بڑھانا ہے۔ اسے امریکی بحریہ کے برابر بیڑا بنانے کی ضرورت نہیں، اگر محدود کارروائی سے تجارت اور سرمایہ کاری کا اعتماد متاثر ہو سکے۔ 23 اکتوبر کو روئٹرز نے ایرانی حکام کے حوالے سے نئی جنگ کی صورت میں خلیج کی زیر سمندر مواصلاتی کیبلز کو نشانہ بنانے کی دھمکی رپورٹ کی۔ یہ حملے کی تصدیق نہیں لیکن خطرے کا دائرہ واضح کرتی ہے۔ توانائی کے ساتھ ڈیجیٹل رابطے بھی علاقائی دباؤ کے ممکنہ میدان بن رہے ہیں۔

جوہری محاذ پر تکنیکی کامیابی ناپنا مزید مشکل ہے۔ کسی عمارت کی تباہی، زیر زمین مواد کی حالت اور پورے پروگرام کی بحالی کی صلاحیت الگ سوال ہیں۔ ستمبر میں جوہری توانائی ایجنسی کے بورڈ میں جاپانی نمائندے نے حساس ایرانی جوہری مواد کی ایک سال سے زیادہ عرصے سے تصدیق نہ ہونے پر تشویش ظاہر کی۔ اس صورت میں مکمل خاتمے کے سیاسی دعوے احتیاط مانگتے ہیں۔ تصدیق کے لیے معائنہ، مواد کا حساب اور مسلسل نگرانی ضروری رہتے ہیں۔

یہاں امریکی حکمت عملی کا بنیادی تضاد نمایاں ہوتا ہے۔ فوجی صلاحیت گھٹانے سے مذاکرات کی میز پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، مگر مخالف قیادت اپنی بقا خطرے میں دیکھ کر مزید سخت مؤقف بھی اختیار کر سکتی ہے۔ توانائی اور شہری معیشت پر دباؤ کی انسانی قیمت اس مسئلے کو بڑھاتی ہے۔ اگر مطلوبہ رعایت، دباؤ کی حد اور پابندیوں میں نرمی کا راستہ واضح نہ ہو تو ہر ناکام مرحلے کے بعد زیادہ قوت استعمال کرنے کی ترغیب پیدا ہوگی۔ یوں محدود مقاصد والی مہم بھی طویل جنگ بن سکتی ہے۔

پاکستان کے لیے اس تبدیلی کا مطلب دور کی عسکری بحث سے زیادہ ہے۔ خلیجی توانائی، سمندری تجارت اور پاکستانی شہری علاقائی استحکام سے جڑے ہیں۔ اسلام آباد کی سفارتی کوششوں کو قابل تصدیق جوہری نگرانی، محفوظ جہاز رانی اور کشیدگی کم کرنے کے عملی انتظامات کی حمایت کرنی چاہیے۔ امریکہ نے ایران پر دباؤ ڈالنے کے طریقے زیادہ مربوط بنا لیے ہیں، لیکن کامیابی کا اصل پیمانہ تباہ شدہ اہداف کی تعداد نہیں ہوگا۔ امتحان یہ ہے کہ ان کارروائیوں سے ایسا سیاسی بندوبست نکلتا ہے یا نہیں جس میں اگلی جنگ کی ضرورت کم ہو۔

مصنف ایریا سٹڈی سینٹر برائے افریقہ، نارتھ و ساؤتھ امریکہ کے ڈائریکٹر ہیں۔ یہ تحریر ان کی رائے پر مبنی  ہے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *