سمندری طوفان: دو انڈین ریاستوں سے ہزاروں افراد کے انخلا کی تیاریاں

انڈیا کے مشرقی ساحل پر واقع دو ریاستوں نے سمندری طوفان ارنب کے پیش نظر ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ طوفان کے بدھ کو ساحل سے ٹکرانے کا امکان ہے۔

ایک ریاست نے بعض اضلاع میں سکول دو روز تک بند رکھنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

انڈیا کے محکمہ موسمیات کے مطابق خلیج بنگال میں بننے والا طوفان ارنب شدت اختیار کرکے سمندری طوفان میں تبدیل ہو گیا ہے اور بدھ کی صبح آندھرا پردیش کے ساحل سے ٹکرا سکتا ہے۔ اس دوران طوفانی ہوا کی رفتار 140 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچنے کا امکان ہے۔

محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ طوفان مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔

اس موسمی نظام کے باعث آندھرا پردیش کے شمالی اور وسطی ساحلی اضلاع اور ہمسایہ ریاست اوڈیشہ کے جنوبی علاقوں میں شدید سے انتہائی شدید بارش کا امکان ہے۔

آندھرا پردیش کی حکومت نے سمندر میں موجود کشتیوں کو ساحل پر واپس آنے کی ہدایت کی ہے اور بجلی کی فراہمی متاثر ہونے کی صورت میں اسے فوری طور پر بحال کرنے کا حکم دیا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

آندھرا پردیش میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے پیر کو خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ریاستی حکومت نے پانچ لاکھ 70 ہزار افراد کو خطرے سے دوچار قرار دیا ہے اور انہیں محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا عمل پیر کی شام شروع کر دیا جائے گا۔

اوڈیشہ کی حکومت نے منگل اور بدھ کو پانچ اضلاع میں سکول اور کالج بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ حکومت نے یہ بھی کہا ہے کہ نشیبی علاقوں کے رہائشیوں کو طوفان سے محفوظ پناہ گاہوں میں منتقل کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔

خلیج بنگال دنیا کے ان بڑے خطوں میں شامل ہے جہاں گرم سمندری طوفان آتے رہتے ہیں۔

 


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *