مکہ معاہدے میں شامل ممالک کے اعلیٰ حکام آج تہران میں ایرانی حکام سے ملاقات کریں گے: رپورٹ

معاملے سے باخبر دو افراد نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ علاقائی ہم آہنگی پر بات چیت کے لیے مکہ معاہدے میں شامل ممالک سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے اعلیٰ حکام پیر کو تہران میں ایرانی حکام سے ملاقات کریں گے۔

ان افراد نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سعودی عرب کی نمائندگی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان جب کہ پاکستان کی نمائندگی فیلڈ مارشل عاصم منیر کریں گے۔

ان میں سے ایک ذریعے نے بتایا کہ ترکی کے انٹیلی جنس چیف بھی اجلاس میں شرکت کریں گے۔

سعودی حکومت کے میڈیا آفس اور پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے تبصرے کے لیے درخواستوں کا کوئی جواب نہیں دیا۔

یمن کے ایران نواز حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر بڑھتے ہوئے حملوں کے بعد سے، یہ طے شدہ مذاکرات ایران اور تین ملکی بلاک کے تمام ارکان کے درمیان پہلا سطح کا پہلا رابطہ ہوں گے۔

سعودی عرب نے اتوار کو میزائلوں اور ڈرونز کی ایک اور لہر کو ناکام بنا دیا۔ اس کی یمنی حوثی ملیشیا کے ساتھ بلا تعطل لڑائی جاری ہے۔

مکہ معاہدے کے رکن ممالک کے وزرا نے قبل ازیں رواں ماہ کے ریاض میں ایک ہنگامی اجلاس کیا اور سعودی عرب میں فوجی دستوں اور عسکری صلاحیتوں کی ’فوری تعیناتی‘ یقینی بنانے پر اتفاق کیا تھا۔

یہ تنازع ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کے حملے میں تیزی سے عدم استحکام پیدا کرنے والا ایک عنصر بن گیا ہے، جس نے اس وسیع تر جنگ میں امریکی اتحادی سعودی عرب کو دباؤ کے مرکز میں بدل دیا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ترکی، پاکستان اور سعودی عرب نے اگست میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت ایک رکن پر مسلح حملے کو سب پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔

روئٹرز کی جانب سے دیکھے گئے متن کے مطابق، اس معاہدے کے پہلے آرٹیکل میں کہا گیا ہے کہ فریقین ایک دوسرے کی علاقائی سالمیت، خودمختاری یا بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ سرحدوں کو لاحق خطرات ختم کرنے کے لیے ’تمام ضروری ذرائع‘ استعمال کریں گے۔

ترکی کی پارلیمنٹ کی جانب سے اس معاہدے کی توثیق کی کوششیں گذشتہ ہفتے شروع ہوئیں اور تاحال جاری ہیں، جب کہ پاکستان نے گذشتہ ہفتے اس معاہدے کی منظوری دے دی تھی۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *