نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے کراچی میں ایک کارروائی کے دوران پاکستان فوج کے افسران کا روپ دھار کر شہریوں سے فراڈ کرنے کے الزام میں دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
این سی سی آئی اے کراچی زون کی جانب سے اتوار کو جاری ایک بیان کے مطابق گرفتار ملزمان کی شناخت مزمل اور حمزہ کے نام سے ہوئی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ملزمان خود کو اعلیٰ فوجی اور سرکاری افسران ظاہر کرتے تھے اور فوج و سرکاری محکموں میں اثر و رسوخ اور روابط کا جھوٹا دعویٰ کرتے تھے۔
’ملزمان مبینہ طور پر شہریوں سے تبادلوں، تعیناتیوں اور دیگر سرکاری امور میں کام کروانے کے بہانے بھاری رقوم وصول کرتے تھے، جبکہ وہ خود کو مجاز فوجی افسران ظاہر کرکے شہریوں کو جھوٹی یقین دہانیاں دلاتے تھے۔‘
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے مطابق ملزمان کے خلاف پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2025 میں ترمیم شدہ قانون کی دفعات 13، 14 اور 16 اور تعزیراتِ پاکستانکی دفعہ 109 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
پاکستان میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے حالیہ دنوں کے دوران آن لائن فراڈ اور سائبر کرائم کے خلاف اپنی کارروائیاں تیز کی ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہی کارروائی کے دوران جمعے کو این سی سی آئی اے نے بتایا تھا کہ اس نے ایک بین الاقوامی انٹیلی جنس ادارے کی اطلاع پر کارروائی کی اور 13 سالہ بچی کو ممکنہ خطرے سے محفوظ بنایا۔
این سی سی آئی اے حکام کے مطابق نامعلوم افراد بچی کو آن لائن مختلف خطرناک سرگرمیوں میں حصہ لینے کی ہدایات دے رہے تھے۔
کراچی میں ایک 13 سالہ بچی گذشتہ چھ ماہ سے ایسی آن لائن سرگرمیوں میں مصروف تھی جن کے بارے میں اس کے والدین بھی پریشان تھے، لیکن انہیں معلوم نہیں تھا کہ ان کی بیٹی مبینہ طور پر ڈارک ویب سے منسلک ایک خطرناک نیٹ ورک کے اثر میں آ چکی ہے۔
