یورپ بھر میں مہنگائی کے خلاف احتجاج، فرانس میں چار لاکھ افراد کا مارچ

ہفتے مہگائی کے خلاف فرانس سمیت یورپ کے مختلف ملکوں میں احتجاج کیا گیا۔ فرانس بھر میں لاکھوں مظاہرین نے مارچ کیا۔ سپین میں ہونے والے احتجاج کے دوران لوٹ کی گئی۔ پولیس نے 100 افراد کو گرفتار کر لیا۔

اگرچہ گذشتہ ہفتے کی ہنگامہ آرائی کو دہرائے جانے سے روکنے کے لیے فرانس میں بڑا سکیورٹی آپریشن کیا گیا لیکن رات گئے پیرس اور مارسیائی میں زیادہ تر پرامن ریلیاں جھڑپوں میں تبدیل ہو گئیں۔

روئٹرز کے مطابق فرانسیسی وزارت داخلہ نے کہا کہ ملک بھر میں ہونے والے مظاہروں میں چار لاکھ 10 ہزار افراد نے حصہ لیا، تاہم یونینز کا کہنا تھا کہ اصل تعداد اس سے دوگنی ہے۔

مرکزی مظاہرہ پیرس کے جنوب مشرقی مضافات میں ہوا جہاں مہنگائی اور بڑھتی ہوئی عدم مساوات کی مذمت کے لیے کم از کم ایک لاکھ 10 ہزار افراد جمع ہوئے۔

ریلی ختم ہونے کے بعد صورت حال تیزی سے خراب ہو گئی۔ پولیس نے تقریباً 500 نقاب پوش نوجوانوں کے گروپ پر آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا جس کے بعد سرد اور بارش والی شام کو وہ بالآخر منتشر ہو گئے۔

فرانس کے دوسرے بڑے شہر مارسیائی میں نوجوانوں نے سڑکیں بلاک کرنے کے لیے کوڑے دانوں کو آگ لگا دی اور سکیورٹی فورسز پر پتھراؤ کیا اور بوتلیں پھینکیں۔ پولیس نے بتایا کہ زیورات کی دو دکانوں سمیت کئی سٹورز کو لوٹ لیا گیا۔

لیو، بوردو، گرینوبل، کلرمونت فیراند، لیل، رین، نانت اور تولوز میں بھی جھڑپیں ہوئیں۔

وزیر داخلہ لارینت نونیز نے انتہائی بائیں بازو کے کارکنوں اور جرائم پیشہ گروہوں پر گڑبڑ پھیلانے کی کوشش کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ’تقریباً ہر مارچ میں ہم نے ان انتہائی خطرناک گروہوں کو بنتے دیکھا۔ وہ مرکزی ہجوم سے الگ ہو گئے اور انہوں نے پرتشدد کارروائیاں کرنے کی کوشش کی۔‘

پیرس میں لاک ڈاؤن

 حکام نے 17 اکتوبر کو ہونے والی ہنگامہ آرائی کے دائرہ کار کا کم اندازہ لگانے کا اعتراف کرنے کے بعد 70 ہزار پولیس اہلکاروں اور نیم فوجی اہلکاروں کو تعینات کیا، جو ایک ہفتہ قبل کے مقابلے میں 10 ہزار زیادہ تھے۔

وزیر داخلہ لارینت نونیز نے صحافیوں کو بتایا کہ ایک ہفتہ قبل کے مقابلے میں جب لٹیروں اور شرپسندوں نے ہنگامہ آرائی کی تھی، تشدد کی شدت کم تھی۔ انہوں نے کہا کہ ’جو چیز تبدیل ہوئی وہ پیشگی تیاری تھی۔‘

انہوں نے یہ بھی کہا کہ انتہائی دائیں بازو کے کارکنوں نے جنوبی شہروں نیس اور مونت پیلیئر میں بائیں بازو کے گروہوں کے ساتھ محاذ آرائی کی کوشش کی تھی، جس سے ان ہنگاموں میں ایک نیا محاذ کھلنے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔

وسطی پیرس کا بیشتر حصہ لاک ڈاؤن کے شکار شہر کا منظر پیش کر رہا تھا، جہاں دکان داروں نے اپنی دکانوں کے بیرونی حصوں پر تختے لگا دیے تھے۔ عجائب گھروں نے اپنے دروازے بند کر دیے تھے اور 20 سے زیادہ میٹرو سٹیشنز بند ہو گئے۔

کاروباری گروپس نے خوردہ فروشوں پر زور دیا کہ وہ اپنی دکانیں بند رکھیں کیوں کہ گذشتہ ہفتے کے اختتام پر پورے فرانس میں ہزاروں دکانوں اور کاروباری مراکز کو نقصان پہنچایا گیا یا لوٹا گیا۔

پیرس میں کیتوں بوتیک کے مینیجر آسکر کا کہنا تھا کہ ’یہاں بمشکل ہی کوئی گاہک ہے، اس لیے دکان کھلی رکھنے کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہے۔‘

دارالحکومت کے کئی مشہور ثقافتی ادارے جن میں لوور، میوزے دے اورسے اور پیرس اوپرا شامل ہیں، احتیاطی تدبیر کے طور پر دن بھر کے لیے بند رہے جس سے سیاحوں کو مایوسی ہوئی۔

امریکی شہر نیو اورلینز کے ایک سیاح زیویئر دولیول نے کہا کہ ’ہر چیز پر تختے لگے ہوئے ہیں اور ہمیں قطعی طور پر یقین نہیں ہے کہ ہمیں کہاں ہونا چاہیے۔‘

مظاہروں کی لہر پورے یورپ میں پھیل چکی ہے۔ ملک گیر ہنگامہ آرائی کا آغاز گذشتہ ماہ پیرس کے مضافات میں سکولوں کی حالت زار کی مذمت کے لیے طلبہ کے چھوٹے مظاہروں سے ہوا تھا۔

 یہ تیزی سے حکومت کی معاشی پالیسیوں کے خلاف ایک وسیع تر احتجاج میں تبدیل ہو گیا اور اس سے پڑوسی ممالک میں بھی مظاہروں کی ترغیب ملی۔

ہفتے کو برسلز میں حکومت مخالف مظاہرین کے ساتھ جھڑپوں کے دوران بیلجیئم کی پولیس نے آنسو گیس اور مرچوں والے سپرے کا استعمال کیا، جب کہ اٹلی کے کئی شہروں میں مسلسل دوسرے ہفتے کے اختتام پر اور البانیہ میں بھی مظاہرے ہوئے۔

پیرس ریلی میں شامل ہونے والے انتہائی بائیں بازو کے رہنما ژاں لک میلانشوں نے پیش گوئی کی کہ مظاہرے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک کہ صدر ایمانوئل میکروں، جن کی مدت صدارت اگلے سال ختم ہو رہی ہے، دنیا کے امیر ترین ممالک میں سے ایک فرانس میں سماجی بے چینی کو دور نہیں کرتے۔

میلانشوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ’موجودہ صورت حال کے پیش نظر مجھے لگتا ہے کہ وہ یہ بات سمجھ جائیں گے کہ ایسا ہر ہفتے دوبارہ ہوگا۔ (میکروں) کے پاس ہار ماننے کے لیے ابھی بھی وقت ہے۔ اس کے بعد، ان کے پاس صرف باہر نکلنے کا راستہ ہی بچے گا۔‘

انتہائی دائیں بازو کی پارٹی کی کانگریس کا انعقاد بہت سے مظاہرین نے حکومت پر گذشتہ ہفتے کی ہنگامہ آرائی پر حد سے زیادہ ردعمل ظاہر کرنے کا الزام لگایا، کیوں کہ شانزے لیزے پر گشت کرنے کے لیے فوجیوں کو بھیجا گیا تھا، جو لگژری دکانوں اور ریستورانوں سے بھری ایک شاندار شاہراہ ہے۔

آرٹس کی 22 سالہ طالبہ کلارا لبادی نے کہا کہ ’ہم دکانوں کے لیے آنسو بہاتے ہیں، ان لوگوں کے لیے نہیں جنہیں سارا سال غریب کیا جاتا رہا ہے۔

’میں اور میری دوست خوفزدہ ہونے کی وجہ سے تقریباً نہیں آئے تھے، لیکن ہم خاص طور پر اس لیے آئے کیوں کہ ظلم کو جیتنے نہ دینا اہم ہے۔‘

ہفتہ کو پہلا مجاز مارچ پیرس کے جنوب میں تقریباً 120 کلومیٹر (75 میل) دور اورلینز میں پرامن طریقے سے ہوا جہاں مظاہرین نے مارین لے پین کی انتہائی دائیں بازو کی نیشنل ریلی کے خلاف احتجاج کیا، جو شہر میں پارٹی کانگریس منعقد کر رہی ہے۔

جمعے کو پیرس کے مغرب میں ہونے والی فائرنگ نے کشیدگی کو بڑھا دیا۔ اسلامو فوبیا پر مبنی نفرت کے تحت کارروائی کرنے والے ایک مشتبہ مسلح شخص نے ایک فرد کو ہلاک اور 12 سالہ بچی سمیت چار دیگر کو زخمی کر دیا۔

سیں دینی کے میئر اور میلانشوں کی فرانس انبود پارٹی کے رکن بالی باگایوکو نے کہا کہ ’م انتہائی دائیں بازو کو آمنے سامنے یہ بتانے آئے ہیں کہ ہم خوفزدہ نہیں ہیں۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ہفتہ کی شام سپین کے شہر بارسلونا میں مجموعی طور پر 100 افراد کو اس وقت گرفتار کر لیا گیا جب حکومت مخالف ریلی میں شریک نقاب پوش مظاہرین نے دکانیں لوٹیں اور شہر کے وسطی پلازا دی کاتالونیا کے ارد گرد سڑکوں پر موجود املاک کو آگ لگا دی۔

ہسپانوی علاقے کاتالونیا کی وزیر داخلہ نوریا پارلون نے بتایا کہ گرفتار ہونے والوں میں سے تقریباً 25 فیصد نابالغ تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہر کے اس حصے میں جو سیاحوں اور ہفتہ وار تعطیل پر خریداری کرنے والوں میں مقبول ہے، 30 سے زیادہ مقامات پر آگ لگائی گئی اور 14 سٹورز کی توڑ پھوڑ کی گئی یا انہیں لوٹا گیا۔

سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے مظاہرین کو ’نظام کے خلاف‘ تحریک کے لیے بلایا گیا تھا۔ ان پوسٹس میں طلبہ کے حق میں نعرے بھی درج کیے گئے۔

سوشل میڈیا پر موجود ویڈیوز میں لوگوں کو ڈیپارٹمنٹل سٹور ایل کورٹے انگلیس سمیت دیگر دکانوں کے اندر پھنسے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جہاں لوٹ مار سے بچنے کے لیے شٹر گرا دیے گئے تھے۔ دیگر پوسٹس میں کالے کپڑے پہنے نقاب پوش مظاہرین کو دکانوں کے شیشوں پر لاتیں مارتے اور سامان لے کر بھاگتے ہوئے دکھایا گیا، جن کی بعض صورتوں میں آن لائن ناظرین نے حوصلہ افزائی بھی کی۔

بارسلونا کے میئر جاومے کولبونی نے کہا کہ شہر میں توڑ پھوڑ کے ان واقعات کو ’بغیر سزا کے نہیں چھوڑا جائے گا۔‘

اے ایف پی کے مطابق ہفتہ کو اٹلی میں مظاہروں کے لیے سکیورٹی فورسز بھاری تعداد میں تعینات کی گئیں، جن میں گذشتہ ہفتے کے اختتام پر ہونے والی پرتشدد جھڑپوں کے بعد وسیع کریک ڈاؤن کے باوجود ہزاروں افراد نے ریلیاں نکالیں۔

پولیس نے کہا کہ انہوں نے نو افراد کو گرفتار کیا اور مزید 371 کو کچھ دیر کے لیے حراست میں لیا، جن میں 110 نابالغ بھی شامل تھے، جنہیں کچھ مظاہروں میں جھڑپیں شروع ہونے پر آٹھ شہروں کے پولیس سٹیشنوں میں لے جایا گیا۔

وزیر اعظم جارجیا میلونی کی انتہائی دائیں بازو کی حکومت نے اس ہفتے سخت سکیورٹی اقدامات کی منظوری دی اور پولیس نے ریلیوں سے قبل درجنوں مقامات کی تلاشی لی اور گرفتاریاں کیں۔

کئی ہزار افراد نے میلان میں مارچ کیا جس سے شہر کے وسط میں ٹریفک معطل ہو کر رہ گئی۔

اتنی ہی تعداد میں لوگوں نے روم میں بھی ریلی نکالی، جہاں کچھ مظاہرین کچھ دیر کے لیے کولوزیم میں گھس گئے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *