پاکستان کی وزارت اطلاعات نے ہفتے کو امریکہ کے سابق سفیر زلمے خلیل زاد کے اس الزام کو مسترد کر دیا کہ اسلام آباد افغانستان میں طالبان کے خلاف لڑنے کے لیے افغان شہریوں کو مسلح کر رہا ہے۔
وزارت نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان عالمی سطح پر ’دہشت گردی‘ کے خلاف جنگ میں پیش پیش ہے۔
افغانستان کے لیے امریکہ کے سابق خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد نے جمعے کو کہا تھا کہ ایسی اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ پاکستان افغانستان میں طالبان کے خلاف لڑنے کے لیے افغان شہریوں کو اسلحہ فراہم کر رہا ہے۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
انہوں نے ان اطلاعات کا بھی ذکر کیا کہ پاکستان فوج ملک مخالف عسکریت پسندوں کے خلاف لڑنے کے لیے افغان شہریوں کو بھرتی کر رہی ہے۔
ان کے یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب پاکستان کی سرزمین پر عسکریت پسندوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کے باعث پاکستان اور افغانستان کے درمیان سفارتی تعلقات کشیدہ ہیں۔
پاکستان کابل پر الزام عائد کرتا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر حملہ آوروں کو پناہ دیتا اور پاکستان میں قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو نشانہ بنانے والے حملوں میں سہولت کاری کرتا ہے۔
کابل ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔ ان الزامات کے نتیجے میں رواں سال پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد پر شدید جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔
پاکستان کی وزارتِ اطلاعات نے کہا ’پاکستان طالبان اور ان کے حامی دہشت گرد گروہوں کے خلاف لڑنے کے لیے سابق افغان شہریوں کو مسلح کرنے سے متعلق زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد اور گمراہ کن الزامات کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتا ہے۔‘
وزارت نے مزید کہا ’ان کے وسیع اور بے بنیاد دعوے محض قیاس آرائیوں پر مبنی بیانیے کو دہراتے ہیں، جن کا مقصد ان کے ذاتی ایجنڈے کے تحت دہشت گردی کی حمایت کرنے والی طالبان حکومت کو سہارا دینا ہے۔‘
وزارت کے مطابق پاکستان کی جانب سے افغانستان میں موجود عسکریت پسندوں کے خلاف انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں کو افغان شہریوں کی بھرتی یا ملک کے اندر مسلح گروہوں کی سرپرستی کے الزامات کے ساتھ جوڑنا گمراہ کن ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وزارت نے کہا کہ اقوام متحدہ کی نگرانی سے متعلق متعدد رپورٹس میں افغانستان کے اندر کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور القاعدہ جیسی ’دہشت گرد تنظیموں‘ کی موجودگی کی نشاندہی کی گئی ہے۔
وزارت اطلاعات نے کہا ’خلیل زاد کے الزامات افغان طالبان حکومت کی اس ذمہ داری سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہیں کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے انڈیا کی سرپرستی میں کام کرنے والے پراکسی گروہوں کے استعمال سے روکے۔‘
پاکستان انڈیا اور افغانستان پر الزام عائد کرتا ہے کہ وہ ٹی ٹی پی اور بلوچستان میں علیحدگی پسند عسکریت پسندوں کی مدد کرتے ہیں۔
نئی دہلی اور کابل دونوں ان الزامات کی تردید کرتے ہیں اور پاکستان پر زور دیتے ہیں کہ وہ اپنے سکیورٹی مسائل اندرونی طور پر حل کرے۔
