ترکی میں جمعے کو سات ممالک کے وزرائے خارجہ کا اہم اجلاس منعقد ہونے جا رہا ہے، جس میں پاکستان بھی شریک ہو گا۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اجلاس میں مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتِ حال، فلسطین، یمن، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی اور روس یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں پر غور کیا جائے گا۔
پاکستانی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار ترکی کے وزیر خارجہ حاقان فیدان کی دعوت پر اجلاس میں شرکت کریں گے۔
دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار پہلے پاکستان، ترکی، سعودی عرب اور مصر پر مشتمل آر فور (R4) ممالک کے وزرائے خارجہ اجلاس میں شرکت کریں گے، جس کے بعد برطانیہ، فرانس اور جرمنی پر مشتمل ای تھری (E3) گروپ کے ساتھ مشترکہ اجلاس ہوگا۔
Deputy Prime Minister/Foreign Minister Senator Mohammad Ishaq Dar @MIshaqDar50 departs Islamabad for Istanbul, Türkiye, to participate in the R4 (Pakistan, Saudi Arabia, Türkiye and Egypt) Ministerial Meeting and the R4+E3 (UK, Germany and France) meeting. The meetings will provide an opportunity for participating Ministers to exchange views on key regional and international developments.
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) October 23, 2026
یہ ساتوں ممالک کی اس فارمیٹ میں پہلی ملاقات ہو گی، جس کا مقصد علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ سفارتی حکمتِ عملی اور تعاون کے امکانات کا جائزہ لینا ہے۔
روئٹرز نے ذرائع کے حوالے سے کہا کہ ساتوں ممالک پہلی مرتبہ اس فارمیٹ میں اجلاس منعقد کر رہے ہیں۔ ایران، یمن اور یوکرین سے متعلق جنگوں کے باعث بحری تجارتی راستوں اور علاقائی سلامتی کو درپیش خطرات کے تناظر میں یہ ملاقات اہمیت رکھتی ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اجلاس میں اسرائیل فلسطین تنازع، آبنائے ہرمز کی تازہ صورتِ حال، یمن میں ہونے والی پیش رفت، روس یوکرین جنگ کے خاتمے کی کوششوں اور علاقائی و یورپی ممالک کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دینے کے امکانات پر غور کیا جائے گا۔
ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے سفارتی حل کی ضرورت پر زور دیں گے۔ وہ آبنائے ہرمز اور آبنائے باب المندب میں جہاز رانی کی آزادی برقرار رکھنے کی اہمیت بھی اجاگر کریں گے۔
روئٹرز کے مطابق ترک سفارتی ذرائع کے مطابق حاقان فیدان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کے حملوں کے مقابلے میں سعودی عرب کی سلامتی کے لیے ترکی کی حمایت کا اعادہ بھی کریں گے۔ یہ معاہدہ ترکی، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پایا تھا۔
ترک وزیر خارجہ اجلاس میں شریک وزرائے خارجہ کو یہ بھی بتائیں گے کہ ترکی روس یوکرین جنگ کو بحیرۂ اسود تک پھیلنے سے روکنے کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔ وہ اس تنازعے کے باعث خطے کی سلامتی کو لاحق خطرات کی جانب بھی توجہ دلائیں گے۔
اجلاس میں پاکستان کی شرکت علاقائی امن و استحکام، کثیر ملکی سفارت کاری اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے اسلام آباد کی کوششوں کی عکاس ہے۔ دورے کے دوران اسحاق ڈار اپنے ہم منصبوں سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔
