برطانیہ کے شہر ڈرسلے کے ایک سکول میں دو ٹیچرز کو طلبہ کے درمیان لڑائی کی حوصلہ افزائی کرنے پر تدریس سے روک دیا گیا۔
ٹیچنگ ریگولیشن ایجنسی (ٹی آر اے) کے ایک پینل کو بتایا گیا کہ47 سالہ رچرڈ لیوس اور 56 سالہ ایڈرین فرگوسن اکتوبر 2019 میں پیک اکیڈمی میں پیش آنے والے ایک کشیدہ واقعے کے دوران طلبہ کو ایک دوسرے پر مکے برساتے دیکھ کر ’مسکرا اور ہنس رہے تھے۔‘
اس وقت کی پولیس تفتیش کے مطابق 23 سیکنڈ تک جاری رہنے والی لڑائی کے دوران ایک طالب علم نے دوسرے کے سر پر 9 یا10 مرتبہ مکے مارے، اس سے پہلے کہ کوئی مداخلت کرتا۔ پینل نے قرار دیا کہ یہ محض ’خوش قسمتی‘ تھی کہ کسی کو چوٹ نہیں آئی۔
پینل کو بتایا گیا کہ دونوں طلبہ کے درمیان تلخی بڑھنے کے بعد انہیں الگ کر دیا گیا تھا۔ ’طالب علم اے‘ کو ایک خصوصی طور پر تیار کیے گئے سینسری کمرے میں بھیجا گیا، جسے ’بیس کیمپ‘ کہا جاتا تھا، جبکہ ’طالب علم بی‘ کو اپنے جذبات پر قابو پانے میں مدد کے لیے چہل قدمی کرنے کو کہا گیا۔
تاہم رپورٹ کے مطابق، بعد میں جب لیوس نے دیکھا کہ طالب علم بی کو پُرسکون ہونے میں دشواری ہو رہی ہے تو انہوں نے کہا: ’آؤ، اس معاملے کو نمٹا دیتے ہیں‘ اور اسے بیس کیمپ میں طالب علم اے کے پاس لے گئے۔
پینل نے سنا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں لیوس کو ’طالب علم بی کی کمر کے پیچھے ہاتھ رکھتے‘ اور اس سے کچھ کہتے ہوئے دیکھا گیا، جس کے فوراً بعد طالب علم بی نے طالب علم اے پر حملہ کر دیا۔ اگرچہ فوٹیج میں آواز ریکارڈ نہیں ہوئی تھی، تاہم پینل نے دستیاب شواہد کی روشنی میں نتیجہ اخذ کیا کہ لیوس نے کچھ ایسا کہا تھا جس کا مطلب تھا کہ ’لڑ کر معاملہ طے کر لو۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پینل کو بتایا گیا کہ دونوں طلبہ20 سیکنڈ سے زائد وقت تک ایک دوسرے پر مکے برساتے رہے، جبکہ فرگوسن اور لیوس دروازے کے باہر کھڑے رہے اور انہوں نے مداخلت نہیں کی۔
رپورٹ کے مطابق، لڑائی میں وقفے کے دوران فوٹیج میں فرگوسن کو طالب علم اے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے دیکھا گیا، جس کے فوراً بعد لڑائی دوبارہ شروع ہو گئی۔ پینل نے قرار دیا کہ اس طرز عمل کو معقول طور پر لڑائی جاری رکھنے کی حوصلہ افزائی کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔
ایک طالب علم نے دعویٰ کیا کہ لڑائی کے اختتام پر فرگوسن نے اس کے ساتھ ’مکا ملا کر مبارک باد دی۔‘ پینل نے نتیجہ اخذ کیا کہ طلبہ اس عمل کو لڑائی کی توثیق یا اسے ممکن بنانے کے طور پر سمجھ سکتے تھے۔
جب لیوس سے پوچھا گیا کہ انہوں نے مداخلت کرنے میں اتنی دیر کیوں کی تو انہوں نے سکول کی داخلی تحقیقات کو بتایا کہ وہ ’صورت حال کے مطابق خطرے کا جائزہ‘ لے رہے تھے اور لڑائی میں ’قدرتی وقفے‘ کا انتظار کر رہے تھے۔ بعدازاں انہوں نے تسلیم کیا کہ انہیں لڑائی میں پہلے مداخلت کرنی چاہیے تھی۔
ٹیچنگ ریگولیشن ایجنسی نے قرار دیا کہ لیوس کا طرز عمل ’ایک استاد سے متوقع رویے کے معیار سے نمایاں طور پر کم تر تھا‘ اور وہ ناقابل قبول پیشہ ورانہ طرز عمل کے مرتکب ہوئے۔
رپورٹ میں کہا گیا: ’پینل کا خیال تھا کہ عام شہری یہ جان کر حیران رہ جائیں گے کہ ایک تجربہ کار اور سینیئر استاد نے طلبہ کو لڑائی کرنے کی اجازت دی اور ان کی حوصلہ افزائی بھی کی۔‘
لیوس کو انگلینڈ کے کسی بھی سکول میں تدریس سے غیر معینہ مدت کے لیے روک دیا گیا۔ وہ کم از کم تین سال تک اس پابندی کو ختم کرنے کے لیے درخواست نہیں دے سکتے۔
فرگوسن کو بھی ناقابل قبول پیشہ ورانہ طرز عمل کا مرتکب قرار دیتے ہوئے غیر معینہ مدت کے لیے تدریس سے روک دیا گیا۔ وہ کم از کم دو سال تک اس پابندی کو ختم کرنے کے لیے درخواست نہیں دے سکتے۔
