امریکی محکمہ خزانہ نے بدھ کو آپریشن اکنامک آؤٹ کلاس کے تحت پاناما اور یونان میں قائم لا فرم کارناکس اینڈ کارناکس پر پابندی عائد کر دی ہے۔
امریکی وزارت خزانہ کی ویب سائٹ پر جاری بیان کے مطابق مذکورہ قانونی فرم ایران کی جہاز رانی کی غیر قانونی سرگرمیوں میں اس کی برسوں سے معاونت کر رہی ہے جس سے تہران کو بالواسطہ طور پر اپنے فوجی، ہتھیاروں اور ایٹمی پروگراموں کی فنڈنگ کے لیے مالی وسائل پیدا کرنے میں مدد ملی۔
وزارت خزانہ کے بیان کے مطابق آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ کے دوران، ادارے نے ایرانی حکومت کی باقی ماندہ معاشی لائف لائنز کاٹنے کے لیے یورپ اور دنیا بھر میں اپنے ہم منصبوں کے ساتھ رابطہ جاری رکھا ہوا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ ’چاہے آپ سمندر میں تیل کی غیر قانونی منتقلی کر رہے ہوں یا کسی لا فرم کے کارنر آفس میں بیٹھے ہوں، اگر آپ ایرانی حکومت کی حمایت کر رہے ہیں، تو ہم آپ کو ڈھونڈ نکالیں گے اور آپ پر پابندی عائد کریں گے۔
’ایران کے سہولت کاروں کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ یا تو آپ ہمارے ساتھ ہیں یا ہمارے خلاف۔ ہم جانتے ہیں کہ آپ کون ہیں، ہم جانتے ہیں کہ آپ کیا کر رہے ہیں، اور ہم کارروائی جاری رکھیں گے۔‘
محکمہ خزانہ نے سنگاپور اور متحدہ عرب امارات میں قائم ان شپنگ ایجنٹس پر بھی پابندیاں عائد کر دی ہیں، جو ایران کے خفیہ بحری بیڑے کی کارروائیوں میں براہ راست مدد کرتے ہیں۔
بدھ کی کارروائیوں میں نہ صرف ان قانونی اور سمندری سہولت کاروں کو نشانہ بنایا گیا ہے جو ایران کے پابندیوں سے بچنے کے نیٹ ورکس کو برقرار رکھتے ہیں، بلکہ مال بردار جہازوں کے اس بیڑے کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے جس نے ایرانی حکومت کے لیے خطیر آمدنی پیدا کرنے میں مدد کی۔
امریکی وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ بدھ کو عائد کی جانے والی یہ پابندیاں ایگزیکٹیو آرڈر نمبر 13902 کے تحت لگائی گئی ہیں، جس میں ایرانی معیشت کے دیگر اہم شعبوں کے ساتھ ساتھ ایران کے پیٹرولیم اور پیٹرو کیمیکل کے شعبوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
محکمہ خزانہ کے مطابق اس کا ادارہ فنانشل کرائمز انفورسمنٹ نیٹ ورک (فن سین) ایک یونانی بینک کے ایران اور اس کے آلہ کاروں کے ساتھ ممکنہ تعلقات کی تحقیقات کو آگے بڑھانے کے لیے، یونان سمیت یورپی شراکت داروں کے ساتھ قریبی ہم آہنگی سے کام کر رہا ہے اور موجودہ قانونی اختیارات کو استعمال میں لا رہا ہے، جیسے کہ بینک سیکریسی ایکٹ کے تحت اپنا پہلا انتظامی سمن جاری کرنا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
مزید برآں، فن سین نے آفس آف فارن ایسٹس کنٹرول (اوفیک) کی جانب سے نامزد کردہ ایرانی مالیاتی اداروں کے ساتھ بینکوں کے تعلقات کے حوالے سے معلومات کے لیے متعدد درخواستیں بھی کی ہیں۔
روئٹرز کے مطابق واشنگٹن نے اس ماہ اس جنگ میں ایران پر حملے کو روکے رکھا ہے، جس کا آغاز امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو کیا تھا اور اس کے بجائے اس نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رکھی ہے اور ایرانی جہاز رانی کے نیٹ ورکس اور ان کی مدد کرنے والوں پر پابندیوں کی لہریں جاری کی ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پگوٹ نے کہا کہ کارناکس اینڈ کارناکس برسوں سے ’ایران کا تیل، پیٹرو کیمیکلز اور سٹیل لے جانے والے جہازوں کے اصل مالکان کو چھپانے کے لیے فرضی کمپنیاں بناتی رہی ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ اس فرم نے ایسی کمپنیاں بنائیں جنہوں نے ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس اور حوثیوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے لاکھوں بیرل ایرانی تیل فروخت کرنے والے نیٹ ورکس کے فرنٹ کے طور پر کام کیا۔
کارناکس اینڈ کارناکس نے فوری طور پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا۔
