پاکستان ریلوے کے مطابق سی پیک کے تحت کراچی سے روہڑی سیکشن پر مین لائن ون منصوبہ اب ایشین ترقیاتی بینک کے تعاون سے مکمل کیا جائے گا۔
ریلوے ترجمان بابر علی رضا نے انڈپینڈنٹ گردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پہلے مرحلہ میں کراچی سے روہڑی سیکشن پر ریلوے کے مین لائن (ایم ایل ) ون منصوبے کا سنگ بنیاد جنوری میں رکھا جائے گا۔
پاکستان اور چین کے درمیان 2013 میں طے پانے والے راہداری معاہدے سی پیک کے تحت ریلوے کا ایم ایل ون منصوبہ بھی شامل تھا، جو کراچی سے پشاور تک 17 سو کلو میٹر بننا تھا۔
اس معاہدے کے تحت منصوبے پر 6.8 ارب ڈالر لاگت کا تخمینہ لگایا گیا تھا لیکن پہلے مسلم لیگ ن پھر تحریک انصاف کی حکومتوں نے اس حوالے سے چینی حکام سے مذاکرات کیے لیکن 13 سال گزرنے کے باوجود یہ منصوبہ شروع نہ ہوسکا۔
تاہم اب ترجمان ریلوے کے مطابق یہ منصوبہ ایشین ترقیاتی بنک (اے ڈی بی) کے اڑھائی ارب ڈالر سے مکمل کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس سے کراچی تا روہڑی سات گھنٹے کا سفر تین سے چار گھنٹے میں طے ہوسکے گا اور حادثات میں بھی کمی آئے گی۔
ترجمان ریلوے بابر علی رضا کا کہنا ہے کہ ’ایم ایل ون ریلوے کا گیم چینجر منصوبہ ہے جس کو شروع کیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے عالمی سطح کے پراجیکٹ کنسلٹنٹس مقرر کرنے کا اشتہار دے دیا گیا ہے، جبکہ دیگر ضروری سروے بھی مکمل کروا لیے گئے ہیں۔
’اے ڈی بی کراچی سے روہڑی تک اس منصوبے کی تکمیل کے لیے اڑھائی ارب ڈالر دے گا۔ لیکن 25 ارب روپے کے اخراجات وفاقی حکومت ابتدا میں خود خرچ کر رہی ہے کیونکہ جنوری میں اس کا سنگ بنیاد رکھنا ہے۔‘
منصوبے سے حادثات میں کتنی کمی ہوگی؟
بابر علی کے بقول ’گذشتہ چند ماہ کے دوران مسافر گاڑیوں کے پٹری سے اترنے کے 47 واقعات پیش آچکے ہیں، لیکن پھر بھی دیگر ذرائع کے مقابلے میں ریلوے کا سفر اب بھی 97 فیصد محفوظ سمجھا جاتا ہے۔
’تین ہزار سے زائد مسافر گاڑیاں ہر ماہ چلتی ہیں ان کے تناسب سے حادثات کنٹرول ہیں۔ لیکن ایم ایل ون منصوبہ مکمل ہونے کے بعد یہ بھی ختم ہوجائیں گے۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انگریز دور میں بننے والا پاکستان ریلوے کا نظام عارضی انتظامات کے تحت چلتا آرہا ہے۔ کیونکہ اس میں وقت کے ساتھ بہتری کی بجائے بدحالی دیکھنے میں آتی رہی۔ اس بڑے نظام کے تحت سن 2000 تک 240 تک مسافر ٹرینیں چلتی رہیں۔ لیکن پھر ایسا وقت بھی آیا کہ ریلوے کے پاس ملازمین کی تنخواہوں کا فنڈ بھی نہیں تھا۔ جبکہ مسافر گاڑیوں کی تعداد بھی ایک سو تک آگئی۔
ٹریک کی صورتحال خراب ہونے سے حادثات بھی معمول بننے لگے۔ سگنلنگ کا نظام بھی کمزور پڑنے لگا۔ ملازمین کی تعداد بھی ایک لاکھ چالیس ہزار سے صرف 57 ہزار پر آگئی۔ لیکن گذشتہ کچھ سالوں سے ریلوے میں دوبارہ بہتری کی کوشش کی گئی تو ٹرینیں نجی شعبے کے تحت چلانے کی حکمت عملی اپنائی گئی۔ لیکن نظام میں بہتری کی بڑی گنجائش اب بھی موجود ہے۔
ایم ایل ون منصوبہ کیا ہے؟
ریلوے حکام کے مطابق کراچی سے لاہور، راولپنڈی اور پشاور تک ریلوے ٹریک کو مین لائن ون کہا جاتا ہے، جس پر ہمیشہ سے سب سے زیادہ ٹرینیں چلتی ہیں۔
اس روٹ پر لاکھوں مسافر ریل گاڑی میں سفری سہولت حاصل کرتے ہیں۔ لیکن وقت کے ساتھ اس روٹ پر ٹریک کی صورتحال اور سٹیشنز کی حالت موجودہ دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہو سکی۔
یہی وجہ تھی کہ 13 سال پہلے چین کے ساتھ طے پانے والے تاریخی معاہدے سی پیک میں ایم ایل ون کی اپ گریڈیشن کو ترجیحی حیثیت دی گئی، لیکن یہ منصوبہ شروع نہیں ہوسکا۔ اب حکومت نے سنجیدگی سے اس پر کام کرنے کی تیاری کر لی ہے۔
مگر سوال یہی ہے کہ کیا پاکستان ریلوے کا نظام مکمل طور پر عالمی معیار کے مطابق استوار ہو پائے گا؟
