آسٹریلیا: رکن پارلیمان پر ’حملہ آور‘ ہونے والے کو پکڑنے والا حجام ہیرو قرار

آسٹریلوی حجام رکی جیفریز کو ہیرو قرار دیا جا رہا ہے، جنہوں نے اپنی دکان سے باہر نکل کر اس شخص کو قابو کیا جن پر حکام نے الزام لگایا ہے کہ انہوں نے جان بوجھ کر چھوٹے شہر وانگراٹا میں رکن پارلیمنٹ ہیلن ہینز کو گاڑی سے ٹکر ماری۔ اس واقعے نے پورے ملک کو صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔

جیفریز نے بتایا کہ پیر کو ایک کم عمر خاندان کے افراد کے بال کاٹنے کے بعد وہ ابھی فارغ ہی ہوئے تھے کہ انہوں نے اپنی دکان کے باہر ایک ’زور دار دھماکے جیسی آواز‘ سنی۔ انہیں معلوم ہوا کہ ٹویوٹا لینڈ کروزر کے ڈرائیور نے ہیلن ہینز کو ٹکر مار دی ہے، جس سے وہ شدید زخمی ہوگئیں۔

انہوں نے منگل کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’یہ سب بہت غیرمعمولی تھا۔ میں یہ دیکھنے کے لیے فوراً دکان سے باہر بھاگا کہ کیا ہو رہا ہے۔‘

جیفریز نے کہا کہ وہ مقامی سطح پر عزت کی نگاہ سے دیکھی جانے والی رکن پارلیمنٹ کی مدد کے لیے دوڑے، ملزم کی جیب سے چاقو نکالا اور اسے گاڑی سے باہر کھینچ لیا۔

انہوں نے کہا، ’اس کے پاس چاقو تھا۔ اس نے اسے باہر نہیں نکالا تھا۔ مجھے اس کی حرکات صحیح نہیں لگیں، اس لیے میں نے بنیادی طور پر اس کی جیب سے چاقو نکال کر دور پھینک دیا۔‘

جیفریز کے مطابق اس کے بعد انہوں نے پولیس کی آمد تک ملزم کو قابو میں رکھا۔

انہوں نے کہا کہ ’میں اس کے اوپر جھک گیا اور جب وہ زمین پر تھا اور اب کوئی خطرہ نہیں رہا تھا تو میں اس کے ساتھ کھڑا رہا اور اسے بتایا کہ وہ یہاں سے نہیں جا سکتا۔‘

65  سالہ ہیلن ہینز کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں رات گئے ان کی سرجری کی گئی۔ ان کی حالت اب بھی تشویش ناک ہے۔

آسٹریلیا کے وزیراعظم انتھونی البانیز نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ 43 سالہ شناخت شدہ ڈرائیور نے گاڑی موڑنے کے لیے یو ٹرن لیا اور پھر ہینز کو ٹکر مار دی۔ اس وقت وہ اپنی گاڑی کی ڈگی میں سامان رکھ رہی تھیں یا نکال رہی تھیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وزیراعظم کے مطابق متعدد ادارے اس واقعے کی تحقیقات میں شامل ہیں، جن میں انسدادِ دہشت گردی کے حکام بھی شامل ہیں۔

اگرچہ پولیس نے مبینہ حملے کے محرک کے بارے میں کوئی تفصیلات نہیں دیں، تاہم انسدادِ دہشت گردی کے تفتیش کاروں کی شمولیت نے اس خدشے کو جنم دیا ہے کہ یہ سیاسی تشدد کا واقعہ ہو سکتا ہے، جو آسٹریلیا میں شاذونادر پیش آتا ہے۔

جیفریز کی دکان ہیلن ہینز کے انتخابی دفتر کے ساتھ واقع ہے، جو میلبورن سے تقریباً تین گھنٹے کی ڈرائیو کے فاصلے پر شمال مشرق میں واقع ہے۔ انہوں نے سابق دائی ہینز کو ’ایک مخلص اور مہربان انسان‘ قرار دیا۔

وزیراعظم البانیز نے جیفریز کی مداخلت کو سراہتے ہوئے انہیں ہیرو قرار دیا۔

انہوں نے نائن نیٹ ورک کے پروگرام ’ٹوڈے‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’اس تاریک اور خوفناک وقت میں امید کی ایک کرن یہ ہے کہ ایک نیک دل شخص وانگراٹا میں ہیلن کے دفاع کے لیے دوڑا اور ایسا کرتے ہوئے خود کو ممکنہ طور پر خطرے میں ڈالا۔ آج وہ شخص ایک ہیرو ہے۔‘

تاہم جیفریز نے اپنی بہادری کی تعریف کو زیادہ اہمیت نہیں دی۔

انہوں نے کہا، ’مجھے نہیں لگتا کہ میں کوئی ہیرو ہوں۔ میرے خیال میں میں صرف ایک ایسا شخص تھا جسے نسبتاً محفوظ انداز میں مداخلت کرنے کا موقع ملا اور میں نے ایسا کیا۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *