فرانس سمیت مختلف یورپی ملکوں میں ہفتے کو مہنگائی کے خلاف مظاہرے کیے گئے۔
فرانس میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں، بڑے پیمانے پر لوٹ مار اور کئی مقامات پر آگ لگنے کے واقعات نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور شدید مہنگائی کے خلاف ہونے والے ملک گیر مارچ سڑکوں پر ’انتہائی شدت‘ کے تشدد میں تبدیل ہو گئے۔
اے ایف پی کے مطابق فرانس کے وزیر اعظم سیبسٹین لیکورنو نے کہا ہے کہ ہفتے کو ملک بھر میں ہونے والے مظاہروں کے دوران 1200 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ احتجاج کے دوران 150 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔
دن بھر کی جھڑپوں اور لوٹ مار کے بعد وسطی پیرس میں تعینات اہلکاروں سے ملاقات کے موقعے پر انہوں نے کہا کہ ’یہ ایک معجزہ ہے کہ نقصان اس سے زیادہ نہیں ہوا۔
طلبہ کے کئی ہفتے سے جاری مظاہروں کے بعد بڑے پیمانے پر یہ ہنگامے پھوٹ پڑے ہیں جس سے سیاسی بے یقینی مزید بڑھ گئی ہے، کیوں کہ ملک صدر ایمانوئل میکروں کی جگہ نیا صدر چننے کے لیے چھ ماہ بعد ہونے والے انتخابات کی تیاری کر رہا ہے۔
پیرس کے میئر ایمانوئل گریگوئیر نے کہا کہ شہر کی کئی سڑکیں مکمل طور پر ’تباہ ہو چکی ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ نقاب پوش نوجوانوں کے گروہوں نے کھڑی گاڑیوں کو آگ لگا دی اور بہت سی دکانوں میں لوٹ مار کی۔
یہ تشدد دارالحکومت اور دیگر شہروں میں مہنگائی کے خلاف نکالے گئے مارچ کے دوران شروع ہوا، جس میں وزارت داخلہ کے مطابق ساڑھے پانچ لاکھ افراد نے شرکت کی تھی۔ ان مظاہروں میں حصہ لینے والی سی جی ٹی یونین کا کہنا ہے کہ ان میں آٹھ لاکھ افراد شریک تھے۔
پولیس نے ان مظاہرین پر آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا جو مختلف چیزیں پھینک رہے تھے اور پٹاخے پھینک رہے تھے۔ جنوبی شہر سینٹ ایٹین میں ہجوم کو کنٹرول کرنے والے دستی بم سے 17 سالہ لڑکے کا دایاں ہاتھ اڑ گیا۔
کئی فرانسیسی شہروں میں لوٹ مار
مہنگائی کے خلاف مظاہروں کے دوران اور بعد میں، نوجوانوں کے گروہ پیرس کی سڑکوں پر گھومتے رہے، وقفے وقفے سے پولیس سے الجھتے رہے، اور آگ لگانے کے ساتھ ساتھ بند سٹورز میں گھس کر ان کی شیلفیں خالی کرنے کے لیے ان پر حملے کرتے رہے۔
پیرس، مارسیائی، نیس، نانت، بوردو، لیموج، لِیل، تولوز اور سٹراسبرگ میں درجنوں دکانوں کو لوٹا گیا جن میں سپر مارکیٹس، فارمیسیز، لگژری بوتیکس، کپڑوں کی دکانیں، چشمہ سازوں کی دکانیں، کاسمیٹکس اور الیکٹرانکس کے سٹورز شامل تھے۔
پیرس میں آدھا درجن نوجوانوں جو اکثر ایک منظم طریقے سے دکانوں پر حملہ کرتے رہے۔ انہوں نے ماسک اور دستانے پہن رکھے تھے اور اندر داخل ہونے کے لیے شیشے توڑنے سے پہلے وہ سکیورٹی کیمروں کا کنکشن کاٹ دیتے تھے۔
اس لوٹ مار سے تباہی اور توڑ پھوڑ کے دن میں مزید اضافہ ہوا، جس کے دوران کئی شہروں میں ٹاؤن ہالز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
علاقے کے اعلیٰ عہدے دار کے مطابق، لیموج شہر کا ٹاؤن ہال جو 140 سال سے زیادہ پرانا تھا، اندر گھسنے والے نقاب پوش مظاہرین کی جانب سے لگائی گئی آگ سے بڑی حد تک تباہ ہو گیا۔
مارسیائی اور لِیل میں بھی مزید دو ٹاؤن ہالز میں گھس کر توڑ پھوڑ کی گئی۔
بوردو میں پولیس کے ایک احاطے میں بھی توڑ پھوڑ کی گئی، جب کہ لیون میں مظاہرین نے ایک سیاحتی دفتر کو آگ لگا دی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
دیگر یورپی ملکوں میں بھی احتجاج
روئٹرز کے مطابق ہفتے کو بیلجیئم، پرتگال اور اٹلی میں بھی مہنگائی کے خلاف چھوٹے پیمانے پر مظاہرے ہوئے۔ البانیہ میں مظاہرین نے مبینہ حکومتی بدعنوانی، روزگار کی کمی اور تعلیم کے ناقص معیار کے خلاف ایک بار پھر مظاہرہ کیا۔
البانیہ میں وزیر اعظم ایڈی راما کے استعفے کا مطالبہ کرنے والے طلبہ کے بڑے مظاہروں کے پانچویں دن پولیس نے مظاہرین پر بظاہر ربڑ کی گولیاں چلائیں۔
پرتگال میں رہائش اور زندگی کے دیگر اخراجات کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے کئی دنوں کی ہنگامہ آرائی کے بعد ہزاروں افراد لزبن کی سڑکوں پر نکل آئے۔ 2017 کے بعد سے پرتگال میں مکانات کی قیمتیں دگنی ہو چکی ہیں جس نے یورپ میں قوت خرید کے بدترین بحرانوں میں سے ایک کو جنم دیا ہے۔
اٹلی کے شہر میلان میں مہنگائی کے خلاف نکالا جانے والا مارچ بدنظمی میں تبدیل ہو گیا اور پولیس نے آنسو گیس کی مدد سے مرکزی کیتھیڈرل سکوائر کو خالی کرایا۔ خبر رساں ادارے انسا کے مطابق بولونیا میں ایک اور مظاہرے کے پرتشدد شکل اختیار کرنے کے بعد پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال کیا اور سات افراد کو گرفتار کر لیا۔
