وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ہفتے کو کہا ہے کہ ایران جنگ کے باعث توانائی کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتوں کے جھٹکے کو اب تک پاکستان نے برداشت کر لیا ہے، لیکن سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک میں بنیادی ڈھانچے پر حملے ملک کے طویل مدتی اقتصادی منظر نامے کے لیے ’تشویش ناک‘ ہیں۔
بنکاک میں آئی ایم ایف۔ورلڈ بینک کے سالانہ اجلاس کے موقعے پر ایک انٹرویو میں محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان نے نومبر تک کے لیے توانائی کی مناسب فراہمی حاصل کر لی ہے اور اب وہ سردیوں کے مہینوں کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، جب گھریلو ضروریات میں عموماً اضافہ ہوتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان نے (مشرق وسطیٰ جنگ کے) پہلے درجے کے اثرات کا اچھی طرح سے مقابلہ کیا۔
’ہمیں کسی قسم کی قلت کا سامنا نہیں رہا، پیٹرول پمپوں پر کوئی قطاریں نہیں لگیں اور نہ ہی امن و امان کا کوئی مسئلہ پیدا ہوا، جیسا کہ ہم نے بعض اوقات کچھ ممالک میں دیکھا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ جب تک حکومت کو ’انتہائی اشد ضرورت‘ محسوس نہ ہو، وہ ایل این جی کے حوالے سے سپاٹ کارگو نہیں خریدے گی، جو پہلے سے معاہدہ شدہ کھیپ کے مقابلے میں کہیں زیادہ مہنگے پڑتے ہیں۔
فروری میں امریکہ اور اس کے اتحادی اسرائیل کی جانب سے ایران پر جنگ مسلط کیے جانے کے بعد سے توانائی کی عالمی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے کیونکہ تہران نے جوابی کارروائی میں واشنگٹن کے خلیجی اتحادیوں کو نشانہ بنایا ہے جس سے تیل اور گیس کی ترسیل میں کمی آئی ہے۔
یمن کی خانہ جنگی دوبارہ بھڑک اٹھنے کے ساتھ ہی، حالیہ دنوں میں حوثیوں نے توانائی کی تنصیبات اور ایئرپورٹس سمیت سعودی بنیادی ڈھانچے پر مسلسل حملے کیے ہیں۔
پاکستانی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اس کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان سے معاشی حالات کے معمول پر آنے میں تاخیر ہوگی۔
انہوں نے کہا: ’اب اس حوالے سے تشویش ناک بات یہ ہے کہ توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جانے لگا ہے۔
’سچی بات تو یہ ہے کہ مجھے نہیں معلوم کہ یہ صورت حال کہاں جا کر رکے گی۔ لیکن ایک بات بالکل واضح ہے کہ اگر بنیادی ڈھانچے کو مسلسل نشانہ بنایا جاتا رہا، تو حالات بہتر ہونے کے باوجود معمول پر آنے میں زیادہ وقت لگے گا۔‘
’مزاحمت‘
پاکستان عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا ایک مستقل کسٹمر رہا ہے، جو ڈیفالٹ کے دہانے پر کھڑے ممالک کے لیے آخری سہارا ہے۔
1947 میں آزادی حاصل کرنے کے بعد سے پاکستان اس وقت فنڈ کے ساتھ اپنے 25 ویں پروگرام میں شامل ہے، جن میں سے کم از کم 11 مکمل بیل آؤٹ تھے۔
موجودہ پروگرام تین سالوں پر محیط تقریباً سات ارب ڈالر کا ہے اور فنڈ نے اس ماہ ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کی قسط جاری کرنے کا معاہدہ کیا ہے۔
عالمی قرضوں کے بڑھتے ہوئے حجم کے پیش نظر، فنڈ نے اس سال کے سالانہ اجلاسوں میں تمام معیشتوں، حتیٰ کہ ایران جنگ کے جھٹکے سے سب سے زیادہ خطرے سے دوچار ممالک سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ کسی ممکنہ بحران سے بچنے کے لیے مالیاتی استحکام کے اقدامات کریں۔
پاکستانی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا: ’ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہم کچھ عرصے سے مالیاتی استحکام کے اس راستے پر گامزن ہیں۔‘
حالیہ برسوں میں ملک کی ٹیکس آمدنی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس حوالے سے وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت نجی شعبے کے ان کاروباروں کی جانب سے ٹیکس چوری کو نشانہ بنا رہی ہے جو صارفین سے سیلز ٹیکس تو وصول کرتے ہیں لیکن اسے کبھی سرکاری کھاتوں میں جمع نہیں کراتے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ اس طرح کی چوری کا حجم اربوں ڈالر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انکم ٹیکس کی وصولی بڑھانے میں بھی ’بہتری کی گنجائش‘ موجود ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وزیر خزانہ کے مطابق حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے کو صنعت، لابنگ گروپس اور مفاد پرست عناصر کی جانب سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہر اصلاح اور ہر وہ کام جو آپ جمود کو بدلنے کے لیے کرتے ہیں، اس پر مزاحمت ہوتی ہے۔‘
آئی ایم ایف کے پروگرام کے معیارات کا ایک بڑا ستون پاکستان میں سرکاری اثاثوں کی نجکاری ہے، جہاں فوج رئیل سٹیٹ سے لے کر کھاد تک کے شعبوں میں کاروبار کی ایک وسیع سلطنت چلاتی ہے۔
ان کمپنیوں کے بارے میں پوچھے جانے پر، اورنگزیب نے اس بات سے انکار کیا کہ انہیں سرکاری فنڈنگ مل رہی ہے۔
انہوں نے کہا: ’جہاں تک ہمارا تعلق ہے، (فوج) جو بھی تجارتی ادارے چلا رہی ہے، وہ خود مختار بنیادوں پر چل رہے ہیں اور اپنے بل بوتے پر منافع بخش ہیں۔
’لہذا، میں آپ کو یقین دلا سکتا ہوں کہ ہم سرکاری خزانے سے کوئی فنڈ فراہم نہیں کر رہے ہیں۔‘
