یمن میں قانونی حکومت کی بحالی کے لیے قائم اتحاد نے جمعرات کو بتایا کہ حوثیوں نے یکم اکتوبر سے اب تک سعودی دارالحکومت ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر 20 حملے کیے ہیں۔
اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے جمعرات کو ایک پریس کانفرنس کے دوران ان حملوں کے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہونے والے ان حملوں میں 17 افراد جان سے گئے اور 330 سے زائد زخمی ہوئے۔
عرب نیوز کے مطابق ترکی المالکی نے 10 اکتوبر کو کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے سب سے بڑے حملے کا بھی حوالہ دیا، جس میں 13 افراد جان سے گئے تھے۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
انہوں نے کہا: ’یہ وحشیانہ دہشت گرد حملے، جن میں مصروف ترین اوقات میں کیا جانے والا حملہ بھی شامل ہے، صرف مملکت کے ہوائی اڈوں کو نشانہ نہیں بناتے بلکہ ان سے مسافروں کی سلامتی کو بھی خطرہ ہوتا ہے۔ ان مسافروں میں سعودی شہری، برادر اور دوست ممالک کے باشندے اور دنیا بھر سے حرمین شریفین کی زیارت کے لیے آنے والے عمرہ زائرین بھی شامل ہیں۔‘
ترکی المالکی نے بتایا کہ ابہا ایئرپورٹ سمیت سعودی عرب کے مختلف ہوائی اڈوں پر حوثیوں کے حملوں میں مجموعی طور پر 19 افراد جان سے گئے اور 364 زخمی ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’ہوائی اڈوں کو نشانہ بنانے سے ہزاروں عام مسافروں کی زندگیاں خطرے میں پڑ جاتی ہیں۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ ’آپریشنز کے آغاز سے اب تک سعودی عرب پر ایک ہزار 104 میزائل اور ایک ہزار 135 ڈرون داغے جا چکے ہیں۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ترکی المالکی نے دعویٰ کیا کہ حوثیوں نے خطے کے بعض فریقوں کی مدد سے جدید ٹیکنالوجی حاصل کی ہے اور یمن کے علاقوں صنعا، صعدہ اور عمران میں پہاڑی گودام قائم کیے ہیں، جنہیں حملوں کے لیے لانچنگ مراکز کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
ترجمان کے مطابق حوثی اپنے جنگی مقاصد کے لیے شہری تنصیبات اور یمن کے وسائل استعمال کر رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اتحادی افواج نے گذشتہ چند روز کے دوران پہاڑی علاقوں میں حوثیوں کے 127 گودام اور میزائل و ڈرون حملوں کے لیے استعمال ہونے والے متعدد لانچنگ مراکز تباہ کیے ہیں۔
ترکی المالکی نے مزید کہا: ’حوثیوں کو شہریوں اور شہری تنصیبات، بشمول ہوائی اڈوں، بندرگاہوں، تیل کی تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والی تمام دہشت گرد کارروائیاں فوری طور پر بند کرنی چاہییں۔‘
