بیرونِ ملک تعلیم کے لیے خود کوشش کریں

اسلام آباد کے ایک ہفتہ وار بازار میں گذشتہ جمعے ایک طالبہ کی لاش ملی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وہ لاش انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کی گریجویٹ طالبہ لائبہ کی تھی جس نے سکالرشپ پر تعلیم مکمل کی تھی اور سونے کا تمغہ بھی حاصل کیا تھا۔

وہ طالبہ مزید تعلیم کے لیے ملک سے باہر جانا چاہتی تھی۔ اس سلسلے میں اس کا رابطہ ایک کنسلٹنٹ سے ہوا جس نے اسے اور اس کے اہلِ خانہ کو امریکہ کی ایک یونیورسٹی میں داخلہ دلوانے کا جھانسہ دے کر 50 لاکھ روپے بٹور لیے۔

بعد ازاں جب طالبہ اور اس کے خاندان نے کنسلٹنٹ کی جانب سے فراہم کردہ دستاویزات کی تصدیق کروائی تو انہیں پتہ چلا کہ وہ جعلی دستاویزات تھیں۔

طالبہ کے خاندان نے یہ خطیر رقم اپنی ساری جمع پونجی اور پلاٹ بیچ کر ادا کی تھی۔ وہ اس رقم سے اپنا مکان تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ اس فراڈ کے انکشاف کے بعد وہ طالبہ اس قدر دل برداشتہ ہوئی کہ اس نے اپنی جان لے لی۔

یہ ایک انتہائی افسوس ناک واقعہ ہے۔ پاکستان سے ہر سال ہزاروں طالب علم اپنی اور اپنے خاندان کی قسمت بدلنے کے خواب لیے اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرونِ ملک جانے کی کوشش کرتے ہیں۔

ان میں سے بہت سے طالب علم جعلی کنسلٹنٹس کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔ یہ جعلی کنسلٹنٹس ان طالب علموں کو بیرونِ ملک تعلیم کے سبز باغ دکھا کر ان کے والدین کی زندگی بھر کی جمع پونجی لوٹ لیتے ہیں۔

اگرچہ آج کے دور میں جامعات میں داخلے اور سکالرشپس کے بارے میں معلومات حاصل کرنا مشکل نہیں رہا، تاہم اس کے لیے کئی ماہ لیپ ٹاپ پر بیٹھ کر انٹرنیٹ کھنگالنا پڑتا ہے۔

جامعات کی ویب سائٹس دیکھنی پڑتی ہیں، سکالرشپ فراہم کرنے والے اداروں کی ویب سائٹس پر معلومات تلاش کرنی پڑتی ہیں، سوشل میڈیا پر سکالرشپ گروپس پر نظر رکھنی پڑتی ہے اور مطلوبہ دستاویزات تیار کرنا پڑتی ہیں۔

بہت سے طالب علموں کو یہ سارا عمل بہت مشکل اور پیچیدہ لگتا ہے۔ کچھ کو خود پر اعتماد نہیں ہوتا اور وہ سمجھتے ہیں کہ بیرونِ ملک کسی جامعہ میں داخلہ لینا ان کے بس کی بات نہیں ہے۔ کنسلٹنٹس ان کی اسی بے یقینی کا فائدہ اٹھاتے ہیں اور انہیں اپنی خدمات پیش کرتے ہیں، حالانکہ وہ سارا کام طالب علم خود بھی کر سکتے ہیں۔

نوجوانوں کو سمجھنا چاہیے کہ انہیں بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنے کے لیے کسی کی پیشہ ورانہ خدمات حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ خود بھی یہ کام کر سکتے ہیں۔

ہاں، اس میں وقت لگتا ہے، دماغ لگانا پڑتا ہے، کئی دستاویزات بنانی پڑتی ہیں اور کئی داخلہ فارم بھرنے پڑتے ہیں۔ کبھی سمجھ نہیں آتا کہ یہ سب کیسے کریں؟

کبھی لیپ ٹاپ کھول کر پھر سے تین چار گھنٹے کسی لیٹر کو لکھنے یا داخلے کا درخواست فارم بھرنے کو دل نہیں کرتا۔ لیکن اگر وہ اپنے مقصد کے لیے پُرعزم ہوں اور روزانہ ایک منصوبے کے تحت کام کرتے رہیں تو اپنی پسندیدہ جامعہ کے پسندیدہ پروگرام میں داخلہ حاصل کر سکتے ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سوشل میڈیا پر سکالرشپس کے حوالے سے کئی گروپس موجود ہیں جو لوگوں نے دوسروں کی مدد کے لیے بنائے ہوئے ہیں۔ ان گروپس میں ہر چھوٹی بڑی سکالرشپ حاصل کرنے کا طریقہ موجود ہے۔

ان گروپس میں دنیا کے کئی ممالک میں اعلیٰ تعلیم کے لیے جانے کے حوالے سے بھی بہت سی معلومات موجود ہیں اور یہ معلومات وہ لوگ دیتے ہیں جو خود اس طریقے پر عمل کر چکے ہوتے ہیں۔ میں نے اپنی ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کی سکالرشپس کے لیے ایسے کئی گروپس میں موجود پوسٹس سے ہی مدد لی تھی۔

مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے دور میں یہ عمل مزید آسان ہو گیا ہے۔ اے آئی کو تربیت دے کر اس قابل بنایا جا سکتا ہے کہ وہ آپ کے لیے مختلف سکالرشپس کو ٹریک کر سکے۔ آپ کو داخلے کی درخواست تیار کرنے میں مدد دے سکے یا کسی بھی مرحلے پر آپ کے سوالات کے جوابات دے سکے۔

ہر جامعہ کی ویب سائٹ پر وہاں داخلہ لینے کا طریقہ موجود ہوتا ہے۔ درخواستیں کب تک موصول کی جائیں گی، کون سی دستاویزات جمع کروانی ہیں، ایپلی کیشن فیس کتنی ہے، پروگرام فیس کتنی ہے، وہ کیسے جمع ہوگی وغیرہ وغیرہ۔

کنسلٹنٹ کو پیسے دینے سے پہلے جامعہ کی ویب سائٹ دیکھ لیں۔ انہیں ای میل کر کے داخلے کی تصدیق کر لیں۔ بھاری رقم خود جامعہ کے اکاؤنٹ میں جمع کروائیں اور اس سے پہلے اس جامعہ سے کہیں کہ وہ آپ کو سارے کاغذات بھیجے اور مطلوبہ فیس اور اسے جمع کروانے کا طریقہ بھی بتائے۔

اس کے علاوہ لنکڈ اِن پر ایسے پاکستانیوں سے رابطہ کریں جو آپ کی مطلوبہ جامعہ میں موجود ہوں یا وہاں سے فارغ التحصیل ہوں۔ ان میں سے کوئی نہ کوئی آپ کو ضرور جواب دے گا اور آپ کو وہاں جانے کا طریقہ بتائے گا۔

تاہم یاد رہے کہ یہ مزید معلومات ہوں، وہی معلومات نہ ہوں جو جامعہ کی ویب سائٹ پر موجود ہیں اور آپ اپنی کاہلی کی وجہ سے وہ معلومات خود حاصل کرنے کی بجائے کسی اور سے حاصل کرنا چاہ رہے ہوں۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ اپنے کسی پروفیسر سے ضرور رابطہ کریں۔ انہیں بتائیں کہ آپ سکالرشپ کے لیے درخواست دینے کے عمل سے گزر رہے ہیں، کسی کنسلٹنسی ایجنسی نے آپ سے رقم طلب کی ہے اور آپ جاننا چاہتے ہیں کہ آیا یہ طریقۂ کار درست ہے یا نہیں۔

ضروری نہیں کہ ہر پروفیسر اس بارے میں معلومات رکھتا ہو لیکن ممکن ہے کہ کوئی ایک پروفیسر آپ کو ایسے شخص تک پہنچا دے جو خود اس سکالرشپ پر بیرونِ ملک جا چکا ہو اور آپ کی درست رہنمائی کر سکے۔

پاکستان کی کئی اچھی جامعات اپنے طالب علموں کو مختلف سکالرشپس کے حوالے سے باقاعدہ ای میل بھیجتی ہیں۔ تاہم، ہر جامعہ کے پاس اتنے وسائل نہیں ہوتے کہ وہ اپنے طالب علموں کی اس حوالے سے مؤثر رہنمائی کر سکیں۔

انہیں اپنے وسائل پر کام کرنا چاہیے یا کم از کم وہ فیکلٹی جو بیرونِ ملک تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہاں ملازمت کر رہی ہے، ان سے یہ درخواست کریں کہ وہ اپنے پروگرام میں داخلے کا مکمل طریقہ ایک کاغذ پر لکھ کر جمع کروائیں اور پھر وہ سب کاغذات جامعہ میں طالب علموں کے لیے کسی ریسورس کی صورت میں رکھے جائیں۔

علاوہ ازیں، وہ اس حوالے سے مختلف ورکشاپس اور معلوماتی سیشنز کا انعقاد بھی کر سکتی ہیں۔ اس طرح طالب علموں کو مستند معلومات تک رسائی ملے گی اور وہ سکالرشپس دلوانے کے نام پر لوگوں کے جھانسے میں آنے سے بھی بچ سکیں گے اور اپنے والدین کی جمع پونجی ضائع ہونے کے غم میں اپنی جان نہیں لیں گے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *