پاکستان اور عمان کی مشرق وسطیٰ میں امن کی کوششوں پر بات چیت

پاکستان اور عمان کے وزرائے خارجہ نے بدھ کو سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں اور مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔

یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکہ – ایران تنازعے کے بعد سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں نے خطے میں مزید عدم استحکام کے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔

پاکستان اور عمان مسلسل زور دیتے رہے ہیں کہ علاقائی تنازعات کے حل کے لیے بات چیت، سفارت کاری اور مربوط کوششوں کو ترجیح دی جائے۔

دونوں ممالک خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنے اور امن و سلامتی کے فروغ میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

عمان کے وزیر خارجہ سید بدر بن حمد البوسعیدی کے ساتھ مشترکہ وزارتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ دونوں فریقوں نے امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع، سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں، آبنائے ہرمز اور باب المندب کی بندش اور غزہ کی صورت حال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

اسحاق ڈار نے کہا ’ہم نے باب المندب اور حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والی نئی پیش رفت پر بات کی ہے۔

’میرے خیال میں ہماری سوچ ایک جیسی ہے اور ہمیں ان مسائل کے حل کے لیے اپنی بھرپور کوششیں کرنی چاہییں کیونکہ اس سے ہمیں آگے بڑھنے میں مدد ملے گی۔‘

ایران نے تزویراتی اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز پر اپنی سخت گرفت برقرار رکھی ہوئی ہے۔ فروری کے اواخر میں امریکہ کی ایران کے خلاف جنگ شروع کیے جانے سے قبل دنیا بھر میں تیل اور گیس کی تقریباً پانچویں حصے کی ترسیل اسی آبنائے سے ہوتی تھی۔

ادھر ایران کے قریب سمجھے جانے والے یمن کے حوثی جنگجو بحیرہ احمر کے ساحل پر تزویراتی اہمیت کی حامل آبنائے باب المندب کے قریب پیش قدمی کر چکے ہیں، جس سے تجارتی جہاز رانی اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

آبنائے ہرمز کے راستے ترسیل میں خلل کے باعث پہلے ہی توانائی کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے۔

یمن کے ایران نواز حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے شہری اور تیل کے بنیادی ڈھانچے پر بار بار حملوں کے نتیجے میں حالیہ ہفتوں کے دوران ایک درجن سے زیادہ افراد جان سے جا چکے ہیں جبکہ درجنوں دیگر زخمی ہوئے ہیں۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ خطے میں جاری تنازعے کے باعث پیدا ہونے والی مشکلات اور انسانی تکالیف ’بہت، بہت واضح‘ ہیں۔

انہوں نے کہا ’پاکستان میں توانائی کی فراہمی کا سلسلہ متاثر ہوا ہے۔ قیمتیں آسمان پر پہنچ گئی ہیں۔ عام آدمی ظاہر ہے کہ یہ اخراجات برداشت نہیں کر سکتا۔

’یہ صورت حال صرف دنیا کے اس حصے تک محدود نہیں بلکہ پوری دنیا اس سے متاثر ہو رہی ہے۔‘

انہوں نے کہا ’میرے خیال میں ہمیں اس خطے میں حالات کو معمول پر لانے، امن اور سکون بحال کرنے کی ضرورت ہے۔ میرا خیال ہے کہ ہم دونوں اس سلسلے میں انتہائی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔‘

عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں بات چیت اور سفارت کاری کی حمایت میں پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے وقت میں جب کشیدگی باآسانی بڑھ سکتی ہے، پاکستان کی کوششیں اہمیت رکھتی ہیں۔

انہوں نے کہا ’بات چیت اور باہمی افہام و تفہیم کو فروغ دینے والی کوششیں قابل قدر ہیں اور انہیں حقیقی معنوں میں سراہا جانا چاہیے۔

’ہم پاکستان کے اس کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جس نے بات چیت کے لیے گنجائش پیدا کرنے میں مدد دی ہے۔‘

عمان کے وزیر خارجہ آٹھویں پاک۔عمان مشترکہ وزارتی کمیشن (جے ایم سی) میں شرکت کے لیے منگل کو اسلام آباد پہنچے تھے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسحاق ڈار نے کہا ’یہ مشترکہ وزارتی کمیشن سات سال کے وقفے کے بعد منعقد ہو رہا ہے۔ ہماری محدود نشستوں میں ہم نے اتفاق کیا کہ آئندہ ایسے طویل وقفے نہیں ہونے چاہییں کیونکہ تجارت، دوطرفہ تجارت، اقتصادی سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کے مواقع کو وسعت دینے کی بڑی گنجائش موجود ہے۔

’تاہم اس کے لیے باہمی رابطے اور باقاعدہ روابط ناگزیر ہیں۔‘

عمان کے وزیر خارجہ نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا ’عمان اور پاکستان دونوں اپنی معیشتوں میں اہم تبدیلیاں لا رہے ہیں اور تجارت، رسد و ترسیل، بندرگاہوں کے باہمی رابطے، توانائی، غذائی تحفظ اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کے مواقع موجود ہیں۔

’حقیقت یہ ہے کہ سیاحت اور عوامی سطح پر روابط سمیت ایسے شعبوں کی فہرست بہت طویل ہے جن میں ہم مل کر کام کر سکتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا ’اس تعاون کی بہت زیادہ صلاحیت موجود ہے اور ہمارا اصل کام ان رکاوٹوں کو دور کرنا ہے جو کاروبار اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار حالات پیدا کرنے میں حائل ہیں، تاکہ کاروباری ادارے اور سرمایہ کار اس صلاحیت سے فائدہ اٹھا سکیں۔

’میں دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے درمیان زیادہ روابط، مضبوط ادارہ جاتی شراکت داری، تعلیمی اور تکنیکی تعاون میں اضافے اور دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان زیادہ باقاعدہ تبادلوں کی حوصلہ افزائی کروں گا۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *