جنگ کے باوجود ممالک کے پاس اخراجات میں کمی کے سوا کوئی راستہ نہیں: آئی ایم ایف

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے منگل کو خبردار کیا کہ ایران جنگ کے باعث پیدا ہونے والے توانائی کے بحران سے کم آمدنی والے ترقی پذیر ممالک غیر معمولی طور پر متاثر ہو رہے ہیں۔

تاہم ان میں سے بہت سے ممالک کے پاس اخراجات میں کمی کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بصورت دیگر انہیں قرضوں کی تنظیم نو کرنا پڑ سکتی ہے۔

آئی ایم ایف کی ڈپٹی ڈائریکٹر برائے تحقیق، پیتیا کووا بروکس نے بنکاک میں ادارے کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھاری قرضوں تلے دبے اور تیل درآمد کرنے والے ممالک توانائی کے بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔

ان ممالک کے لیے بحران کے دوران اپنے شہریوں کو ریلیف فراہم کرنا ایک مشکل فیصلہ بن چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’بدقسمتی سے عالمی معیشت کو مسلسل کئی برسوں سے ایک کے بعد ایک بحران کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس دوران قرضوں کی سطح میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ مہنگائی بھی ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔‘

امریکہ کی ایران کے خلاف جنگ نے مشرقِ وسطیٰ کو تنازع میں دھکیل دیا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

ایران کی جوابی کارروائیوں میں خلیجی خطے میں واشنگٹن کے اتحادیوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ تیل اور گیس کی فراہمی بھی متاثر ہوئی ہے۔

توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات اب دیگر اشیائے ضروریہ تک بھی پہنچ رہے ہیں، جبکہ اس بحران نے کھاد کی اہم سپلائی کو بھی متاثر کیا ہے۔

آئی ایم ایف نے بحران کے تناظر میں ممالک کو محدود اور ہدف پر مبنی سبسڈیز دینے کا مشورہ دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تمام حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ معاشی جھٹکوں سے نمٹنے کے لیے مالی وسائل کے ذخائر دوبارہ مضبوط کریں اور بڑھتے ہوئے قرضوں کے مسئلے سے نمٹیں۔

عالمی معیشت کو وبائی مرض کے بعد سے مسلسل بحرانوں کا سامنا رہا ہے۔

پیتیا کووا بروکس نے کہا کہ ’ہماری تجاویز یقیناً زیادہ تر ممالک پر لاگو ہوتی ہیں، لیکن سب سے زیادہ کمزور ممالک کے لیے ان فیصلوں اور مختلف ترجیحات کے درمیان توازن قائم کرنا کہیں زیادہ مشکل ہے۔‘

آئی ایم ایف کی جانب سے منگل کو جاری کی گئی ورلڈ اکنامک آؤٹ لک رپورٹ میں ان کم آمدنی والے ترقی پذیر ممالک کو ایران جنگ کے معاشی اثرات کے حوالے سے سب سے زیادہ خطرے سے دوچار قرار دیا گیا ہے جو تیل درآمد کرتے ہیں اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی ٹیکنالوجی میں جاری سرمایہ کاری کے عروج سے فائدہ نہیں اٹھا رہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ ’سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں گھریلو استعمال کی اشیا کی قیمتوں کے مجموعی حساب میں توانائی اور خوراک کا حصہ بہت زیادہ ہے، اس لیے ان کے لیے صورتِ حال کہیں زیادہ مشکل ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’لیکن بدقسمتی سے ان ممالک کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔‘

آئی ایم ایف کی سینیئر عہدیدار نے مزید کہا کہ کم آمدنی والے بہت سے ممالک پہلے ہی قرضوں کے شدید بحران کا شکار ہیں یا اس کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ اگر وہ اپنے قرضوں کے مسئلے کو حل کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں تو انہیں قرضوں کی تنظیمِ نو کے لیے اقدامات کرنے چاہییں۔

ان کے مطابق ’اگر کسی ملک کے قرضے پائیدار سطح پر نہیں ہیں تو ان کے مسئلے کو حل کرنا اور بروقت و منظم انداز میں قرضوں کی تنظیم نو کرنا انتظار کرنے سے بہتر ہے، کیونکہ تاخیر کی صورت میں مستقبل میں اس عمل کی لاگت کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔‘

ڈومینو اثرات

آئی ایم ایف نے اپنی ورلڈ اکنامک آؤٹ لک رپورٹ میں 2026 کے لیے عالمی اقتصادی ترقی کی پیش گوئی میں اضافہ کیا ہے۔ اس کی بڑی وجہ ترقی یافتہ معیشتوں میں مصنوعی ذہانت سے متعلق سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہے۔

تاہم مختلف معیشتوں میں ترقی کی رفتار یکساں نہیں رہے گی۔ اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ کون سا ملک ایران جنگ سے کتنا متاثر ہوتا ہے اور آیا وہ مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کی سپلائی چین کا حصہ ہے یا نہیں۔

رپورٹ کے مطابق، 2026 میں دنیا کی ترقی یافتہ معیشتوں کی شرحِ نمو 2.1 فیصد رہنے کی توقع ہے، جبکہ تائیوان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک، جو مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کی سپلائی چین کا حصہ ہیں، نمایاں طور پر زیادہ شرحِ نمو حاصل کر سکتے ہیں۔

پیتیا کووا بروکس نے اے ایف پی کو بتایا کہ اگر مصنوعی ذہانت سے متعلق سرمایہ کاری کی سرگرمیوں میں کمی آتی ہے تو عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ’اس کے نتیجے میں نہ صرف امریکہ جیسی ترقی یافتہ معیشتوں کی پیداوار متاثر ہوگی بلکہ تجارتی روابط کے ذریعے ایشیا کے ممالک بھی اس کے اثرات محسوس کریں گے۔‘

آئی ایم ایف کے بدترین ممکنہ منظرنامے کے مطابق، اگر مصنوعی ذہانت اپنی سرمایہ کاری سے وابستہ متوقع پیداواری فوائد فراہم کرنے میں ناکام رہتی ہے تو 2028 کے لیے عالمی مجموعی ملکی پیداوار جی ڈی پی کی پیش گوئی میں 0.4 فیصد تک کمی ہو سکتی ہے۔

رپورٹ میں موسمیاتی تبدیلیوں سے وابستہ خطرات کو بھی اہم موضوع قرار دیا گیا ہے۔

پیتیا کووا بروکس نے بتایا کہ موسمیاتی رجحان ’ال نینو‘ کے غیر معمولی شدت اختیار کرنے کے ممکنہ اثرات میں سے بعض کو پہلے ہی بعض غذائی اشیا کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے تخمینوں میں شامل کیا جا چکا ہے۔

ال نینو قدرتی موسمیاتی دور کا گرم مرحلہ ہے، جس کے دوران بحرالکاہل کے استوائی خطے میں سمندر کی سطح کا درجۂ حرارت بڑھ جاتا ہے۔ اس سے موسم کے معمولات میں تبدیلی آتی ہے، خشک سالی اور سیلاب کے خطرات بڑھ سکتے ہیں اور انسانی سرگرمیوں کے باعث ہونے والی عالمی حدت میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔

پیتیا کووا بروکس نے کہا کہ ’ہم مشروبات کی قیمتوں اور چاول وغیرہ کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھ رہے ہیں۔‘

انہوں نے خبردار کیا کہ ’یہ بھی ممکن ہے کہ ان اثرات کا ڈومینو سلسلہ ہماری موجودہ توقعات سے کہیں زیادہ بڑا ثابت ہو۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *