عالمی نظام میں روس کیا سوچ رہا ہے؟

یوکرین کے محاذ پر جاری جنگ، مشرق وسطیٰ کی بے یقینی اور عالمی معاشی تقسیم میں ماسکو مستقبل کا ایک مختلف نقشہ دیکھ رہا ہے۔ روسی قیادت کے بیانات اور فیصلوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ موجودہ انتشار کو عالمی طاقت کی نئی تقسیم کا موقع سمجھتی ہے۔

روس چاہتا ہے کہ یورپ کی سلامتی سے توانائی تک کوئی بڑا فیصلہ اس کی مرضی کے بغیر نہ ہو۔ کریملن عالمی سیاست میں اپنا وہ مقام منوانا چاہتا ہے جو اس کے خیال میں سرد جنگ کے بعد اس سے چھین لیا گیا تھا۔

یکم اکتوبر 2026 کو والدائی فورم میں ولادی میر پوتن نے مغربی بالادستی سے کثیر قطبی دنیا کی طرف منتقلی کو طویل اور خطرات سے بھرپور عمل قرار دیا۔ ان کی گفتگو میں اعتماد اور بے یقینی ساتھ ساتھ تھے۔

اس سے لگتا ہے کہ ماسکو فوری استحکام کے بجائے طویل مسابقت کے لیے خود کو تیار کر رہا ہے۔ اس کی توقع ہے کہ طاقت کے متعدد مراکز ابھریں گے اور امریکہ کو ان کے ساتھ عالمی معاملات طے کرنا پڑیں گے۔ یہ روسی قیادت کی تعبیر ہے، مستقبل کی ضمانت نہیں۔

اس سوچ کا تاریخی پس منظر 1991 میں سوویت یونین کا انہدام ہے۔ مغرب نے اسے سرد جنگ کی فتح سمجھا جبکہ روسی ریاستی بیانیے میں یہ عالمی مرتبے اور علاقائی اثر کے نقصان کی علامت ہے۔

مارچ 2023 کا خارجہ پالیسی تصور اسی ذہنیت کا عکاس ہے اور روس کو ایک منفرد تہذیبی ریاست قرار دیتا ہے۔ اس تصور میں روس اپنا سیاسی اور تہذیبی راستہ خود متعین کرتا ہے۔ مغربی اداروں سے قبولیت کے بجائے الگ مرکز کی حیثیت منوانا زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔

یہاں خود مختاری کا ایک تضاد سامنے آتا ہے۔ ماسکو اپنے لیے بیرونی مداخلت سے مکمل آزادی مانگتا ہے، مگر اپنے ہمسایوں کے تزویراتی انتخاب کو اپنی سلامتی کے تابع دیکھتا ہے۔

یوکرین اس تضاد کی نمایاں مثال ہے۔ نیٹو کی توسیع پر روسی اعتراض یوکرین کی خود مختاری ختم نہیں کرتا۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے فروری 2026 میں بھی روسی حملے کو اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی قرار دیا۔ طاقت کے نئے مراکز کا ابھرنا خود بخود چھوٹی ریاستوں کے لیے زیادہ منصفانہ دنیا پیدا نہیں کرتا۔

یوکرین میں روس کے مقاصد اسی تناظر میں واضح ہوتے ہیں۔ والدائی میں پوتن نے یوکرین کی غیر جانب دار حیثیت کو بدستور اپنا ہدف بتایا اور مذاکرات کو زمینی حقائق سے وابستہ کیا۔ اس کا سیاسی مطلب میدان جنگ کی برتری کو مستقل انتظام میں تبدیل کرنے کی خواہش ہے۔

ممکنہ تصفیے میں علاقوں کے ساتھ یوکرین کے دفاعی تعلقات اور مستقبل کی سلامتی بھی زیر بحث ہوں گے۔ کیئف کے لیے یہ ہی مقام مشکل ہے، کیونکہ ایسی جنگ بندی جو اگلی جنگ کا امکان برقرار رکھے، پائیدار تحفظ فراہم نہیں کرتی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

واشنگٹن سے رابطے اس حکمت عملی کا اہم حصہ ہیں۔ 11 اکتوبر کو ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے توانائی کی تنصیبات پر حملے روکنے کی تجویز سامنے آئی جبکہ یوکرینی صدر نے اس کی تفصیلات کے انتظار اور روسی حملوں کے تسلسل کا ذکر کیا۔

سفارتی اعلان اور عملی جنگ بندی کے درمیان یہ فاصلہ معنی خیز ہے۔ ماسکو کے لیے براہ راست امریکی مذاکرات برابری کی حیثیت منوانے کا موقع بھی ہیں۔ تاہم امریکہ اور روس کی مفاہمت اسی وقت پائیدار ہو گی جب یوکرین کی رضامندی اور یورپی سلامتی کو بھی جگہ ملے۔

کریملن کے طرز عمل سے وقت کو اپنے حق میں استعمال کرنے کی کوشش دکھائی دیتی ہے۔ طویل جنگ مخالف معاشروں میں اخراجات اور امداد پر اختلافات پیدا کر سکتی ہے۔ مگر وقت دونوں طرف قیمت وصول کرتا ہے۔

روس بھی انسانی نقصان اور معاشی دباؤ سہتا ہے۔ پھر جس نیٹو کے پھیلاؤ کو روکنا روسی مؤقف کا مرکزی نکتہ تھا، فن لینڈ اور سویڈن جنگ کے آغاز کے بعد اس کے رکن بن گئے۔ سلامتی بڑھانے کے لیے اٹھایا گیا قدم مخالف اتحاد کو مزید مضبوط بھی کر سکتا ہے۔

معیشت اس مقابلے کی حد مقرر کرتی ہے۔ روسی مرکزی بینک نے 11 ستمبر 2026 کو شرح سود 14 فیصد برقرار رکھتے ہوئے مہنگائی کے دباؤ کی نشان دہی کی۔ جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت اور شہریوں کی معاشی آسودگی الگ سوال ہیں۔

اسلحہ سازی روزگار پیدا کرتی ہے، لیکن اس کے لیے مختص وسائل شہری ضرورتوں پر خرچ نہیں ہو پاتے۔ ماسکو کو بالآخر یہ طے کرنا ہوگا کہ طویل عسکری مقابلے کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور شہری معیشت کی ترقی کیسے ممکن بنائے۔

چین اس مشکل میں روس کا اہم ترین سہارا ہے۔ چینی منڈی، صنعتی سامان اور مالی روابط نے مغربی پابندیوں کے اثرات محدود کرنے میں مدد دی ہے۔ مگر دونوں کا انحصار یکساں نہیں۔

چین کی عالمی تجارت میں روس کا حصہ محدود ہے جبکہ روس کے لیے چین کی اہمیت کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ اس عدم توازن سے ماسکو کی سودے بازی کی گنجائش متاثر ہو سکتی ہے۔ مغربی غلبے سے آزادی حاصل کرنے والا روس چینی ترجیحات کا زیادہ پابند بن جائے تو اس کی خود مختاری کا دعویٰ نئے امتحان سے گزرے گا۔

اسی لیے انڈیا اور دوسرے غیر مغربی ممالک کے ساتھ روابط روس کے لیے اہم رہتے ہیں۔ وسیع شراکت داریاں یک طرفہ انحصار گھٹاتی ہیں۔ برکس بھی اسی کوشش کو ادارہ جاتی جگہ دیتا ہے۔ اس کے 2025 کے اعلامیے میں مقامی کرنسیوں اور سرحد پار ادائیگیوں پر تعاون موجود ہے۔

ماسکو کے لیے ایسے انتظامات مالی پابندیوں سے بچاؤ کی گنجائش بڑھاتے ہیں، لیکن برکس کے تمام ارکان روس کی محاذ آرائی میں شریک نہیں۔ مالی تعاون کے مشترکہ مفادات کو متحد سیاسی یا عسکری محاذ سمجھنا اس تنظیم کی داخلی پیچیدگی کو نظر انداز کرنا ہو گا۔

روسی جوہری طاقت کو معاشی حجم سے نہیں ناپا جا سکتا۔ نومبر 2024 کی جوہری پالیسی نے بعض روایتی حملوں اور جوہری ریاست کی مدد سے ہونے والی جارحیت کو بھی اپنے حساب میں شامل کیا۔

اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ماسکو مغربی عسکری مداخلت کی ممکنہ قیمت بہت بلند رکھنا چاہتا ہے۔ لیکن یہ حکمت عملی غلط اندازوں کا خطرہ بھی بڑھاتی ہے۔ فریق جب ایک دوسرے کے عزم کو مسلسل آزمائیں تو محدود دباؤ ایسی کشیدگی پیدا کر سکتا ہے جو بے قابو ہو جائے۔

مشرق وسطیٰ میں روس کا رویہ اس کی ترجیحات کی حدود دکھاتا ہے۔ ایران کے ساتھ قربت کے باوجود 2026 کی جنگ کے آغاز پر ماسکو کی حمایت سفارتی سطح پر نمایاں رہی اور وہ امریکہ سے براہ راست جنگ میں نہیں اترا۔ یہ یوکرین کی ترجیح برقرار رہنے کا اشارہ ہے۔

توانائی کی بلند قیمتیں روس کو فائدہ دے سکتی ہیں، مگر پھیلتی علاقائی تباہی اس کے شراکت داروں اور تجارتی راستوں کے لیے خطرہ بھی ہے۔ روس ہر دوست کی سلامتی کی غیر مشروط ضمانت دینے کی صلاحیت اور آمادگی نہیں رکھتا۔

پاکستان کے لیے امکانات اور حدود دونوں ہیں۔ روس کے ساتھ توانائی، تجارت اور علاقائی رابطوں پر تعاون مفید ہو سکتا ہے، جن پر دو طرفہ مذاکرات جاری رہے ہیں۔ مگر کسی نئے عالمی محور کی جذباتی حمایت معاشی حکمت عملی کا متبادل نہیں۔

ہر منصوبے کو قیمت، ادائیگی، ترسیل اور عملی فائدے کی بنیاد پر جانچنا چاہیے۔ اسلام آباد کے لیے بہتر راستہ تعلقات میں تنوع اور اپنے فیصلوں کی آزادی ہے۔ روس سے قربت پاکستان کی معاشی ضرورتوں اور علاقائی استحکام کے لیے قابل پیمائش فائدے سے مشروط ہونی چاہیے۔

روسی قیادت کی سوچ میں عالمی مرتبے کی بحالی، سلامتی کا خوف اور طاقت کے استعمال پر اعتماد ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ وہ ایسی دنیا چاہتی ہے جس میں اس کے مفادات کو فیصلہ کن وزن حاصل ہو۔ اس خواہش کی کامیابی کا امتحان یہ ہوگا کہ ماسکو اپنے لیے مانگی جانے والی خود مختاری دوسروں کے لیے کتنی قبول کرتا ہے۔

پائیدار عالمی نظام کے لیے بڑی طاقتوں کی باہمی رضامندی کے ساتھ چھوٹی ریاستوں کا تحفظ بھی ضروری ہے۔ ان کے بغیر کثیر قطبی دنیا طاقت کے متعدد مراکز تو پیدا کرے گی، امن کی ضمانت نہیں۔

مصنف ایریا سٹڈی سینٹر برائے افریقہ، نارتھ و ساؤتھ امریکہ کے ڈائریکٹر ہیں۔ یہ تحریر ان کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *