صومالیہ: بیمار بیٹی کو اٹھا کر ماں کا تین دن تک پیدل سفر

حلیمہ عبداللہ ابراہیم اپنی تین سالہ بیٹی کو گود میں اٹھائے تین دن کا سفر کر کے صومالیہ میں اپنے گاؤں سے تقریباً 90 کلومیٹر دور ایک ہسپتال پہنچیں۔

بچی کا جسم سوج رہا تھا اور اسے علاج کی ضرورت تھی، جو گھر کے قریب دستیاب نہیں تھا۔

جب حلیمہ بالآخر کسمایو ریفرل ہسپتال پہنچیں تو ان کی بیٹی آشو حسن عبدی کو ایک خصوصی وارڈ میں لے جایا گیا۔

سفید دیواروں والے اس وارڈ میں لوہے کے پلنگ قطار سے لگے تھے، جن میں سے کچھ پر مچھر دانیاں تنی ہوئی تھیں۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ جائن یہاں کریں

حلیمہ نے جامنی کپڑے میں لپٹی آشو کو گود میں بٹھا رکھا تھا جبکہ ایک طبی کارکن اس کے پاؤں اور پنڈلیوں کا معائنہ کر رہا تھا۔

معائنے سے معلوم ہوا کہ بچی کے جسم میں پانی جمع ہونے سے سوجن ہے، جو شدید غذائی قلت کی ایک علامت ہے۔

آشو ملک بھر میں جاری غذائی بحران سے متاثرہ بچوں میں سے ایک ہے۔

غذائی تحفظ کی صورت حال کا جائزہ لینے والے ادارے آئی پی سی کے مطابق صومالیہ میں چھ ماہ سے تقریباً پانچ سال کی عمر کے لگ بھگ 19 لاکھ 20 ہزار بچے غذائی قلت کا شکار ہیں یا جون 2027 تک کے ایک سال کے دوران اس کا شکار ہو سکتے ہیں۔

ان بچوں کو علاج کی ضرورت ہے۔ ان میں چار لاکھ 33 ہزار بچے غذائی قلت کی انتہائی شدید حالت کا شکار ہو سکتے ہیں، جس میں جان جانے کا خطرہ سب سے زیادہ ہوتا ہے۔

صومالیہ میں غذائی قلت کے متوقع کیسز میں سے نصف سے زیادہ جنوبی علاقوں میں ہیں۔

یہاں لوگ بیماریوں کے پھیلاؤ اور خوراک کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں جب کہ علاج، صاف پانی اور صفائی کی سہولتوں تک ان کی رسائی بھی محدود ہے۔

ایل نینیو کے باعث متوقع سیلاب مزید خاندانوں کو بے گھر کر سکتے ہیں اور ان سہولتوں تک پہنچنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔

جوبالینڈ کے وزیر صحت اسماعیل گراس نے بتایا کہ جس ہسپتال میں آشو کا علاج ہو رہا تھا، وہاں اگست میں شدید غذائی قلت کے شکار 152 بچے داخل ہوئے، جن میں سے چار جان سے گئے۔

یہ بحران ایسے وقت میں شدت اختیار کر رہا ہے جب امدادی تنظیموں کے پاس اس سے نمٹنے کے لیے وسائل کم ہو گئے ہیں۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) نے اگست میں بتایا تھا کہ بڑھتی ہوئی ضرورت کے باوجود عالمی ادارہ خوراک صرف محدود امداد فراہم کر پا رہا ہے۔

صومالیہ کی یہ ہنگامی صورت حال دنیا بھر میں انسانی امداد کے لیے فنڈز میں کمی کی بھی عکاسی کرتی ہے، جس سے بھوک، بیماری اور غربت کے خلاف کوششیں کمزور پڑ رہی ہیں۔

صومالیہ میں بچوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف کی نمائندہ سینڈرا لطوف نے کہا کہ بچے غذائی قلت کے باعث جان سے جا رہے ہیں جبکہ خسرے سمیت دیگر بیماریاں یہ خطرہ مزید بڑھا رہی ہیں۔

سینڈرا لطوف نے کسمایو کے دورے کے دوران اے پی سے کہا ’ہمیں ان بچوں کے لیے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔‘

انہوں نے مقامی طبی کارکنوں، علاقائی رہنماؤں، سرکاری حکام اور امدادی تنظیموں کے درمیان زیادہ قریبی تعاون پر زور دیا۔

نقل مکانی اور سیلاب سے بحران مزید سنگین ہونے کا خطرہ

نقل مکانی اور امداد میں کمی کے اثرات کسمایو کے نواح میں واقع لگلو کی بستی میں واضح نظر آتے ہیں۔ ملک کے جنوب میں واقع اس بندرگاہی شہر کی آبادی ڈھائی لاکھ سے زیادہ ہے۔

بستی کی سرخ مٹی پر جگہ جگہ شاخیں موڑ کر اور پیوند لگی پلاسٹک کی چادروں سے بنائے گئے گنبد نما جھونپڑے کھڑے ہیں۔ ان کے درمیان زمین پر بنے گڑھوں میں گندا پانی جمع ہے۔

بستی کے غذائی مرکز میں مائیں چٹائیوں پر اپنے چھوٹے بچوں کو گود میں لیے بیٹھی ہیں جب کہ دورے پر آئے یونیسف کے وفد کے ارکان ان کے قریب بیٹھ کر ان سے بات کر رہے ہیں۔

جوبالینڈ میں پناہ گزینوں اور ملک کے اندر بے گھر ہونے والے افراد کے کمشنر علی عدن علی نے بتایا کہ امدادی تنظیموں کے پاس فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے بے گھر خاندانوں کو 2023 سے کوئی انسانی امداد نہیں ملی۔

علی نے کہا کہ ’جوبالینڈ میں بے گھر افراد کی موجودہ حالت انتہائی خراب ہے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے خبردار کیا کہ سیلاب دریائے جوبا کے کنارے رہنے والوں کو کسمایو کی طرف جانے پر مجبور کر سکتا ہے کیوں کہ یہ شہر اونچی زمین پر واقع ہے۔

اس سے بے گھر افراد کی بستیوں، غذائی مراکز اور ہسپتالوں پر مزید دباؤ پڑے گا۔

صومالیہ میں سویڈن کے سفیر ہانس ہینرک لنڈکوسٹ نے لطوف کے ساتھ لگلو کے غذائی مرکز کا دورہ کیا اور مقامی حکام، ماؤں اور بچوں سے ملاقات کی۔ انہوں نے کہا کہ فنڈز مسلسل کم ہو رہے ہیں، اس لیے امدادی اداروں کو مقامی لوگوں کے ساتھ مل کر زیادہ قریبی تعاون سے کام کرنا ہوگا۔

لنڈکوسٹ کے مطابق ’ہمیں لوگوں کو مشکلات کا مقابلہ کرنے کے قابل بنانا ہوگا، کیوں کہ دنیا بھر میں فنڈز کی کمی ہے۔ ہمیں پہلے سے زیادہ سمجھ داری سے کام کرنا ہوگا۔‘

حلیمہ کا سفر بتاتا ہے کہ یہ بحران ایک خاندان کے لیے کیا معنی رکھتا ہے۔

شدید غذائی قلت کے شکار بچے کے علاج میں غربت، طویل فاصلہ اور صحت کا ایسا نظام رکاوٹ بن سکتے ہیں جو بڑھتی ہوئی ضروریات اور کم ہوتی بین الاقوامی امداد کے باعث دباؤ میں ہے۔

ایسے میں علاج تک رسائی زندگی اور موت کا سوال بن سکتی ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *