پاکستان کے لیے سبق: خلیجی ممالک نے کیسے خوراکی تحفظ حاصل کیا؟

اگر پاکستان میں خوراک کے عدم تحفظ کی وجہ پوچھی جائے تو عموماً فوری جواب قلت کو قرار دیا جاتا ہے: نہ کافی زمین، نہ کافی پانی، نہ کافی اناج۔ مگر یہ قدرتی جواب غلط ہے اور خلیجی ممالک کے ساتھ موازنہ اس حقیقت کو واضح کر دیتا ہے۔

ہر وہ خلیجی ریاست جس نے اپنے خوراکی تحفظ کا مسئلہ حل کیا، تقریباً صفر سے آغاز کر رہی تھی: نہایت محدود قابلِ کاشت زمین، تازہ پانی نہ ہونے کے برابر اور خوراکی درآمدات پر 80 فیصد سے زیادہ انحصار۔ اس کے برعکس پاکستان کے پاس دریائے سندھ موجود ہے، جو دنیا کے سب سے بڑے آبپاشی نظاموں میں سے ایک ہے اور ایسی زرعی زمین بھی موجود ہے جو خلیج کی صحرائی معیشتوں کو کبھی حاصل نہیں تھی۔

بنیادی غذائی اجناس کے بیشتر شعبوں میں پاکستان پہلے ہی خالص خوراک پیدا کرنے والا ملک ہے۔ اس کے باوجود لاکھوں پاکستانی بدترین یا بحرانی درجے کے غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں، ایک ایسی صورت حال جس کی باضابطہ نشاندہی 2019 سے ہوتی آ رہی ہے۔ دوسری طرف تین صحرائی معیشتیں، جن کے پاس پاکستان کے قدرتی وسائل کا محض ایک حصہ تھا، ایک ایسے سفر سے گزریں جسے خلیج خود سادہ الفاظ میں بیان کرتی ہے: درآمد کنندگان پیدا کنندگان بن گئے اور پیدا کنندگان برآمد کنندگان بن گئے۔

یہ جغرافیے کی کہانی نہیں۔ یہ اس بات کی کہانی ہے کہ فصل کٹنے کے بعد کیا ہوتا ہے۔

قطر نے سب سے تیزی سے پیش رفت کی۔ 2017 میں خوراک کی رسد میں اچانک رکاوٹ کا سامنا کرنے کے بعد اس نے صرف چھ ماہ میں دودھ کی پیداوار میں 30 فیصد خود کفالت حاصل کر لی، اور 2019 تک مکمل خود کفالت تک پہنچ گیا۔ بعد ازاں اس نے پڑوسی منڈیوں کو برآمدات بھی شروع کر دیں۔ یہ سب دو برس میں ممکن ہوا، جس کے پیچھے ریاستی سرمایہ تھا جو فوری اور بڑے پیمانے پر استعمال کیا جا سکتا تھا۔

پاکستان نہ تو اس رفتار کا مقابلہ کر سکتا ہے اور نہ اسے اس کی ضرورت ہے کیونکہ پاکستان کا مسئلہ کبھی دودھ دینے والی گائیں کی تعداد نہیں رہا۔

سعودی عرب کا راستہ زیادہ سبق آموز ہے۔ اپنے غذائی استعمال کا تقریباً 80 فیصد درآمد کرنے والا سعودی عرب ویژن 2030 کے تحت تقریباً سات سال تک مسلسل اور غیر نمایاں مگر پائیدار سرمایہ کاری کرتا رہا۔ بغیر سود قرضے، سبسڈی والے زرعی وسائل اور مستقل معاونت کے ذریعے اس نے دودھ، انڈوں اور کھجوروں میں خود کفالت کی جانب پیش رفت کی، یہاں تک کہ نتائج سامنے آنے لگے۔

آج سعودی عرب اپنی ضرورت کے مقابلے میں 109 فیصد دودھ پیدا کر رہا ہے جبکہ انڈوں کی پیداوار بھی 100 فیصد سے کہیں زیادہ ہے۔ اضافی پیداوار برآمدی منڈیوں تک پہنچ رہی ہے جبکہ 2024 میں زرعی شعبے کی مجموعی قومی پیداوار 30 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح تک جا پہنچی۔

متحدہ عرب امارات کی ابتدائی صورت حال ان تینوں میں سب سے مشکل تھی: صرف ایک فیصد قابلِ کاشت زمین، 90 فیصد سے زیادہ درآمدی انحصار اور ایک دہائی میں 60 لاکھ نئے رہائشیوں کا اضافہ۔

زمین اور پانی کے سازگار ہونے کا انتظار کرنے کی بجائے اس نے ان امور پر توجہ دی جنہیں وہ خود کنٹرول کر سکتا تھا: وزیر اعظم کے دفتر میں فوڈ سکیورٹی آفس کا قیام، 18 غذائی زمروں کی نگرانی کرنے والا ڈیٹا بیس اور ابوظبی میں بڑے بندرگاہی مراکز کے قریب 3.3 مربع کلومیٹر پر محیط خوراکی تجارت اور لاجسٹکس کا مرکز۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان تینوں ممالک میں سے کوئی بھی جغرافیے کو بدل نہیں سکتا تھا مگر تینوں نے انتظامی رکاوٹوں کو ضرور عبور کر لیا۔

پاکستان کا مسئلہ بالکل اسی خلا میں موجود ہے جسے عبور کرنے کے لیے خلیجی ممالک کو ادارے قائم کرنا پڑے تھے، فرق صرف یہ ہے کہ پاکستان کو کبھی جغرافیائی رکاوٹ درپیش ہی نہیں تھی۔

اگر کھیت سے لے کر دسترخوان تک خوراک کے سفر کا جائزہ لیا جائے تو اس زنجیر کی سب سے مضبوط کڑی پیداوار ہے۔ اس کے بعد ہر مرحلہ کمزور ہوتا جاتا ہے۔

ملک کی تقریباً 60 فیصد گندم اب بھی کھیتوں میں بوریوں اور مٹی کے گوداموں میں ذخیرہ کی جاتی ہے، جہاں وہ نمی اور کیڑوں کے رحم و کرم پر ہوتی ہے۔ گندم کی ایک فصل کے لیے درکار ذخیرہ گاہوں کے مقابلے میں قومی ذخیرہ استعداد تین سے پانچ لاکھ ٹن کم ہے۔

جلد خراب ہونے والی فصلوں میں کٹائی کے بعد والا نقصان 20 سے 40 فیصد تک پہنچ جاتا ہے، جس سے سالانہ 1.3 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوتا ہے۔ پاکستان کی اپنی ایک صنعتی تنظیم نے اسے تکنیکی نہیں بلکہ ادارہ جاتی ناکامی قرار دیا ہے۔

مزید یہ کہ چونکہ بہت سے کسان اپنی فصل ذخیرہ رکھنے کی استطاعت نہیں رکھتے، اس لیے وہ فصل کٹتے ہی اسے فروخت کرنے پر مجبور ہوتے ہیں، یعنی سال کی سب سے کم قیمتوں پر۔

لاجسٹکس کا نظام اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیتا ہے۔ جس بنیادی ڈھانچے کے گرد خلیجی ممالک نے اپنی مکمل حکمت عملی مرتب کی، پاکستان وہاں الٹا سفر کرتا دکھائی دیتا ہے۔

ورلڈ بینک کے لاجسٹکس پرفارمنس انڈیکس میں پاکستان کی درجہ بندی 68 ویں نمبر سے گر کر 122 ویں نمبر تک پہنچ گئی اور 2023 تک وہ اس درجہ بندی سے مکمل طور پر خارج ہو گیا۔

بکھری ہوئی تھوک منڈیاں خوراک کے گھروں تک پہنچنے سے پہلے نقصان کی ایک اور تہہ کا اضافہ کرتی ہیں۔ یہ تمام مسائل قومی پیداوار کے اعداد و شمار میں قلت کی صورت میں ظاہر نہیں ہوتے۔ یہ اس خوراک کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں جو کہیں موجود تو ہوتی ہے مگر ان لوگوں تک نہیں پہنچتی جنہیں اس کی ضرورت ہوتی ہے۔

ان تمام مسائل کے نیچے سب سے گہرا اور شاید سب سے کم لاگت میں حل ہونے والا مسئلہ موجود ہے۔

پاکستان کا اپنا گھریلو سروے، PSLM/HIES، ایک ہی سوالنامے اور ایک ہی سال میں خاندانوں سے غذائی عدم تحفظ اور سکول میں حاضری دونوں کے بارے میں معلومات حاصل کرتا ہے۔ تاہم ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں معلومات کو ملا کر کوئی سرکاری تجزیہ کبھی شائع نہیں کیا گیا۔

نتیجتاً حکومت یہ نہیں جان سکتی کہ کون سے اضلاع بیک وقت بھوک اور تعلیمی بحران سے گزر رہے ہیں یا کہاں ذخیرہ کاری میں سرمایہ کاری یا ہدفی سماجی تحفظ کے اقدامات سب سے زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔

یہ وسائل کا مسئلہ نہیں بلکہ صرف ایک ایسے تجزیاتی سوال کا مسئلہ ہے جو کبھی چلایا ہی نہیں گیا، حالانکہ یہ ڈیٹا 2019 سے موجود ہے۔ اس بات کا ثبوت موجود ہے کہ ان دونوں مسائل کو ایک ساتھ دیکھنا مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔

بلوچستان میں ورلڈ فوڈ پروگرام کے تعاون سے چلنے والے سکول میلز پائلٹ منصوبے نے بھوک اور سکول حاضری کو ایک ہی مسئلہ سمجھ کر حل کرنے کی کوشش کی۔ صرف ایک سال میں داخلوں میں 45 فیصد اضافہ ہوا اور حاضری میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔

حکومت کے ’اڑان پاکستان‘ فریم ورک میں بھی متعلقہ ستون پہلے سے موجود ہیں۔ خوراک اور پانی کو ماحولیات کے تحت جبکہ تعلیم اور صحت کو مساوات، اخلاقیات اور بااختیاری کے تحت رکھا گیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے حکومتی منصوبے میں تقریباً ان ہی الفاظ میں ان شعبوں کو یکجا کرنے کی خواہش کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔

خلیجی ریاستوں نے ایسے جغرافیے کی کمی کو، جسے وہ کبھی تبدیل نہیں کر سکتی تھیں، اداروں اور سرمایہ کاری کے ذریعے پورا کیا اور درآمدی انحصار کو برآمدی صلاحیت میں بدل دیا۔

پاکستان کو جغرافیے کی کمی پوری کرنے کی ضرورت نہیں۔ اس کے پاس زمین ہے، پانی ہے اور فصل بھی۔

جو چیز موجود نہیں وہ نہ وژن ہے اور نہ خوراک۔

اصل کمی ایک ایسے دفتر کی ہے جسے وہی اختیار حاصل ہو جو متحدہ عرب امارات نے اپنے فوڈ سکیورٹی آفس کو دیا: ایسا اختیار جو خوراکی تحفظ اور اس کے بعد پیدا ہونے والے اثرات، ذخیرہ کاری سے لے کر سکول کی حاضری تک کو ایک مربوط تصویر کے طور پر دیکھ سکے، نہ کہ مختلف اور الگ الگ فائلوں کی صورت میں۔

پاکستان کے لیے ایسا ادارہ مؤثر ہونے کے لیے ضروری نہیں کہ وزیر اعظم کے دفتر کے اندر ہی قائم ہو۔ اسے صرف اتنا اختیار درکار ہوگا کہ وہ ان معلومات کو یکجا کر سکے جن کی پیمائش ملک پہلے ہی کر رہا ہے۔

مصنفہ سٹریٹیجی اینڈ ٹرانسفارمیشن کی ماہر ہیں، جو پالیسی اور ٹیکنالوجی پر کام کرتی ہیں اور ادارہ جاتی و معاشی اثرات پیدا کرنے کے لیے ڈیجیٹل تبدیلی اور تزویراتی شراکت داریوں کو فروغ دیتی ہیں۔ یہ تحریر ان کی رائے پر مبنی ہے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *