ٹرمپ ڈیموکریٹ امیدوار عبدالسید کو ’دہشت گردوں کا ہمدرد‘ کیوں کہتے ہیں؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشی گن سے سینیٹ کے مسلمان ڈیموکریٹ امیدوار عبدالسید کو ایک بار پھر سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

انہوں نے انہیں ناصرف ’انتہائی برا امیدوار‘ کہا بلکہ ’شدت پسند، انتہا پسند اور دہشت گردوں کا ہمدرد‘ بھی قرار دیا۔

ٹرمپ نے عبدالسید کے بارے میں ٹروتھ سوشل پر لکھا ’محمد کا تعلق جہاد کے زمانے سے جا ملتا ہے۔ وہ شدت پسند، انتہا پسند اور دہشت گردوں کے ہمدرد ہیں اور اپنے گہرے دوست، امریکہ سے نفرت کرنے والے حسن پائیکر سے بالکل مختلف نہیں۔ فرانس کا کیا حال ہے؟‘

ترقی پسند رہنما عبدالسید کا پورا نام عبدالرحمان محمد السید ہے۔ تاہم وہ عام طور پر عبدالسید ہی کے نام سے جانے جاتے ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

وہ ایک امریکی سیاست دان، معالج اور صحتِ عامہ کے ماہر ہیں جنہیں امریکی سیاست میں ایک ترقی پسند رہنما کے طور پر جانا جاتا ہے۔

وسط مدتی انتخابات میں اب ایک ماہ سے بھی کم وقت رہ گیا ہے اور سینیٹ کا کنٹرول داؤ پر لگا ہوا ہے۔ 

رائے عامہ کے جائزوں میں عبدالسید کو رپبلکن امیدوار مائیک راجرز پر برتری حاصل ہے لیکن دونوں کے درمیان مقابلہ سخت ہے۔

ڈیموکریٹس کو امید ہے کہ وہ نومبر میں کانگریس کے دونوں ایوانوں کا کنٹرول سنبھال لیں گے۔ ایسا ہونے کی صورت میں اپنی دوسری مدت صدارت کے آخری دو برسوں کے دوران قانون سازی کرانے کی ٹرمپ کی صلاحیت بہت محدود ہو جائے گی۔

اس وقت مشی گن کے دونوں سینیٹرز ڈیموکریٹ ہیں اور یہ نشست ہاتھ سے نکلنا پارٹی کے لیے ایک بڑا دھچکا ہوگا۔

ٹرمپ نے مزید کہا ’محمد کی اقدار نہ تو مشی گن کے لوگوں کی اقدار سے میل کھاتی ہیں اور نہ ہی ہمارے عظیم ملک امریکہ کی اقدار سے۔

’وہ مشی گن کے لیے موزوں نہیں اور امریکہ کے لیے بھی موزوں نہیں۔ مائیک راجرز کو ووٹ دیں۔ انہیں میری مکمل اور بھرپور حمایت حاصل ہے۔ وہ آپ کو کبھی مایوس نہیں کریں گے۔‘

امریکی اسلامی تعلقات کی کونسل نے اس سے پہلے ٹرمپ کی جانب سے عبدالسید کا پورا نام استعمال کرنے کو ’ایک سیاسی حربہ‘ قرار دیا۔

کونسل کے مشی گن چیپٹر کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر داؤد ولید نے کہا ٹرمپ جان بوجھ کر ان کا پورا نام، عبدالرحمان محمد السید، لے رہے ہیں تاکہ یہ تاثر دیا جا سکے کہ دیکھیے، یہ شخص اس امریکہ کا حصہ نہیں جسے ہم معمول کا امریکہ سمجھتے ہیں۔

’یہ ایک سیاسی حربہ ہے اور ہم پہلے بھی ایسا دیکھ چکے ہیں۔‘

15 اگست کو ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک میم شیئر کی جس میں دو تصاویر تھیں۔ ایک تصویر میں وہ خاتون اول میلانیا ٹرمپ کے ساتھ تھے جب کہ دوسری میں عبدالسید اپنی اہلیہ ڈاکٹر سارہ جوکاکو کے ساتھ تھے، جو حجاب پہنتی ہیں۔

تصویر کے ساتھ لکھا تھا ’دو بالکل مختلف امریکہ۔‘

سی این این پر گفتگو کرتے ہوئے عبدالسید نے جواب دیا ’جی ہاں، امریکہ کے بارے میں ہمارے دو مختلف تصورات ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا تصور وہ ہے جس میں آپ اس وقت زندگی گزار رہے ہیں۔

’کیا آپ پیٹرول خریدنے کی استطاعت رکھتے ہیں؟ کیا آپ راشن خرید سکتے ہیں؟

’اور حقیقت یہ ہے کہ سارہ اور میں ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں۔ خاتون اول اور صدر کے بارے میں تو میں نہیں جانتا لیکن جو کچھ میں نے سنا ہے، اس کے مطابق ان کے تعلقات کچھ زیادہ خوش گوار نہیں۔‘

مشی گن یونیورسٹی کی ماہرِ سیاسیات نازیتا لاجوردی نے این بی سی سے منسلک نشریاتی ادارے لوکل 4 کو بتایا ’صدر ٹرمپ یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ عبدالسید اور ان کی اہلیہ مسلمان ہونے کی وجہ سے اس ملک کے لیے اجنبی ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان تصاویر کو دیکھنے والے ہر شخص کو عبدالسید اور ان کی اہلیہ ایک خوش اور مطمئن جوڑا دکھائی دیتے ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ جن لوگوں کو اس قسم کی زبان کا نشانہ بنایا جاتا ہے، وہ بھی یہ پیغامات سن رہے ہوتے ہیں اور اس کے ان پر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

’ہماری تحقیق سے تو یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایسی زبان انہیں سیاست میں زیادہ سرگرم کر دیتی ہے۔‘

حسن پائیکر کون ہیں؟

عبدالسید کو بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے ٹوئچ سٹریمر حسن پائیکر کے ساتھ ماضی کے روابط پر تنقید کا سامنا رہا ہے۔

پائیکر اپنے تبصروں کی وجہ سے ڈیموکریٹس اور رپبلکنز، دونوں کی تنقید کی زد میں آ چکے ہیں۔

پائیکر نے 2019 کی ایک ویڈیو سٹریم میں کہا تھا کہ امریکہ نائن الیون کا حق دار تھا۔ تاہم بعد میں انہوں نے غیر واضح الفاظ کے استعمال پر معذرت کر لی تھی۔

وہ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ حماس اسرائیل سے ہزار گنا بہتر ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اگست میں پائیکر کو اس بیان پر ایک بار پھر شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑا کہ اگر امریکہ میں یہودی یہ تاثر دیتے رہے کہ ان کی تمام تر وابستگی صرف اسرائیل سے ہے تو بالآخر کوئی نہ کوئی اس کے خلاف کارروائی کرے گا اور یہ کارروائی اسرائیلی ریاست کے خلاف نہیں بلکہ امریکی یہودیوں کے خلاف ہوگی۔

قبل ازیں پارٹی امیدوار بننے کی مہم کے دوران عبدالسید نے مشی گن سٹیٹ یونیورسٹی اور مشی گن یونیورسٹی میں پائیکر کے ساتھ انتخابی مہم چلائی تھی۔

تین اگست کو ڈیٹرائٹ میں سوشل میڈیا انفلوئنسرز کے اعزاز میں منعقدہ ایک تقریب میں بھی دونوں کی تصویر لی گئی تھی۔ ان انفلوئنسرز نے عبدالسید کی انتخابی مہم کی حمایت کی تھی۔

اسی ماہ کے آخر میں عبدالسید نے کہا تھا کہ عام انتخابات کے لیے پائیکر کے ساتھ انتخابی مہم چلانے کا ان کا کوئی ارادہ نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انتخابی مقابلے کو لاس اینجلس کے ایک سٹریمر کے گرد گھمانے کی کوشش حقیقتاً مضحکہ خیز ہے۔

ٹرمپ نے اسلام اور بعض مسلمانوں کے بارے میں کئی متنازع بیانات دیے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے گذشتہ روز کہا کہ فرانس میں سکولوں کے باہر عملے کی کمی، گنجائش سے زیادہ طلبہ، کھچا کھچ بھری جماعتوں اور خستہ حال عمارتوں کے خلاف ہونے والے حالیہ احتجاج کا مقصد یہ ہے کہ اسلام ایک ایسے ملک پر قبضہ کرنا چاہتا ہے جو کبھی عظیم ہوا کرتا تھا۔

جنوری 2025 میں وائٹ ہاؤس واپس آنے کے بعد ٹرمپ نے 39 ملکوں کے شہریوں کے امریکہ میں داخلے پر پابندیاں عائد کیں، جن میں سے کئی مسلم اکثریتی ملک ہیں۔

اپنی پہلی مدت صدارت میں انہوں نے مسلمانوں کے امریکہ میں داخلے پر مکمل پابندی کا مطالبہ بھی کیا تھا، تاہم اس پالیسی پر کبھی پوری طرح عمل درآمد نہیں ہوا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *