نوبیل امن انعام 2026 جیتنے والی نوانیتھم پلے کون ہیں؟

جنوبی افریقہ کی 85 سالہ جج نوانیتھم ’ناوی‘ پلے نے جمعے کو نوبیل امن انعام جیت لیا۔

ناروے کی نوبیل کمیٹی کے مطابق انہیں یہ انعام ’امن اور بین الاقوامی قانون کے فروغ کے لیے ان کی کوششوں‘ کے اعتراف میں دیا گیا۔

نوبیل کمیٹی کا کہنا ہے کہ ناوی پلے نے ریاستوں اور قومی رہنماؤں کو ان کے اقدامات کا جواب دہ ٹھہرایا، تشدد اور تنازعات کے متاثرین کے لیے امید پیدا کی اور اپنے طویل کیریئر کے دوران مضبوط اخلاقی اصولوں کا مظاہرہ کیا۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

کمیٹی کے مطابق ’نیلسن منڈیلا اور اپارتھائیڈ کے خلاف آواز اٹھانے والے دیگر افراد کا دفاع کرنے سے لے کر ہمارے دور کے بعض اہم بین الاقوامی عدالتی مقدمات میں جج کی حیثیت سے خدمات انجام دینے تک، ناوی پلّے کے پورے کیریئر میں ایک مشترکہ مقصد نمایاں رہا ہے۔‘

ناوی پلے مقبوضہ فلسطینی علاقے سے متعلق اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن کی سربراہ بھی رہ چکی ہیں۔

اس کمیشن نے گذشتہ سال اپنی رپورٹ میں نتیجہ اخذ کیا تھا کہ اسرائیل نے غزہ میں نسل کشی کی۔ اسرائیل نے رپورٹ کو ’شرم ناک‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا۔

اس ہفتے ادب، کیمیا، طبیعیات اور طب کے شعبوں میں انعامات کے بعد نوبیل امن انعام پانچواں نوبیل انعام ہے۔

2025 میں وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچاڈو نے نوبیل امن انعام جیتا تھا۔

نوبیل امن انعام کی مالیت 12 ملین سویڈش کراؤن، یعنی تقریباً 12 لاکھ امریکی ڈالر ہے۔ یہ انعام 10 دسمبر کو ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں دیا جائے گا۔

یہ تاریخ سویڈش صنعت کار الفریڈ نوبیل کی برسی ہے، جنہوں نے 1895 میں اپنی وصیت کے ذریعے ان انعامات کی بنیاد رکھی تھی۔

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق کا خیرمقدم

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق نے جمعے کو ناوی پلے کو نوبیل امن انعام ملنے کا خیرمقدم کرتے ہوئے انسانی حقوق کے لیے ان کی طویل جدوجہد کو سراہا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جنیوا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق کی ترجمان شبیا مانٹو نے کہا ’حیرت انگیز خبر ہے۔ ہمیں انسانی حقوق کے لیے مزید لگن اور عزم کی ضرورت ہے۔‘

شبیا مانٹو نے کہا ’ہمیں امید ہے یہ اعزاز دنیا بھر میں تمام انسانوں کے انسانی حقوق کے تحفظ اور فروغ کے لیے آواز اٹھانے والے دیگر افراد کی حوصلہ افزائی کرتا رہے گا اور انہیں اس جدوجہد کے لیے تحریک دے گا۔‘

نوبیل کمیٹی کو اس سال کے امن انعام کے لیے 287 امیدواروں کی نامزدگیاں موصول ہوئیں، جن میں ایک چوتھائی سے کچھ زیادہ نامزدگیاں مختلف تنظیموں کی ہیں۔

ماہرین کے مطابق کمیٹی عام طور پر امن کے دیرپا قیام، بین الاقوامی بھائی چارے کے فروغ اور ان مقاصد کو مضبوط بنانے کے لیے اداروں کی خاموش مگر مسلسل کوششوں کو اہمیت دیتی ہے۔

گذشتہ سال جنوبی امریکہ کے ملک وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچاڈو نے جمہوری انتقالِ اقتدار کی جدوجہد پر نوبیل امن انعام جیتا تھا۔

انہیں ایسی خاتون قرار دے کر سراہا گیا تھا جو ’بڑھتی ہوئی تاریکی کے درمیان جمہوریت کی شمع روشن رکھے ہوئے ہیں۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *