تحریک انصاف کے ساتھ یہ کیوں ہو رہا ہے؟

آنکھوں میں گیانی فاختاؤں جیسی حیرت اور لہجوں میں سونامی جیسی تندی لا کر دوست سوال پوچھتے ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے۔

 یہ سوال اس سادگی اور خلط مبحث کا کشتہ فولاد ہے، جس نے ہماری سیاست کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔

 منیر نیازی نے کہا تھا: ’کچھ شہر دے لوگ وی ظالم سن، کچھ سانوں مرن دا شوق وی سی۔‘

 تحریک انصاف کا معاملہ یہ ہے کہ شہر والوں کے لطف و کرم سے زیادہ یہ اپنے شوق کے ہاتھوں گھائل ہوئی پڑی ہے۔  بالکل ایسے ہی جیسے کوئی درویش اپنے ہی تصرف میں ڈوب جائے۔ 

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

ایسا نہیں ہے کہ تحریک انصاف کی ساری باتیں غلط  ہیں۔ اس کے وابستگان کے سارے گلے شکوے بھی بے بنیاد نہیں لیکن معاملہ یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں جب سیاسی بصیرت کی بجائے عشق و جنون کو اپنی قوت بنا لیتی ہیں تو وہ بند گلی میں داخل ہو جاتی ہیں۔ تحریک انصاف کے ساتھ یہ ہی ہوا ہے۔

ایک عدم اعتماد ہی تو تھی، قیامت تو نہیں آ گئی تھی۔ اس سے پہلے تو لوگوں کو عدالتوں سے تاحیات نااہل کر کے بھی نکالا جاتا رہا اور اس پر لڈو کھاتے جاتے رہے۔ کئی دفعہ توعدالتی تکلف کے بغیر بھی یہ کام ہوتے رہے۔ ان کی بار تو ہر ایک آئینی اور پارلیمانی تقاضا پورا کر کے ان کو رخصت کیا گیا۔

اس پر ان کا ردعمل سیاسی نہیں تھا۔ یہ ہیجان اور غم و غصے میں ڈوبا ہوا تھا۔ جن کا نام کل تک اپنے سیاسی خانہ ولدیت میں لکھا جاتا رہا، انہیں اچانک میر جعفر قرار دیا جانے لگا۔ اصل غصہ قانون یا آئین کا نہیں تھا، اصل غصہ یہ تھا کہ جیسے پہلے ہماری سرپرستی کی جاتی رہی ویسے اب کیوں نہیں کی جا رہی۔

ناراضی یہ تھی کہ ہمیں ہمیشہ اقتدار میں رکھنے کے لیے باقیوں کو پہلے کی طرح کیوں نہیں ہانکا جا رہا۔ برہمی یہ تھی کہ عدم اعتماد کو اسی قوت سے ناکام کیوں جا رہا ہے، جس قوت سے ہماری ناز برداریاں کی جاتی رہیں۔ نا گزیریت پر مبنی اس رویے نے مسائل الجھا دیے۔

انہیں اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی کردار کا مسئلہ نہیں تھا، اس کا تو یہ ہاتھ پکڑ کر اقتدار میں آئے تھے۔ مسئلہ یہ تھا کہ یہ تمام اداروں اور شخصیات سے ان کا مطالبہ یہ تھا کہ وہ تحریک انصاف کے مفاد میں کام کریں کیونکہ وہی حق اور سچ کا استعارہ ہے۔ جو ان کا ساتھ نہ دے وہ تو حق سے دور ہو گیا اور غیرجانبدار تو جانور ہوتا ہے۔

جنرل فیض حمید کے خلاف تو انہوں نے کبھی بھول کر بھی ایک بیان نہ دیا اور دوسرے افسران کے خلاف انہوں نے دشنام کی کوئی ایسی حد نہیں ہے جو عبور نہ کر دی۔

ایک سیاسی جماعت کو عدم اعتماد کی اس رنجش سے آگے بڑھ جانا چاہیے تھا۔ عدم اعتماد ہو گئی تھی، لیکن راستے سارے اب بھی کھلے تھے۔ سیاسی جماعتوں سے رابطے ہوتے اور سیاسی حکمت عملی سے کام لیا جاتا تو بند گلی میں سے راستے نکل آنے تھے۔

اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی کردار کی نفی مقصود تھی تو یہ کام ارتقائی انداز سے اہل سیاست سے مل کر ہی ہو سکتا تھا لیکن تحریک انصاف سے سیاسی لوگوں کو چور اچکا قرار دے کر ان سے مذاکرات کرنے سے ہی انکار کر دیا۔

ان کا اصرار تھا کہ ہم بے اختیار حکومت سے بات نہیں کریں گے، ہم بااختیار قوت سے مذاکرات کریں گے۔ یعنی میر نے دوا لینی تھی مگر اسی عطار سے لینی تھی۔

عمران خان کی گرفتاری کا مسئلہ پیدا ہوا۔ یہ بھی کوئی ایسی قیامت نہ تھی جیسی بنا دی گئی۔ سیاسی لوگ گرفتار بھی ہوتے ہیں اور پھر ضمانت پر رہا بھی ہو جاتے ہیں۔ یہاں گرفتاری کی کوشش کو اغوا کا نام دے کر جس طریقے سے جتھے بنا کر زمان پارک میں مورچے لگائے گئے، یہ سیاسی جماعت کا طرزِ عمل نہیں تھا۔ 

اس کے بعد 9 مئی کو جو کچھ کیا گیا، یہ بھی بہت بڑی غلطی تھی۔ یہ سیاسی احتجاج نہیں تھا، یہ کچھ اور تھا۔ یہ ملک میں خانہ جنگی کی سی کیفیت پیدا کرنے کی کوشش تھی۔ سیاسی جماعتیں  ایسے رویے کا مظاہرہ نہیں کرتیں۔ 

آرمی چیف کی تعیناتی کے موقعے پر سڑکوں پر آنے کا اعلان بھی غیر منطقی اور غیر حکیمانہ کام تھا۔ بار بار احتجاج  اور شہروں کو بند کرنا بھی سیاسی رویہ نہیں تھا۔ اقتدار سے محرومی پر آئے روز نظامِ زندگی ہی درہم برہم کر دینا کوئی سماج اور ریاست کب تک گوارا کر سکتی ہے۔ 

حکومت کی مخالفت کی جانی چاہیے تھی کہ یہ حزب اختلاف کا کام ہوتا ہے لیکن یہاں حکومت کی مخالفت اور ریاست کی مخالفت کے فرق سے بے نیازی برتی گئی۔ معاشی مسائل سے لے کر دہشت گردی تک جہاں جہاں ریاست مسائل میں گھری، تحریک انصاف کا رویہ عدم تعاون والا رہا۔

سیاست جیو اور جینے دو کا نام ہوتا ہے۔ یہاں دوسروں کو برداشت کرنا ہوتا ہے۔ تحریک انصاف سے غلطی یہ ہوئی کہ اس نے خود کو ناگزیر سمجھ لیا اور اپنے سوا باقی سب کے بارے میں اس کا خیال یہ تھا کہ یہ بلاوجہ ہی پیدا ہو گئے ہیں۔

معاملہ اب یہ نہیں کہ پی ٹی آئی غلط ہے اور باقی سب ٹھیک ہیں۔ یقیناً ایسا نہیں تھا کہ کہ مسلم لیگ اور پی پی پی والے کوئی بہت اچھے ہوں اور پی ٹی آئی بہت بری ہو۔ معاملہ یہ تھا کہ پی ٹی آئی کا رویہ سیاسی نہیں تھا۔ یہ رویہ خوفناک تھا۔ سماج کے لیے بھی، سیاست کے لیے بھی، ملک کے لیے بھی۔

محسوس یہ ہوتا ہے کہ ایک وقت آیا، پھر اس رویے سے نمٹنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کے بعد جو ہوا اور ہو رہا ہے وہ اسی رویے کا جواب آں غزل ہے۔

 تحریک انصاف کے دوست سوال پوچھتے ہیں کہ ہمارے ساتھ یہ اور یہ کیوں ہو رہا ہے۔ جو بات وہ بھول جاتے ہیں وہ یہ ہے کہ جو ان کے ساتھ ہو رہا ہے یہ نہلا نہیں ہے، یہ ان کے نہلے کے جواب میں آنے والا دہلا ہے۔ یہ ایسا نہیں ہے، یہ ایسے کو تیسا ہے۔

 یہ مطلع نہیں ہے یہ مقطع ہے۔ یہ سیر نہیں ہے، یہ سیر کو سوا سیر ہے۔ یہ تنگ آمد نہیں، یہ بجنگ آمد ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 آپ اس سے اتفاق کریں یا اختلاف لیکن زمینی حقائق ایسے ہی ترتیب پاتے ہیں۔ ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے۔ دائمی احتجاج اور انتشار کی کیفیت کا نام سیاست نہیں ہے۔

یہ وہ بات ہے جو تحریک انصاف کو سمجھنی چاہیے۔ اس نے احتجاج کو نکتہ عروج  پر لے جا کر دیکھ لیا، اسے کچھ حاصل نہیں ہوا۔ عمران خان کی گرفتاری سے روکنے کے لیے جو تحریک چلی تھی، وہ اب یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ ان کا علاج فلاں ہسپتال سے کروا دیجیے۔

 اس احتجاجی سیاست نے پسپائی کے سوا کیا دیا؟ معاملات سیاسی انداز سے چلائے جاتے تو شاید یہ مسائل کب کے حل ہو چکے ہوتے۔

یو ٹیوبرز اور سوشل میڈیا پر برپا سونامی بھی کچھ نہ رک سکا اور وکلا بھی جمع کر کے دیکھ لیے کچھ نہیں ہوا۔ وکلا خود تو اسمبلیوں میں پہنچ گئے، عمران خان صاحب رہا نہ ہو سکے۔

یوٹیوبرز نے ریٹنگ کے گھوڑے دوڑا کر مالی امکانات پیدا کر لیے لیکن پارٹی کو کیا ملا؟ ہر مِس ایڈونچر کے بعد وہ سمٹتی چلی جا رہی ہے۔ سیاسی کارکن جنگجو نہیں ہوتا۔ نہ ہی وہ ہر وقت اس کیفیت میں رہ سکتا ہے۔ 

اب تحریک انصاف کو اپنی سیاسی بصیرت سے کام لینا چاہیے۔ یہ ملک کی ایک بڑی جماعت ہے اور سیاسی جماعت سے کسی کو سو اختلاف ہوں، وہ ملک کے لیے خیر کی قوت ہوتی ہے۔ تحریک نصاف کو صرف اتنا کرنا ہے کہ ایک سیاسی جماعت کے طور پر بروئے کار آنا ہے۔

یوٹیوبرز اور شعلہ بیان پیراشوٹرز کی بجائے اپنی پالیسی خود بیٹھ کر بنانا ہے۔ ہیجان کی بجائے تحمل اور سیاسی بصیرت سے کام لینا ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا تحریک انصاف یہ بھاری پتھر اٹھا پائے گی؟

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *