خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں منگل کو الگ الگ حملوں میں مسلح افراد نے تین سرکاری اہلکاروں اور دو شہریوں کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔
یہ واقعات افغانستان سے متصل خطے میں عسکریت پسندوں کے تشدد میں اضافے کے دوران پیش آئے ہیں۔
زیادہ ہلاکت خیز حملہ یونیورسٹی روڈ پر بھٹی پمپ کے قریب ہوا جہاں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کی۔
واقعے میں وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے دو اہلکاروں اور دو شہریوں سمیت چار افراد جان سے گئے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق اس کے کنٹرول روم کو صبح 11 بج کر 40 منٹ پر مذکورہ مقام پر کسٹمز اہلکاروں پر حملے کی اطلاع موصول ہوئی، جس کے بعد ہنگامی امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر روانہ کی گئیں۔
ریسکیو سروس نے ایک بیان میں کہا کہ اہلکاروں کو جائے وقوعہ سے چار افراد کی لاشیں ملیں اور انہیں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز (ڈی ایچ کیو) ہسپتال ڈیرہ اسماعیل خان منتقل کیا گیا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
منگل کو ہی اس سے قبل ضلع میں بائی پاس پر نامعلوم مسلح افراد نے ہائی وے پولیس کی ایک پولیس موبائل وین پر فائرنگ کی۔
عرب نیوز کو فراہم کردہ معلومات کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں گاڑی کا ڈرائیور جان سے گیا جبکہ گشت پر مامور انچارج افسر اور ایک اور پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔
پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دونوں مقامات کو گھیرے میں لے کر شواہد جمع کیے اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کر دی۔ فوری طور پر کسی گروپ نے دونوں حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
یہ واقعات ڈیرہ اسماعیل خان میں حالیہ تشدد کا تازہ سلسلہ ہیں۔ خیبر پختونخوا کا یہ ضلع پاکستان میں عسکریت پسندوں، بالخصوص تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، کے خلاف جاری کارروائیوں میں اہم مرکز بن چکا ہے۔
پاکستانی سکیورٹی فورسز نے بتایا کہ پیر کو ضلع میں انٹیلی جنس بنیادوں پر کی گئی کارروائی میں تین عسکریت پسندوں کو مارا گیا، جبکہ اس سے ایک روز قبل حکام نے آٹھ دیگر عسکریت پسندوں کو مارنے کی اطلاع دی تھی، جن میں تین کمانڈر بھی شامل تھے۔
