یمنی صدر رشاد محمد العلیمی نے اتوار کو حوثیوں کے زیرِ قبضہ ملک کے باقی ماندہ علاقوں کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے فوجی آپریشن شروع کرنے کا اعلان کر دیا۔
رشاد محمد العلیمی نے کہا ہے کہ ’آج ہم اپنی قوم کی تاریخ کے ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔‘
عرب نیوز کے مطابق یمنی صدر نے کہا کہ ریاست نے امن کا راستہ اختیار کرنے میں ’بڑی قربانیاں‘ دی ہیں۔
ان کا ہنا تھا کہ فوجی کارروائیوں کا مقصد حوثیوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں شہریوں کے لیے امن، حقوق اور وقار بحال کرنا ہے، جبکہ ان علاقوں کے رہائشی فوجی کارروائیوں کا ہدف نہیں ہوں گے۔
العلیمی نے حوثیوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں کے رہائشیوں پر زور دیا کہ وہ ملیشیا کے اجتماعات سے دور رہیں اور اپنے بچوں کو لڑائی میں شامل ہونے سے محفوظ رکھیں۔
انہوں نے مزید کہا: ’جن فوجی کارروائیوں کا ہم آغاز کرنے جا رہے ہیں وہ صنعا، حدیدہ اور صعدہ میں اپنے عوام کے خلاف جنگ نہیں ہے۔ یہ کسی فرقے یا قبیلے کے خلاف جنگ بھی نہیں ہے۔‘
یمنی صدر نے کہا کہ ریاست کی جانب سے دوبارہ حاصل کیے جانے والے ہر شہر میں استحکام، بحالی اور تعمیر نو کا مرحلہ شروع ہوگا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ان کے مطابق جنگ کی کامیابی کا اندازہ اس بات سے لگایا جائے گا کہ کتنے شہری دوبارہ خود کو محفوظ محسوس کرنے لگے ہیں۔
العلیمی نے عالمی برادری میں یمن کے ’بھائیوں اور دوستوں‘ سے بھی ملک کا ساتھ دینے کی اپیل کی۔
انہوں نے کہا کہ یمن سعودی عرب کو مشترکہ مستقبل اور سلامتی میں ایک حقیقی شراکت دار سمجھتا رہے گا، جبکہ سعودی قیادت اور عوام کی حمایت پر گہری تشکر کا اظہار کیا۔
بعد ازاں اتوار کو یمنی مسلح افواج کے سرکاری ترجمان کرنل ماجد النزیلی نے کہا کہ فوجی کارروائیوں کا مقصد ’یمنی عوام کی مشکلات کا خاتمہ‘ اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ’آئین اور قانون کی حکمرانی کے سوا کوئی اختیار غالب نہ آئے۔‘
النزیلی نے کہا کہ مسلح افواج ریاست اور اس کے شہریوں کے اپنے تمام حقوق واپس حاصل کرنے اور باوقار زندگی گزارنے کے بنیادی حق کی حمایت کرتی ہیں، تاہم وہ تمام علاقوں اور گورنریٹس میں شہریوں کی جانوں کے تحفظ اور انہیں کسی بھی نقصان سے بچانے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہیں۔
انہوں نے حوثیوں سے منحرف ہونے والے جنگجوؤں کے لیے عام معافی کا بھی اعلان کیا اور یمن میں قانونی حکومت کی بحالی کے لیے قائم اتحاد میں شامل ممالک کے مؤقف کو سراہا۔
