ماسکو فارمیٹ: کیا علاقائی سفارت کاری پاک افغان کشیدگی کم کرسکتی ہے؟

رابطوں کا منقطع ہونا، سفارتی تعطل اور اس کے نتیجے میں بڑھتے ہوئے جان لیوا حملے جن میں بڑی تعداد میں اموات اس امر کا ثبوت ہیں کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات آج ایک خطرناک موڑ پر پہنچ چکے ہیں۔

چین کی میزبانی میں اس سال اپریل میں ارومچی میں فریقین کے درمیان مذاکرات کے بعد بظاہر دونوں ممالک کے سفارتی رابطے تعطل کا شکار ہیں۔ ایسے میں ماسکو فارمیٹ برائے افغانستان کی مشاورت کا آٹھواں اجلاس 5 اکتوبر 2026 کو روس میں منعقد ہو رہا ہے۔ تو کیا کسی پیش رفت کی توقع کی جاسکتی ہے؟ غالب جواب ہے: نہیں۔

اجلاس سے دو روز قبل اس اجلاس کے میزبان روس کے کابل میں سفارت خانے نے ایکس پر بیان میں پاکستان اور روس کے درمیان بڑھتی عسکری کشیدگی، خصوصا بقول اس کے عام شہریوں کو پہنچنے والے نقصانات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس موقع پر اس طرح کا بیان اجلاس میں شریک فریقین پر واضح کرتا ہے کہ ان کا میزبان اس صورت حال سے خوش نہیں۔

روسی حکام کے مطابق اجلاس میں افغانستان، پاکستان، چین، انڈیا، ایران، روس اور وسطی ایشیائی ممالک کے نمائندے شرکت کریں گے جبکہ مصر اور بیلاروس بطور مہمان موجود ہوں گے۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف افتتاحی خطاب کریں گے اور طالبان وفد کی قیادت امیر خان متقی کریں گے۔

پاکستان کی اجلاس میں نمائندگی افغانستان کے لیے خصوصی نمائندے صادق خان کریں گے جبکہ افغانستان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی اپنے ملک کی نمائندگی کریں گے۔ اطلاعات کے مطابق دونوں کے درمیان کوئی ملاقات ابھی طے نہیں ہے لیکن اس کے امکان کو رد بھی نہیں کیا جاسکتا ہے۔

محض ایک سفارتی اجلاس نہیں

ماسکو فارمیٹ 2016 میں افغانستان سے متعلق علاقائی ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ وقت کے ساتھ یہ افغانستان کے مستقبل پر مغربی طاقتوں کی بجائے علاقائی ممالک کے براہ راست تبادلہ خیال کا فورم بن گیا ہے۔

اس اجلاس کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کیونکہ پاکستان اور طالبان حکومت کی کشیدگی کے درمیان کالعدم تحریک طالبان پاکستان، داعش خراسان اور دیگر شدت پسند گروہوں کی بڑھتی سرگرمیاں تشویش کا باعث ہیں۔

روس گذشتہ چند برسوں میں افغانستان پالیسی میں زیادہ فعال نظر آیا ہے۔ وہ واحد ملک ہے جس نے طالبان حکومت کو تسلیم کیا ہے اور ماسکو کا مؤقف یہ ہے کہ طالبان کو مکمل طور پر الگ تھلگ رکھنے کی حکمت عملی ناکام ہو چکی ہے اور افغانستان کے مسائل کا حل عملی روابط اور علاقائی تعاون میں پوشیدہ ہے۔

اس کی حکمت عملی تین بنیادوں پر کھڑی ہے: افغانستان سے وسطی ایشیا کو درپیش دہشت گردی کے خطرات کو کم کرنا، علاقائی تجارت اور اقتصادی روابط کو فروغ دینا اور افغانستان کے معاملے میں مغربی اثرورسوخ کے مقابلے میں علاقائی کردار کو مضبوط بنانا۔

افغانستان کی حکومت بظاہر تو دیگر ممالک خصوصا روس کے ساتھ اقتصادی تعاون میں دلچسپی رکھتی ہے لیکن پس پردہ وہ دفاعی تعاون میں زیادہ سنجیدہ ہے۔ افغانستان کی وزارت دفاع کا ایک اعلیٰ سطحی وفد بطور مبصر یا مہمان وفد روس کی سینٹر 2026 عسکری مشقتوں میں شریک ہوا تھا۔ اس وفد کی قیادت طالبان اہلکار مولوی نصیب اللہ مدنی کر رہے تھے۔ وفد نے مشقوں کا مشاہدہ کیا، روسی فوجی سازوسامان کی نمائش دیکھی اور مختلف ممالک کے فوجی نمائندوں سے ملاقاتیں بھی کیں۔

بعض رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ طالبان وفد نے چین، انڈیا، ازبکستان، تاجکستان اور دیگر ممالک کے نمائندوں کے ساتھ بھی اس موقع پر تبادلہ خیال کیا۔ 28 ستمبر سے 3 اکتوبر 2026 تک یہ مشقیں روس کے سینٹرل ملٹری ڈسٹرکٹ کے متعدد تربیتی مراکز اور بحیرہ کیسپین میں ہوئیں جن میں پاکستان نے بھی حصہ لیا۔ ایسی اطلاعات ہیں جو پاکستان کے لیے بھی قابل تشویش ہوسکتی ہیں کہ افغان طالبان نئی جنگی ٹیکنالوجی جیسے کہ ’خودکش‘ ڈرون اور تربیت کے خواہاں ہیں۔

مبصرین کے مطابق پاک افغان کشیدگی سے سب سے زیادہ فائدہ انڈیا اٹھا رہا ہے۔ نئی دہلی نے طالبان کے زیرِ اقتدار افغانستان کے ساتھ، حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کیے بغیر، بتدریج اپنے تعلقات دوبارہ استوار کیے ہیں۔

ایک دوسری بڑی تبدیلی افغانستان کے اندر طالبان مخالف مسلح گروہوں کی سرگرمیوں میں ایک بار پھر اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ جولائی میں سپاہیانِ میہن نامی گروہ نے مختصر وقت کے لیے بدخشاں کے علاقے یفتلِ پایین کے انتظامی مرکز پر قبضہ کر لیا، جبکہ افغانستان فریڈم فرنٹ نے زیبک میں طالبان فورسز کے خلاف مسلسل لڑائی جاری رکھی۔ حالیہ ہفتوں میں نورستان میں بھی جھڑپوں میں نمایاں شدت دیکھی گئی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض طالبان مخالف گروہ دوبارہ منظم ہونے اور اپنی موجودگی کا احساس دلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ایسے میں پاکستان کے لیے یہ اجلاس غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسلام آباد کا سب سے بڑا خدشہ افغان سرزمین سے سرگرم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) ہے۔ پاکستان مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ افغانستان میں موجود شدت پسند عناصر براہ راست پاکستان کے امن و امان پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ اسی لیے امکان ہے کہ پاکستان اجلاس میں انسدادِ دہشت گردی کے معاملے کو سب سے زیادہ زور سے اٹھائے گا۔

اسلام آباد شاید ایسا راستہ تلاش کرنا چاہے گا جس میں طالبان حکومت کے ساتھ رابطے بھی برقرار رہیں اور سکیورٹی خدشات کا حل بھی نکلے۔

روس پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ اجلاس میں دہشت گردی اور منشیات کی سمگلنگ کے خلاف علاقائی تعاون پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تقریباً تمام شریک ممالک افغانستان کے حوالے سے سکیورٹی خدشات رکھتے ہیں، اگرچہ ان کی نوعیت مختلف ہے: روس کو وسطی ایشیا میں انتہا پسندوں کے پھیلاؤ کا خوف ہے، چین سنکیانگ اور اپنے علاقائی اقتصادی منصوبوں کے تناظر میں افغانستان کو دیکھتا ہے، ایران سرحدی سلامتی اور فرقہ وارانہ شدت پسندی کے بارے میں فکر مند ہے جبکہ وسطی ایشیائی ممالک اپنی سرحدوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دیتے ہیں۔

اسی مشترکہ تشویش نے ان ممالک کو ایک میز پر لا کھڑا کیا ہے۔

اگرچہ اجلاس میں سکیورٹی موضوع غالب رہے گا، مگر اصل کامیابی کا دارومدار اقتصادی تعاون پر ہو سکتا ہے۔ افغانستان کی معیشت ابھی بھی پابندیوں، محدود مالی وسائل اور کمزور بین الاقوامی سرمایہ کاری کے باعث مشکلات کا شکار ہے۔ پاکستان کے ساتھ سرحدوں کی تقریبا ایک سال سے بندش بھی دنوں ممالک کو اقتصادی نقصان پہنچا رہی ہے۔ اگرچہ دونوں اس کا اعتراف نہیں کرتے۔ خطے کے دیگر ممالک سمجھتے ہیں کہ اگر افغانستان کو اقتصادی طور پر سہارا نہ ملا تو وہاں عدم استحکام مزید بڑھ سکتا ہے۔

اسی لیے امکان ہے کہ اجلاس میں علاقائی تجارت، توانائی منصوبوں، ٹرانزٹ راہداریوں، سرمایہ کاری اور علاقائی رابطہ کاری پر بھی تفصیلی بات چیت ہوگی۔

حقیقت یہ ہے کہ افغانستان سے متعلق بیشتر بین الاقوامی اجلاسوں کے بعد اعلامیے تو جاری ہوتے ہیں لیکن زمینی حقائق کم ہی تبدیل ہوتے ہیں۔

ماسکو فارمیٹ کو بھی کئی چیلنجز درپیش ہیں طالبان حکومت کی بین الاقوامی حیثیت پر اختلافات، مختلف ممالک کے متضاد سکیورٹی مفادات اور فیصلوں پر عمل درآمد کے مؤثر میکانزم کی کمی۔

اس کے باوجود اس فورم کی اہمیت اس لیے برقرار ہے کیونکہ تمام علاقائی ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ افغانستان کے دوبارہ شدید عدم استحکام کا شکار ہونے کی قیمت پورا خطہ ادا کرے گا۔

پاکستان کے لیے ممکنہ نتائج

پاکستانی نقطہ نظر سے اس اجلاس کے تین ممکنہ نتائج اہم ہوں گے، ایک یہ کہ دہشت گردی پر مشترکہ مؤقف سامنے آئے، اگر اعلامیے میں افغان سرزمین کو دوسرے ممالک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے پر واضح زور دیا گیا تو یہ پاکستان کی سفارتی کامیابی ہوگی۔

دو، روس پہلے ہی دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کم کرنے میں دلچسپی ظاہر کر چکا ہے۔ اجلاس پسِ پردہ سفارت کاری کے لیے بھی موقع فراہم کر سکتا ہے اور تین، افغانستان وسطی ایشیا تک پاکستانی رسائی، تجارتی راہداریوں اور توانائی منصوبوں کے لیے ناگزیر ہے۔ سرحد کھولنے کے بارے میں اب تک تو اسلام آباد نے کوئی اشارہ نہیں دیا ہے لیکن اس بارے میں اگر اجلاس میں کوئی پیش رفت ہوتی ہے تو اہم ہوگی۔

پاکستان کے لیے یہ اجلاس اگر دہشت گردی کے خلاف تعاون، پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی میں کمی اور اقتصادی روابط کے فروغ کی بنیاد رکھ سکے تو اسے ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا سکتا ہے۔ موجودہ حالات میں تاہم اس کا امکان کم دکھائی دے رہا ہے۔

مبصرین کو خدشہ ہے کہ مسلسل کشیدگی اور سفارتی تعطل غیرسرکاری عناصر کو فائدہ اٹھانے کا موقع دے سکتے ہیں۔ 


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *