صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں رہنے والے جہاز کے پاکستانی عملے کے چار زخمی ارکان اور تین افراد کی میتیں اتوار کو کراچی پہنچ گئیں۔ جہاز کو چھڑانے کے لیے 29 ستمبر کو کی گئی کارروائی میں تین پاکستانیوں کی موت واقع ہوئی تھی۔
ایم ٹی آنر 25 کو 21 اپریل 2026 کو صومالیہ کے ساحل کے قریب اغوا کیا گیا تھا۔ جہاز عمان سے صومالیہ جا رہا تھا اور اس پر پاکستانیوں سمیت مختلف ممالک کے عملے کے ارکان سوار تھے۔
صومالیہ کے نیم خودمختار علاقے پنٹ لینڈ کی میری ٹائم پولیس نے 29 ستمبر کو جہاز اور عملے کی بازیابی کے لیے کارروائی کی۔ اس دوران فائرنگ کے نتیجے میں پانچ افراد جان سے گئے، جن میں تین پاکستانی شامل تھے، جبکہ چار پاکستانی زخمی ہوئے۔
جن پاکستانیوں کی موت واقع ہوئی ان کے نام رفیع اللہ خان، سید کاشف عمر اور محمود احمد انصاری ہیں۔ زخمیوں میں یاسر خان، امین بن شمس، عقیل خان اور عثمان غنی شامل ہیں۔
زخمیوں اور میتوں کو چار اکتوبر کو ایتھوپیا کے دارالحکومت ادیس ابابا کے راستے کراچی لایا گیا۔ زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ میتیں ورثا کے حوالے کر دی گئیں۔ ہوائی اڈے پر زخمیوں کے اہلِ خانہ کے علاوہ گورنر سندھ نیہال ہاشمی، صوبائی وزیر سعید غنی اور متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما فاروق ستار اور وسیم اختر بھی موجود تھے۔
یاسر خان کی والدہ مسرت جبین نے بیٹے سے ملاقات کے بعد انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اتنے دن بعد اپنے بیٹے کو زندہ سلامت دیکھ کر میری خوشی کی انتہا نہیں رہی، خوشی کے مارے میرے آنسو نکل آئے۔ میں اس کو دیکھنے کے لیے ترس رہی تھی اور مسلسل دعائیں کر رہی تھی۔‘
مسرت جبین نے بتایا کہ یاسر ان کے سب سے بڑے بیٹے ہیں اور انہوں نے ان کی واپسی کے لیے مسلسل دعا کی۔ ان کے الفاظ میں: ’میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتی تھی کہ یاسر کو سلامت واپس لے آنا، چاہے مجھے لے لو، کیونکہ میں یاسر کے بغیر نہیں رہ سکتی۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے مزید کہا کہ ’آج اسے اپنے سامنے دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔ تھوڑی بہت تکلیف ہے، لیکن یہ اللہ کا بہت بڑا رحم اور کرم ہے کہ اس نے میرے بیٹے کو زندہ سلامت مجھ سے ملا دیا۔‘
دوسری جانب زخمی امین بن شمس کے والد یوسف بیٹے کی واپسی پر اطمینان کے ساتھ ساتھ تین پاکستانیوں کی موت پر بھی رنجیدہ ہیں۔ انہوں نے بیٹے کی طبی حالت کے بارے میں بتایا کہ ’وہ واپس تو آ گیا ہے، لیکن گولیاں کھا کر آیا ہے۔ اسے چار گولیاں لگی ہیں۔ ابھی وہ مکمل طور پر ٹھیک نہیں ہوا۔‘
یوسف کے مطابق ’ایک گولی کمر پر لگی ہے، ایک ٹانگ پر، ایک ہاتھ پر اور ایک بازو پر لگی ہے۔ ٹانگ والی گولی آرپار ہو گئی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم خوشی کیسے منائیں؟ تین لوگوں کی میتیں بھی ساتھ آئی ہیں۔ ساڑھے پانچ ماہ ہم نے یہ درد سہا ہے۔ ہم چاہتے تھے کہ سب واپس آئیں، ہمیں بھی سب کے ساتھ اپنے لوگ واپس چاہییں۔‘
یوسف نے مزید کہا کہ ’آج ہم خوشی نہیں منا سکتے، کیونکہ ہمارے بچے زخمی حالت میں واپس آئے ہیں اور تین خاندانوں کے پیارے واپس نہیں آ سکے۔‘
ایم ٹی آنر 25 پر سوار پاکستانی عملے کے اہلِ خانہ کئی ماہ تک اپنے پیاروں کی واپسی کے منتظر رہے۔ اس دوران انہوں نے حکومت سے ان کی بحفاظت واپسی کے لیے اقدامات کا مطالبہ کیا تھا۔ 29 ستمبر کی کارروائی کے بعد جہاز قزاقوں سے چھڑا لیا گیا، تاہم تین پاکستانیوں کی موت نے اس کامیابی کے ساتھ کئی گھروں میں سوگ بھی پیدا کر دیا۔
انصار برنی ٹرسٹ کے قانونی مشیر ایڈووکیٹ قرۃ العین کے مطابق حسین یوسف، عمران علی اور محمد یاسین نامی تین پاکستانی عملے کے ارکان تاحال جہاز کے کپتان کے ساتھ موجود ہیں۔ یہ تینوں زخمی ارکان اور میتوں کے ساتھ پاکستان واپس نہیں آئے۔
