خیبر پختونخوا میں ممکنہ گورنر راج کے معاملے پر شروع ہونے والی سیاسی کشیدگی اب ملک کے دو ایسے صوبوں کی سکیورٹی صورت حال کے موازنے تک پھیل گئی ہے، جو شدت پسندوں کے حملوں سے سب سے زیادہ متاثر رہے ہیں۔ وفاقی حکام جہاں امن و امان کی بگڑتی صورت حال کا حوالہ دے رہے ہیں، وہیں اپوزیشن جماعت بلوچستان میں زیادہ جانی نقصان کی نشاندہی کر رہی ہے۔
یہ بحث اس ہفتے اس وقت شدت اختیار کر گئی جب وفاقی وزرا نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کو ایک ’آئینی آپشن‘ قرار دیا۔ خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی تیاری کر رہی ہے۔
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ موجودہ سکیورٹی صورت حال میں صوبہ لانگ مارچ کا متحمل نہیں ہو سکتا اور اگر حالات مزید خراب ہوئے تو غیر معمولی حالات میں گورنر راج نافذ کیا جا سکتا ہے۔
پی ٹی آئی کی رکن قومی اسمبلی شاندانہ گلزار نے اس موقف کا جواب دیتے ہوئے بحث کا رخ ہمسایہ صوبے بلوچستان کی جانب موڑ دیا۔
انہوں نے 30 ستمبر کو پشاور میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا: ’ہمیں گورنر راج کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ پہلے بلوچستان میں گورنر راج نافذ کریں جہاں حکومت کی 80 فیصد عملداری ختم ہو چکی ہے۔‘
بلوچستان میں حکومتی عملداری سے متعلق ان کے دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
حالیہ سکیورٹی اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ استعمال کیے جانے والے پیمانے اور مدت کے لحاظ سے صورت حال کی تصویر مختلف ہو سکتی ہے۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز (پی آئی سی ایس ایس) کے اعداد و شمار کے مطابق جولائی اور اگست کے دوران بلوچستان میں شدت پسندوں کے حملوں کی تعداد اور ان حملوں میں ہونے والی اموات، خیبر پختونخوا اور اس میں ضم قبائلی اضلاع کی مجموعی تعداد سے زیادہ رہیں، تاہم صرف اگست کے مہینے میں خیبر پختونخوا اور ضم اضلاع میں حملوں کی تعداد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
سکیورٹی اعداد و شمار ملا جلا منظر پیش کرتے ہیں!
اسلام آباد میں قائم سکیورٹی تھنک ٹینک پی آئی سی ایس ایس کے مطابق بلوچستان میں جولائی کے دوران شدت پسندوں کے 83 حملے ہوئے جن میں 162 افراد جان سے گئے جبکہ اگست میں 89 حملوں میں 76 اموات ہوئیں۔
اس طرح پی آئی سی ایس ایس کے اعداد و شمار کے مطابق دو ماہ کے دوران بلوچستان میں شدت پسندوں کے حملوں کی مجموعی تعداد 172 اور ان کے نتیجے میں ہونے والی اموات 238 رہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
دوسری جانب سابق فاٹا کے ضم اضلاع کو شامل کیے بغیر خیبر پختونخوا میں جولائی کے دوران 36 حملے اور 69 اموات ریکارڈ ہوئیں۔ اگست میں حملوں کی تعداد بڑھ کر 54 ہو گئی جبکہ اموات کی تعداد کم ہو کر 44 رہ گئی۔
پی آئی سی ایس ایس کے مطابق ضم اضلاع میں جولائی کے دوران شدت پسندوں کے 23 حملے ہوئے جن میں 36 افراد جان سے گئے، جبکہ اگست میں 52 حملے اور 34 اموات ریکارڈ کی گئیں۔
یوں خیبر پختونخوا اور ضم اضلاع کو ملا کر دو ماہ کے دوران شدت پسندوں کے 165 حملے اور ان میں 183 اموات ہوئیں جبکہ بلوچستان میں 172 حملے اور 238 اموات ریکارڈ کی گئیں۔
تاہم صرف اگست کے اعداد و شمار ایک مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔
پی آئی سی ایس ایس کے مطابق اس مہینے خیبر پختونخوا اور ضم اضلاع میں مجموعی طور پر 106 شدت پسند حملے ریکارڈ ہوئے جبکہ بلوچستان میں یہ تعداد 89 رہی۔ ان حملوں کے نتیجے میں ہونے والی اموات بھی تقریباً برابر تھیں، خیبر پختونخوا اور ضم اضلاع میں 78 جبکہ بلوچستان میں 76۔
جمعے کو اسلام آباد میں قائم سینٹر فار ریسرچ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز (سی آر ایس ایس) کی ایک الگ رپورٹ بھی جاری کی گئی، جس میں جولائی سے ستمبر تک کے تین ماہ کے عرصے میں پر تشدد واقعات کا وسیع تر جائزہ لیا گیا ہے۔
سی آر ایس ایس کے مطابق تیسری سہ ماہی میں بلوچستان میں تشدد سے متعلق 829 اموات ریکارڈ ہوئیں جبکہ خیبر پختونخوا میں یہ تعداد 556 رہی۔
رپورٹ میں بلوچستان میں 186 اور خیبر پختونخوا میں 173 پرتشدد واقعات ریکارڈ کیے گئے اور کہا گیا کہ اس عرصے میں ملک بھر میں تشدد سے ہونے والی 98 فیصد اموات انہی دو صوبوں میں ہوئیں۔
یہ اعداد و شمار پی آئی سی ایس ایس کے حملوں سے متعلق ڈیٹا کے ساتھ براہ راست قابل موازنہ نہیں کیونکہ دونوں ادارے مختلف طریقہ کار استعمال کرتے ہیں۔
سی آر ایس ایس اپنے اعدادوشمار میں شدت پسند حملوں کے علاوہ ریاستی انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں میں ہونے والی اموات، بشمول مارے جانے والے شدت پسندوں کو بھی شامل کرتا ہے جبکہ پی آئی سی ایس ایس کے مذکورہ اعداد و شمار صرف شدت پسند حملوں کے نتیجے میں ہونے والی اموات پر مشتمل ہیں۔
یہ فرق اہمیت کا حامل ہے۔ مثال کے طور پر پی آئی سی ایس ایس نے جولائی میں بلوچستان میں شدت پسندی اور انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں سے مجموعی اموات کی تعداد 372 بتائی، جو صرف شدت پسند حملوں سے منسلک 162 اموات سے کہیں زیادہ ہے۔
گورنر راج کی بحث کیوں؟
اس سیاسی تنازعے کی فوری وجہ پی ٹی آئی کا پشاور سے اسلام آباد تک مجوزہ لانگ مارچ ہے۔
پی ٹی آئی نے ابتدائی طور پر مظاہرے کی تاریخ 27 ستمبر مقرر کی تھی لیکن بعد میں اسے 4 اکتوبر تک مؤخر کر دیا گیا، جس کا اعلان وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کیا۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے 28 ستمبر کو کہا تھا کہ موجودہ امن و امان کی صورت حال میں خیبر پختونخوا ایسے مارچ کا متحمل نہیں ہو سکتا اور صوبائی حکومت کو احتجاج کے بجائے امن، حکمرانی اور عوامی خدمات پر توجہ دینی چاہیے۔
Spoke with Chairman @BBhuttoZardari and briefed him on the worsening security situation in Khyber Pakhtunkhwa including the recent terrorist incidents across Hangu, D.I. Khan, Tank and Kohat, as well as the interception of Afghan drones before they could reach their targets.…
— Faisal Karim Kundi (@fkkundi) October 2, 2026
تاہم گورنر راج سے متعلق وفاقی حکومت کے بیانات یکساں نہیں رہے۔
وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے 22 ستمبر کو کہا تھا کہ وفاقی حکومت کا خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ لیکن چند دن بعد دیگر وفاقی وزرا نے اسے ایک ’آئینی آپشن‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مارچ کے معاملے پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث مشاورت جاری ہے۔
پی ٹی آئی رہنما مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ شدت پسندی کو قومی سکیورٹی کا مسئلہ سمجھا جانا چاہیے، نہ کہ کسی ایک صوبائی حکومت کو نشانہ بنانے کا جواز۔ اسی تناظر میں وہ بار بار بلوچستان کا حوالہ دیتے رہے ہیں۔
اس ساری بحث پر بلوچستان کے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند کہتے ہیں کہ ’حکومت اور اپوزیشن کے سیاسی اختلاف‘ کو ’دہشت گردی کے خلاف پالیسی‘ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔
انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’دہشت گردی کے خلاف بلوچستان حکومت کا مؤقف واضح ہے اور صوبائی حکومت ریاستی پالیسی کے ساتھ کھڑی ہے۔‘
انڈیپنڈنٹ اردو نے وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ سے بھی مؤقف لینے کی کوشش کی تاہم ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
سکیورٹی اعداد و شمار آئینی معیار نہیں
پاکستان کے آئین میں حملوں، اموات یا دیگر سکیورٹی واقعات کی کوئی ایسی حد مقرر نہیں کی گئی جو خودکار طور پر گورنر راج کے نفاذ کا باعث بنے۔
آئین کا آرٹیکل 234، جو عموماً گورنر راج کے نفاذ سے جوڑا جاتا ہے، اس صورت حال سے متعلق ہے جب صدر مملکت صوبائی گورنر کی رپورٹ موصول ہونے کے بعد اس نتیجے پر پہنچیں کہ صوبائی حکومت آئین کے مطابق نہیں چلائی جا سکتی۔
اس آرٹیکل کے تحت صدر صوبائی حکومت کے بعض اختیارات اپنے ہاتھ میں لے سکتے ہیں یا گورنر کو انہیں استعمال کرنے کی ہدایت دے سکتے ہیں۔ اس ضمن میں جاری ہونے والا اعلامیہ پارلیمان کے سامنے پیش کرنا ضروری ہوتا ہے اور منظوری نہ ملنے کی صورت میں دو ماہ بعد اس کی مدت ختم ہو جاتی ہے۔ توسیع کی مجموعی زیادہ سے زیادہ مدت چھ ماہ ہو سکتی ہے۔
یوں موجودہ تنازعے کے مرکز میں دو الگ سوال موجود ہیں۔
حالیہ ریسرچز کے مطابق بلوچستان میں مجموعی طور پر خیبر پختونخوا کے مقابلے میں زیادہ جانی نقصان ہوا، جبکہ اگست کے مہینے میں خیبر پختونخوا اور اس کے ضم اضلاع میں شدت پسند حملوں کی تعداد زیادہ رہی۔
تاہم گورنر راج کے نفاذ کے لیے آئینی معیار یہ نہیں کہ کس صوبے میں زیادہ حملے ہوئے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ آیا صوبائی حکومت آئین کے مطابق چلائی جا سکتی ہے یا نہیں۔ چنانچہ گورنر راج کی جانب پیش رفت صرف سکیورٹی صورت حال پر نہیں بلکہ آئینی طریقہ کار اور ملک کی سیاسی قیادت کے فیصلوں پر بھی منحصر ہوگی۔


