امریکی قیدی خاتون کی ناکام سزائے موت کی وجہ کیا تھی؟

1996 میں 18 سال کی عمر میں اپنی ہم جماعت 19 سالہ کولین سلمر کو قتل کرنے کے جرم میں سزائے موت پانے والی کرسٹا پائیک کبھی موت کی سزا پانے والی سب سے کم عمر خاتون تھیں۔

امریکی ریاست ٹینیسی میں ان کی سزا پر کافی عرصہ لے دے کے بعد جب عدالت نے انہیں سزا دینے کا حکم دیا تو دو مہلک انجیکشن لگنے کے باوجود وہ زندہ بچ گئیں اور انہیں ہسپتال منتقل کرنا پڑا۔

دی انڈپینڈنٹ کے مطابق حکام نے پائیک کو دو مرتبہ پینٹوباربٹل دیا، اور گواہوں کے مطابق سزائے موت کے کمرے کا پردہ دو الگ مواقع پر بند اور دوبارہ کھولا گیا جبکہ کارروائی جاری رہی۔

انجیکشن دیے جانے کے باوجود ایک گھنٹے سے زائد وقت تک سزائے موت کے کمرے کے مائیکروفون میں ان کے خراٹوں کی آواز سنائی دیتی رہی۔ انہیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے لیکن حکام نے ان کی حالت کے بارے میں مزید کچھ نہیں بتایا ہے۔

کرسٹا پائیک کے وکلا نے کہا کہ انجیکشن کی خاطر اس کے بازوؤں میں رگ تلاش کرنے کی کوشش کے دوران عملے نے کم از کم سات سوئیاں استعمال کیں۔ اس کے وکیل رینڈی سپیوے نے کہا کہ ناکام کوشش کے بعد جب اس کے بازو سے ایک سوئی نکالی گئی تو وہ مڑی ہوئی تھی۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے آثار ملے ہیں کہ دونوں کیتھیٹرز شاید دوا کو براہ راست پائیک کے خون میں پہنچانے کی بجائے انجیکشن کی جگہ کے اردگرد کے ٹشوز میں رسنے دے رہے تھے۔

اس کے وکلا نے بتایا کہ ماضی میں بھی خون کے نمونے لیتے وقت ڈاکٹروں کو مناسب رگ تلاش کرنے میں دشواری کا سامنا رہا تھا، اور پائیک کو خون کا ایک ایسا عارضہ لاحق ہے جو اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیتا ہے۔

وکلا کے مطابق سزائے موت پر عمل درآمد کی کوشش کے دوران پائیک نے عملے کی دو آئی وی لائنیں لگانے میں مدد کرنے کی بھی کوشش کی۔

اس کے وکیل رینڈی سپیوے نے کہا: ’وہ بار بار کہہ رہی تھی: ‘براہِ کرم میرے کندھے کے اوپر والی جگہ پر کوشش کریں، براہِ کرم یہاں کوشش کریں، براہِ کرم یہاں کوشش کریں۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اینستھیزیولوجی کے پروفیسر اور اس مقدمے کے طبی ماہر ڈاکٹر جوئل زیووٹ نے کہا کہ امکان ہے کہ کرسٹا پائیک کی ناکام سزا دیے جانے کے دوران اس کی ایک رگ ’پھٹ‘ گئی ہو، جس کے باعث مہلک انجیکشن میں استعمال ہونے والے کیمیکل اس کے خون میں داخل ہونے کی بجائے اردگرد کے ٹشوز میں لی گئی۔

زیووٹ نے ایسوسی ایٹڈ پریس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’یہ سنا گیا کہ وہ کسی غیر معمولی انداز میں سانس لے رہی تھیں۔‘

انہوں نے کہا: ’میرا خیال ہے کہ وہ بس قدرتی طور پر سو نہیں گئی تھی، اور نہ ہی کوئی ایسا دعویٰ کر رہا ہے۔ لہٰذا کسی حد تک کیمیائی اثر کے باعث اس پر غنودگی طاری ہوئی تھی، لیکن اس کے باوجود وہ اس دوا کے اثر میں رہتے ہوئے بھی سانس لیتی رہی۔‘

زیووٹ نے اس بات پر زور دیا کہ سزائے موت پر عمل درآمد کو کبھی بھی حقیقی طبی عمل کے ساتھ خلط ملط نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا: ’سزائے موت دینا کبھی بھی کوئی طبی عمل نہیں ہوتا۔ اسے اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ جیسے یہ طبی عمل ہو، اسی لیے لوگ ان تمام حفاظتی اقدامات کے بارے میں قیاس آرائیاں کر رہے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ کوئی ہسپتال نہیں ہے۔ یہاں طب کی مشق نہیں ہو رہی۔‘

پائیک کی قانونی ٹیم کا کہنا ہے کہ اسے ’غیر ضروری اذیت‘ میں مبتلا کیا گیا اور اس طویل کارروائی نے اس کے لیے ’اضافی جسمانی اور ذہنی تکلیف‘ پیدا کی۔ اس خاتون کو 32 برس تک جیل میں اسی خوف کے سائے تلے زندہ رکھا گیا کہ اسے ایک دن سزائے موت دی جانی ہے۔

یہ ایک انتہائی منفرد واقعہ ہے۔ امریکی تاریخ میں موت کی سزا پانے والے صرف چند قیدی ہی ایسی ناکام سزائے موت کی کارروائی سے زندہ بچ سکے ہیں، اور عموماً ایسا اس وقت ہوا جب اصلاحی حکام مہلک انجیکشن لگانے کے لیے قابلِ استعمال رگ تلاش کرنے میں ناکام رہے اور کارروائی روک دی گئی۔

قابلِ ذکر مثالوں میں 2009 میں اوہائیو کے قیدی رومیل بروم اور 2022 میں الاباما کے قیدی کینتھ سمتھ شامل ہیں، جو دونوں ناکام سزائے موت کی کوششوں کے بعد زندہ بچ گئے تھے۔

ٹینیسی میں سزائے موت کے لیے ایک ہی دوا پر مشتمل طریقہ کار استعمال کیا جاتا ہے، جس میں پینٹوباربٹل نامی طاقتور باربیچیوریٹ دوا دی جاتی ہے جو مرکزی اعصابی نظام کو مفلوج کرنے کے لیے تیار کی گئی ہے۔

یہ دوا رگ کے ذریعے دی جاتی ہے، اور اس کی زیادہ مقدار کا مقصد تیزی سے بے ہوشی طاری کرنا، سانس کا عمل روک دینا اور دل کی دھڑکن بند کرنا ہوتا ہے۔

یہ طریقہ مکمل طور پر اس بات پر منحصر ہے کہ آئی وی (IV) لائن درست طریقے سے لگی ہو اور دوا مؤثر حالت میں ہو۔ اگر درست مقدار براہِ راست خون میں داخل نہ ہو تو سکون آور دوا سانس بند کرنے میں ناکام ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں قیدی ہوش میں رہ سکتا ہے یا طویل اذیت کا شکار ہو سکتا ہے۔

امریکہ کی 27 ریاستوں میں آج بھی سزائے موت قانونی ہے۔ گذشتہ 50 برسوں میں امریکہ کم از کم 1,682 افراد کو سزائے موت دے چکا ہے اور ڈیتھ پینلٹی انفارمیشن سینٹر کے مطابق ان میں 34 فیصد سیاہ فام اور 8 فیصد لاطینی نژاد تھے۔ اقوام متحدہ کے مطابق دنیا سزائے موت کے استعمال سے دور ہو رہی ہے اور اس کے 193 رکن ممالک میں سے 170 پہلے ہی پھانسیوں کو ختم کر چکے ہیں یا ان کا استعمال بند کر چکے ہیں۔

جنوری 2025 میں ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکہ میں دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سزائے موت کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا۔ گذشتہ سال 47 افراد کو پھانسی دی گئی، جو 2009 کے بعد سب سے زیادہ سالانہ تعداد تھی جبکہ 2026 میں اب تک مزید 28 سزائیں دی جا چکی ہیں۔ بائیڈن انتظامیہ نے غیر ضروری درد اور تکلیف کے احساس کے باعث سنگل ڈرگ مہلک انجیکشن کے وفاقی طریقہ کار سے پینٹوباربٹل کو ہٹا دیا تھا لیکن ٹرمپ انتظامیہ نے اسے دوبارہ شامل کر لیا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *