بلوچستان میں پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن کے تحت چلنے والے واحد کینسر ہسپتال کی سینیئر میڈیکل آفیسر اورانچارج ڈاکٹر ماہ جبیں مری نے بتایا ہے کہ صوبے میں سرطان کے مرض میں سالانہ 10 سے 15 فیصد اضافہ ہو رہا ہے جب کہ وسائل کم اور مسائل زیادہ ہونے کی وجہ سے صورت حال خراب ہے۔
ڈاکٹر ماہ جبیں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ کوئٹہ میں واقع سینار واحد کینسر ہسپتال ہے، جہاں نہ صرف پورے صوبے بلکہ افغانستان اور ایران سے مریض علاج کے لیے آتے ہیں۔
انہوں نے بتایا: ’پاکستان کے دیگر علاقوں کی طرح بلوچستان میں بھی سرطان کا مرض میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔ سالانہ 10 سے 15 فیصد اس مرض میں اصافہ ہو رہا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے ہاں خوراک کی نالی اور خواتین میں بریسٹ کینسر بہت زیادہ ہے جبکہ تیسرے نمبر پر سکن کینسر کے کیسز بہت زیادہ ہیں۔‘
ڈاکٹر ماہ جبین کے مطابق سینار ہسپتال میں سالانہ آٹھ ہزار کے قریب کیسز رجسٹرڈ ہوتے ہیں اور ہسپتال میں وسائل کی شدید کمی ہے۔ ’اس وقت پورے ہسپتال میں صرف چار ڈاکٹر اور پانچ نرسز خدمات انجام دے رہی ہیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ چونکہ بلوچستان میں غربت کی شرح بہت زیادہ ہے اور ہسپتال آنے والے مریضوں کی بڑی تعداد کے پاس آنے جانے کے کرایے یا شہر میں رہنے کے لیے رقم نہیں ہوتی، اس لیے ’صحت کارڈ، بینولنٹ فنڈ، انڈو منٹ فنڈ، بیت المال اور دوسرے ذرائع سے غریب مریضوں کی مدد کی جاتی ہے۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ڈاکٹر ماہ جبین کے مطابق بلوچستان میں سرطان کے مرض پر ریسرچ کی اشد ضرورت ہے۔ ’کینسر کے علاج میں جدت تو آ رہی ہے لیکن اس کے اخراجات میں بھی اصافہ ہو رہا ہے۔‘
ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ کیموتھراپی کے بعد اب مونو کرونل اینٹی باڈیز تھراپی سامنے آئی ہے، جس کے اخراجات بہت زیادہ ہیں۔ ایک طرف غربت دوسری جانب وسائل کی کمی کے باعث مشکلات کا سامنا ہے۔
وزیر صحت بلوچستان بخت محمد کاکڑ نے اس ضمن میں انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ سرطان کے مرض کا علاج صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور 20 ارب روپے کی لاگت سے جدید کینسر ہسپتال تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔ ’اس سال کینسر ہسپتال باقاعدہ کام شروع کر دے گا۔‘
صوبائی وزیر صحت کے مطابق: ’حکومت بلوچستان صحت کارڈ کے ذریعے مریضوں کو علاج کی سہولت فراہم کر رہی ہے۔ اس سال سینار ہسپتال کو صحت کارڈ کی مد میں ایک ارب 15 کروڑ روپے ادا کیے گئے۔‘
