سزائے موت: امریکہ میں خاتون دو مرتبہ مہلک انجیکشن لگنے کے باوجود بچ گئیں

امریکہ کی ریاست ٹینیسی میں قتل کے جرم میں سزا یافتہ ایک خاتون دو مرتبہ مہلک انجیکشن دیے جانے کے باوجود زندہ بچ گئیں اور انہیں جمعرات کو ہسپتال منتقل کرنا پڑا۔

ان کے وکلا کے مطابق یہ چند ماہ کے دوران ریاست میں سزائے موت پر عمل درآمد کی دوسری ناکام کوشش ہے، جس کے بعد ٹینیسی نے رواں سال کے لیے سزائے موت کے نفاذ کا سلسلہ روک دیا ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل بدھ کو امریکی سپریم کورٹ نے 50 سالہ کرسٹا پائیک کی پھانسی کی راہ ہموار کی تھی۔ اگر انہیں پھانسی دی جاتی تو وہ گذشتہ 200 برس میں ٹینیسی میں سزائے موت پانے والی پہلی خاتون ہوتیں، تاہم یہ کوشش ناکام رہی۔

ڈیتھ پینلٹی انفارمیشن سینٹر کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر رابن ماہر نے نیویارک ٹائمز کو بتایا: ’یہ واقعہ ہماری نظر میں اب تک کا بدترین واقعہ ہے اور جدید تاریخ میں کسی بھی دوسری ناکام پھانسی سے مختلف ہے۔ اس کی کوئی مثال موجود نہیں۔‘

ٹینیسی ڈیپارٹمنٹ آف کریکشن نے کہا کہ اس نے ’ریاست کے قانونی اور طے شدہ طریقہ کار کے ہر مرحلے پر عمل کیا‘ اور بعد ازاں پائیک کو ایک ’بیرونی طبی مرکز‘ منتقل کر دیا گیا۔

ان کے وکلا کا کہنا ہے کہ انہیں قریبی ہسپتال لے جایا گیا، تاہم حکام نے ابھی تک ان کی صحت کی حالت کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کیں۔

وکلا نے ایک بیان میں کہا: ’آج رات ریاست ٹینیسی ایک مرتبہ پھر قانونی طریقے سے سزائے موت پر عمل درآمد کرنے میں ناکام رہی ہے۔‘

ٹینیسی نے مئی میں بھی ٹونی کیروتھرز کو مہلک انجیکشن کے ذریعے دی جانے والی پھانسی روک دی تھی کیونکہ طبی عملہ ان کی رگ تلاش کرنے میں ناکام رہا تھا۔

گورنر بل لی نے پائیک کی ناکام پھانسی کے بعد ایک ’جامع اور آزادانہ جائزے‘ کا حکم دیا۔

انہوں نے کہا: ’اس سال طے شدہ باقی ماندہ پھانسی پر بھی عمل درآمد نہیں کیا جائے گا۔‘

ان کا اشارہ غالباً 3 دسمبر کو سزا پانے والے قاتل گیری وین سٹن کی متوقع پھانسی کی جانب تھا۔

’زور زور سے خراٹوں کی آواز‘

پائیک کو مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بجے (1500 جی ایم ٹی) ریور بینڈ میکسیمم سکیورٹی انسٹی ٹیوشن میں سزا دی جانی تھی، جہاں صحافیوں سمیت متعدد گواہ انجیکشن لگانے کے عمل کا مشاہدہ کر رہے تھے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کی نمائندہ کم چاندلر نے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ ’پھانسی کا عمل شروع ہونے پر پائیک واضح طور پر جاگ رہی تھیں۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ جب پھانسی کے کمرے کے پردے آخری بار بند ہوئے تو پائیک ’زور زور سے خراٹے لے رہی تھیں اور واضح طور پر زندہ تھیں، یہاں تک کہ میڈیا نمائندوں سے مقام چھوڑنے کو کہا گیا۔‘

لائیو سٹریم کے دوران ایک ایمبولینس کو چمکتی ہوئی لائٹس کے ساتھ جائے وقوعہ سے روانہ ہوتے دیکھا گیا، تاہم یہ واضح نہیں تھا کہ آیا اس میں پائیک کو منتقل کیا جا رہا تھا یا نہیں۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ اور اختلافی نوٹ

پھانسی کا عمل اس وقت شروع کیا گیا جب چند گھنٹے پہلے امریکی سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ اس پر عمل درآمد کیا جا سکتا ہے۔

تاہم سپریم کورٹ کی لبرل ججز سونیا سوٹومایور، ایلینا کیگن اور کیتانجی براؤن جیکسن نے اس فیصلے سے اختلاف کیا۔

اختلافی نوٹ میں انہوں نے لکھا: ’عدالت کا یہ فیصلہ نچلی عدالت کو پائیک کے دعوے پر مناسب غور کرنے سے غیر ضروری طور پر روکتا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’اس سے بھی بدتر بات یہ ہے کہ عدالت نے یہ غیر معمولی ریلیف صرف اس لیے دیا تاکہ ریاست پائیک کو اس وقت پھانسی دے سکے جب ان کی سزا کے خلاف قانونی کارروائی ابھی نچلی عدالتوں میں مکمل بھی نہیں ہوئی۔‘

نوجوان مجرموں کو سزائے موت کا تنازع

اس مقدمے نے کم عمری میں جرم کرنے والوں کو سزائے موت دینے کے معاملے پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

پائیک 18 سال کی تھیں جب انہوں نے اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ مل کر 19 سالہ کولین سلیمر کو نوجوانوں کے ایک تربیتی کیمپ میں تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا تھا۔

یہ قتل اس وقت پورے ملک میں موضوعِ بحث بنا جب سلیمر کی لاش ان کے سینے پر کھدائی کیے گئے پینٹاگرام کے نشان کے ساتھ ملی، جسے اکثر شیطانی علامت سمجھا جاتا ہے۔

پائیک کے وکلا کا مؤقف تھا کہ جرم کے وقت ان کی کم عمری اور ذہنی صحت کے مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں معافی دی جانی چاہیے۔

معافی کی درخواست میں وکلا نے لکھا: ’جرم کے وقت ان کی عمر صرف 18 برس تھی اور وہ شدید ذہنی بیماری کا شکار تھیں۔‘

یہ درخواست گورنر بل لی کو دی گئی تھی، تاہم انہوں نے مداخلت سے انکار کر دیا۔

انسانی حقوق کے ماہرین کی اپیل

امریکی سپریم کورٹ نے منگل کو بھی پھانسی روکنے کی درخواست مسترد کر دی تھی۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ پائیک کے ساتھ جنسی زیادتی کی ماضی کی تاریخ، بعد از صدمہ ذہنی دباؤ (PTSD) اور خون کی ایک بیماری کے باعث مہلک انجیکشن انہیں ’غیر ضروری اذیت‘ پہنچائے گا۔

اقوام متحدہ کے آزاد انسانی حقوق ماہرین نے امریکی حکومت اور ٹینیسی کے حکام سے اپیل کی تھی کہ اس پھانسی کو ’فوری طور پر روکا جائے‘ اور ان کی سزائے موت کو تبدیل کیا جائے۔

ڈیتھ پینلٹی انفارمیشن سینٹر کے مطابق امریکہ میں 1976 سے اب تک صرف 18 خواتین کو سزائے موت دی گئی ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *