پاکستانی نے جمعرات کو کہا ہے کہ اس کی سکیورٹی فورسز نے افغانستان میں دو مقامات پر عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کے خلاف فضائی حملے کیے، جن کے نتیجے میں 22 عسکریت پسند مارے گئے جبکہ افغان حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی حملوں میں نو شہری جان سے گئے۔
پاکستان کی وزارتِ اطلاعات نے ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا کہ اس نے آپریشن غضب لِلحق کے تحت ’قابلِ اعتماد انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر افغانستان میں دو مقامات پر فتنۃ الخوارج، فتنۃ الہندوستان اور ان کے اتحادیوں سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کے کیمپوں اور ٹھکانوں کو منتخب کرکے انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا۔‘
مزید کہا گیا کہ ’ابتدائی اطلاعات کے مطابق 22 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ ان ٹھکانوں میں ذخیرہ کیا گیا بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی تباہ کر دیا گیا۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
دوسری جانب افغانستان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے کی گئی بمباری میں 9 خواتین اور بچے جان سے گئے جبکہ مزید 11 افراد زخمی بھی ہوئے۔
یہ حملے دونوں ممالک کے درمیان سرحد پار بار بار ہونے والی جھڑپوں کے دوران کیے گئے ہیں۔ رواں سال کے آغاز میں دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں ڈرامائی اضافے کے بعد پاکستان افغانستان کے اندر بارہا فضائی حملے کر چکا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں کے معاملے پر طویل عرصے سے تنازعات موجود ہیں۔
پاکستان عام شہریوں کو نشانہ بنانے کی تردید کرتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ ان عسکریت پسندوں کو نشانہ بناتا ہے جو افغانستان سے پاکستان کے اندر حملے کرتے ہیں۔ افغانستان عسکریت پسندوں کو پناہ دینے کی تردید کرتا ہے۔
پاکستانی طالبان، جنہیں باضابطہ طور پر تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کہا جاتا ہے، نے 2021 میں افغانستان میں افغان طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان کی سکیورٹی فورسز پر حملوں میں اضافہ کیا ہے۔
پاکستانی حکام کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے لیے ’فتنۃ الخوارج‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں، جن کے بارے میں اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ اس کے جنگجو افغانستان میں مقیم ہیں اور انہیں افغان طالبان اور انڈیا کی حمایت حاصل ہے، تاہم کابل اور نئی دہلی ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔
