افغانستان کی وزارت دفاع نے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ اس کی فورسز نے گذشتہ تین روز کے دوران پاکستان سے دراندازی کرنے والے 40 سے زیادہ عسکریت پسندوں کو مار دیا ہے۔
وزارت نے بتایا کہ ان عسکریت پسندوں میں داعش کے ارکان بھی شامل تھے۔
وزارت دفاع نے منگل کی رات جاری ایک بیان میں کہا کہ اتوار سے منگل کے دوران صوبہ نورستان کے شمال مشرقی ضلع کامدیش میں 41 عسکریت پسند مارے گئے جبکہ 62 گرفتار کیے گئے۔
افغان وزارت دفاع نے الزام عائد کیا کہ یہ عسکریت پسند ’پاکستان کی حمایت‘ سے افغانستان میں داخل ہوئے تھے۔
دونوں ممالک نے حالیہ ہفتوں کے دوران ایک دوسرے کی حدود میں عسکریت پسندوں کو مارنے کے دعوے کیے ہیں۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
افغان فورسز نے اتوار کو ایک بیان میں دراندازی کا الزام عائد کرتے ہوئے 28 عسکریت پسندوں کو مارنے کا دعویٰ کیا تھا۔
اس پر پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات نے اسی دن ایکس پر اپنے ردعمل میں کہا تھا کہ ’افغان طالبان حکومت کی جانب سے نورستان میں مبینہ تشدد کو پاکستان سے جوڑنے کے الزامات بے بنیاد، لغو اور حقیقت سے عاری ہیں۔‘
بیان کے مطابق ’پاکستان نورستان یا افغانستان کے کسی بھی دوسرے علاقے میں کسی داخلی جھڑپ میں اپنی سکیورٹی فورسز یا انٹیلی جنس اداروں کے ملوث ہونے کے من گھڑت دعوؤں کو واضح طور پر مسترد کرتا ہے، جن میں سابق افغان سکیورٹی اہلکاروں کو بھرتی یا تربیت دینے، یا افغانستان میں سرگرم داعش یا کسی بھی دوسرے دہشت گرد گروہ کو سہولت فراہم کرنے کے الزامات بھی شامل ہیں۔‘
پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
سرحد پار لڑائی اور افغانستان میں پاکستانی فضائی حملوں نے سرحد پر عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں سے متعلق دیرینہ تنازعات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
افغان وزارت نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ’وزارت دفاع کی سکیورٹی اور دفاعی فورسز کسی کو بھی ملک کے امن و امان کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دیں گی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
’اگر کسی نے دوبارہ ایسا کرنے کی کوشش کی تو اسے اس سے بھی سخت جواب کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘
افغانستان کی وزارت خارجہ نے منگل کو پاکستان کے ناظم الامور کو طلب کرکے سرحد پار ’تخریبی مسلح عناصر کی آمد‘ پر احتجاجی خط بھی حوالے کیا۔
وزارت نے اسلام آباد پر الزام عائد کیا کہ وہ عسکریت پسندوں کی بھرتی اور تربیت کے مراکز کی میزبانی کر رہا ہے، جنہیں بعد ازاں سرحد پار بھیجا جاتا ہے۔
پاکستان اکثر افغانستان کی طالبان حکومت پر الزام عائد کرتا ہے کہ وہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو افغان سرزمین سے کارروائیاں کرنے کی اجازت دے رہی ہے۔
کابل ٹی ٹی پی کو محفوظ پناہ گاہ فراہم کرنے کی تردید کرتا ہے اور پاکستان کے الزامات کو مسترد کرتا رہا ہے۔
