میٹا نے بدھ کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ماڈلز سے لیس متعدد نئی پہنے جانے والی ٹیکنالوجیز متعارف کرائیں، جن میں اس کے سمارٹ گلاسز کا آڈیو پر مبنی اور کیمرے سے پاک ورژن بھی شامل ہے۔
یہ پیش رفت دنیا بھر میں پرائیویسی اور خواتین و بچیوں کی رضامندی کے بغیر ان کی ریکارڈنگ کے حوالے سے بڑھتی ہوئی تشویش کے درمیان سامنے آئی ہے۔
چیف ایگزیکٹو آفیسر مارک زکربرگ نے کمپنی کی سالانہ ’کنیکٹ‘ کانفرنس میں گلاسز کی نئی مصنوعات پیش کیں۔ یہ کانفرنس میلو پارک میں کمپنی کے ہیڈکوارٹرز میں منعقد ہوئی، جہاں انہوں نے کمپنی کے نئے ذاتی اے آئی معاون ’میوز‘ کو بھی اجاگر کیا۔
مارک زکربرگ نے ڈویلپرز اور کمپنی کے اعلیٰ عہدیداروں پر مشتمل سامعین سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’دنیا میں تقریباً دو ارب لوگ آج چشمے پہنتے ہیں اور ہمارا خیال ہے کہ آنے والے برسوں میں ان میں سے زیادہ تر چشموں کو اے آئی والے چشموں میں تبدیل کر دیا جائے گا۔‘
زکربرگ نے کہا کہ ’میوز ہماری سوچ کا مرکز ہوگا۔‘
آڈیو پر مبنی یہ گلاسز 13 اکتوبر کو دستیاب ہوں گے اور ان کی ابتدائی قیمت 349 ڈالر ہوگی۔ یہ ایسے وقت میں سامنے آ رہے ہیں جب دنیا بھر میں چشموں اور دیگر پہنے جانے والے آلات میں نصب چھوٹے کیمروں کے ذریعے رازداری کی خلاف ورزیوں پر سوالات اٹھ رہے ہیں اور ناقدین نے ایسے چشموں کو ’پرورٹ‘ گلاسز کا نام دیا ہے۔
سمارٹ گلاسز پہننے والوں کو تصاویر لینے، ویڈیوز بنانے، موسیقی سننے، فون کالز کرنے، ٹرانسلیشن کرنے یا اے آئی اسسٹنٹ سے بات چیت کرنے کی سہولت دیتے ہیں۔
آڈیو پر مبنی ورژن درجنوں نئے سمارٹ گلاسز کے ماڈلز کے ساتھ متعارف کروائے جائیں گے، جن میں تصاویر اور ویڈیوز بنانے کی سہولت برقرار رکھی گئی ہے۔
میٹا کی اے آئی مصنوعات کے نائب صدر وشال شاہ نے بدھ کو اے ایف پی کو بتایا کہ ریکارڈنگ کی نشاندہی کرنے والی لائٹ جیسی پرائیویسی کی خصوصیات شامل کرنا ’واقعی اہم‘ ہے۔
وشال شاہ نے کہا: ’ہم چاہتے تھے کہ لوگ واضح طور پر سمجھیں کہ یہ چیز ریکارڈنگ کر رہی ہے اور وقت کے ساتھ ہم نے اس لائٹ کو مزید واضح بنایا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا: ’جب چشمے پہلی بار لانچ کیے گئے تھے تو ہم نے اس بارے میں بہت کچھ کہا تھا، اور میرے خیال میں ہمیں حالیہ عرصے کے مقابلے میں اس بات کو مزید دہراتے رہنے کی ضرورت ہے، کیونکہ ان میں سے کچھ بھی تبدیل نہیں ہوا۔‘
میٹا کے پورے نظام میں ماہانہ تقریباً چار ارب فعال صارفین ہیں اور کمپنی اس امید پر سرمایہ کاری کر رہی ہے کہ سمارٹ گلاسز جیسے آلات لوگوں کے لیے اس کے اے آئی سافٹ ویئر استعمال کرنے کا آسان ذریعہ بن سکتے ہیں۔
میٹا نے 2021 میں اپنے پہلے سمارٹ گلاسز متعارف کروائے تھے اور گذشتہ سال ’ڈسپلے‘ چشمے پیش کیے تھے، جو لینز پر تصاویر ظاہر کرتے ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس سال کے آغاز میں کمپنی نے اپنے نام سے اے آئی سے لیس گلاسز متعارف کروائے تھے، جو چشمے بنانے والی کمپنی ایسِلور لُکسوٹیکا کے ساتھ اس کی شراکت داری سے الگ ہیں۔ ایسِلور لُکسوٹیکا رے بین اور اوکلی میٹا کے کئی ماڈلز تیار کرتی ہے۔
میٹا نے اپنے نمایاں ’میٹا رے بین‘ گلاسز کے کئی نئے انداز بھی متعارف کرائے۔ 799 ڈالر سے شروع ہونے والی ڈسپلے ورژن کی قیمت والے چشمے جلد ہی برطانیہ، فرانس، اٹلی، جرمنی اور کینیڈا سمیت نئی مارکیٹوں میں دستیاب ہوں گے۔
کمپنی جلد ہی مخلوط حقیقت والے چشمے بھی متعارف کرائے گی، جو اس کے پہلے ’کویسٹ‘ ورچوئل ریئلٹی ہیڈسیٹس کے مقابلے میں کافی ہلکے ہوں گے۔
’میٹا وی آر گلاسز‘ کہلانے والے یہ چشمے ایک بیرونی بیٹری اور میموری پیک سے منسلک تار کے ذریعے چلیں گے، جس سے ہیڈسیٹ خود زیادہ ہلکا ہو جائے گا۔
مارک زکربرگ نے کہا کہ ان گلاسز کا وزن تقریباً تاش کے پتوں کی گڈی جتنا ہے۔
ان میں بیرونی کنٹرولز نہیں ہوں گے اور صارفین ہاتھ کے اشاروں اور آواز کے احکامات کے ذریعے انہیں استعمال کر سکیں گے۔
وی آر گلاسز 2027 کے موسم بہار کے دوران 1,299 ڈالر کی قیمت پر متعارف کروائے جائیں گے۔
میٹا میوز
میٹا نے اے آئی کے شعبے میں مسابقت برقرار رکھنے کے لیے اربوں ڈالر خرچ کیے ہیں، تاہم اسے کئی محاذوں پر مخالفت کا سامنا ہے۔
یہ چشمے کمپنی کی صارفین کے لیے پہلی ’ایجنٹک‘ ایپ میوز کے ساتھ کام کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ یہ ایک ڈیجیٹل ذاتی اسسٹنٹ کی طرح صارفین کی جانب سے کام انجام دیتی ہے۔
ذاتی اکاؤنٹس، مثلاً مالیات، صحت اور خریداری سے متعلق اکاؤنٹس منسلک کرنے کے بعد صارفین میوز سے خدمات کے لیے اندراج، ملاقاتیں بک کرنے اور فون کالز کرنے جیسے کام کرنے کو کہہ سکتے ہیں۔
میوز ایپ گوگل پلے سٹور اور ایپل ایپ سٹور پر سب سے زیادہ ڈاؤن لوڈ کی جانے والی مفت ایپ بن گئی، جس نے اوپن اے آئی کے چیٹ جی پی ٹی، اینتھروپک کے کلاڈ اور گوگل کے جیمنی کو پیچھے چھوڑ دیا۔
مارک زکربرگ نے بدھ کو ’میوز چارم‘ کی جھلک بھی پیش کی، جو رواں سال تعطیلات کے موسم سے قبل دستیاب ہوگی۔ میٹا نے اس کی قیمت نہیں بتائی۔
’چارم‘ ایک چھوٹے سے گول ڈبے جیسا آلہ ہے جس میں ڈسپلے موجود ہوگا اور صارفین سمارٹ فون سے الگ اپنے میوز اسسٹنٹ کے ساتھ بات چیت کر سکیں گے۔
ایمازون نے رواں ہفتے میٹا کو صارفین کے لیے خودکار طور پر خریداری کرنے والے اے آئی روبوٹس استعمال کرنے سے روک دیا، جبکہ انسٹا کارٹ، شاپی فائی اور ایکسپڈیا نے میوز میں اپنی خدمات شامل کرنے کے لیے شراکت داری کا اعلان کیا ہے۔ میٹا نے کہا کہ والمارٹ، بیسٹ بائے، گیپ اور سیفورا بھی اس ایپ کے ساتھ شراکت داری کر رہے ہیں۔
میٹا، جو اپنی زیادہ تر آمدنی انسٹاگرام اور فیس بک پر اشتہارات سے حاصل کرتی ہے، کو دنیا بھر میں بچوں کے تحفظ اور پرائیویسی کے حوالے سے بڑھتے ہوئے چیلنجز کا سامنا ہے۔
اگست میں کمپنی نے امریکی ریاستوں کی جانب سے دائر کیے گئے ایک مقدمے کو نمٹایا، جس میں میٹا پر صارفین کے تحفظ اور بچوں کی آن لائن پرائیویسی کے قوانین کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ کمپنی نے 18 ارب ڈالر تک ادا کرنے اور نوعمر افراد کے لیے پابندیاں عائد کرنے پر اتفاق کیا۔
کمپنی کو بیرونِ ملک عمر کی بنیاد پر پابندیوں کے علاوہ امریکہ میں ممکنہ ذاتی نقصان کے ہزاروں مقدمات کا بھی سامنا ہے۔

