پاکستانی حکام نے منگل کو بتایا کہ سعودی عرب سے بحیرہ احمر کے راستے پاکستان کو خام تیل کی ترسیل دوبارہ شروع ہوگئی ہے، جس سے خطے میں جاری تنازع کے باعث پیدا ہونے والی سپلائی میں رکاوٹ اور ملک میں ایندھن کی ممکنہ قلت کے خدشات کم ہوئے ہیں۔
سعودی عرب نے مشرقی علاقوں میں موجود تیل کے ذخائر سے بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع تک خام تیل پہنچانے والی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن دوبارہ فعال کردی ہے۔ ڈرون حملوں کے بعد 13 ستمبر کو یہ پائپ لائن بند ہوگئی تھی، جس کے باعث برآمدی ٹرمینل سے تیل کی لوڈنگ بھی رک گئی تھی۔
یہ راستہ سعودی خام تیل کو آبنائے ہرمز سے بچاتے ہوئے برآمد کرنے کی سہولت دیتا ہے۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
فروری میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت شدید متاثر ہوئی ہے۔
ینبع سے پاکستان آنے والے ٹینکر بحیرہ احمر اور باب المندب سے گزرتے ہوئے بحیرہ عرب میں داخل ہوتے ہیں۔
پاکستان درآمدی توانائی پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے خلیجی ممالک سے سپلائی متاثر ہونے کے بعد اس نے ینبع کے راستے سے خام تیل کی درآمد بڑھا دی تھی۔
صنعتی حکام کے اندازے کے مطابق بحیرہ احمر کا یہ راستہ اب پاکستان کی خام تیل کی ضروریات کا تقریباً ایک چوتھائی پورا کرتا ہے۔
کراچی میں قائم نیشنل ریفائنری لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو اسد حسن نے عرب نیوز کو بتایا کہ ریفائنریوں کو ینبع سے تیل کی سپلائی دوبارہ شروع ہونے سے آگاہ کردیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’ایک پاکستانی ریفائنری کے لیے تیل کا ایک کارگو پہلے ہی لوڈ کیا جا رہا ہے اور اس کی لوڈنگ رات 9 بجے تک مکمل ہوجائے گی۔‘
تاہم انہوں نے ریفائنری کا نام، کارگو کی مقدار، جہاز یا اس کی متوقع آمد کی تاریخ نہیں بتائی۔
رؤئٹرز کے مطابق سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کم رفتار سے دوبارہ چل پڑی ہے جبکہ اس کے بہاؤ کو سابقہ سطح، تقریباً40 لاکھ بیرل یومیہ تک بحال کرنے کے لیے کام جاری ہے۔ یہ مقدار عالمی یومیہ تیل سپلائی کے تقریباً 4 فیصد کے برابر ہے۔
پائپ لائن کی بحالی کی خبر کے بعد منگل کو عالمی معیار کے برینٹ خام تیل کی قیمت 2 ڈالر سے زیادہ کم ہوکر تقریباً 98 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جو دو ہفتوں کی کم ترین سطح ہے۔ تاہم مشرق وسطیٰ میں جاری بد امنی کے باعث قیمتیں اب بھی بلند ہیں۔
اسد حسن کے مطابق پاکستان کو ہر ماہ 14 سے 16 خام تیل کے کارگو درکار ہوتے ہیں، جن میں سے تقریباً چار اس وقت ینبع-باب المندب کے راستے پہنچ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے تنازع سے متاثرہ راستوں پر انحصار کم کرنے کی کوششوں کے دوران بحیرہ احمر کے راستے کو فعال رکھنا اہم ہوگیا ہے۔
اسد حسن نے کہا، ’ہم ینبع اور باب المندب کو کھلا رکھنے جیسے راستوں پر غور کر رہے ہیں تاکہ وہاں سے خام تیل کی ترسیل جاری رہے۔ بحیثیت ملک، ہمیں خام تیل درآمد کرنے اور اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے سپلائی جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔‘
پاکستانی ریفائنریاں افریقہ اور امریکہ سے بھی خام تیل حاصل کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہیں، تاہم ابھی تک ان کے ساتھ کوئی حتمی انتظام نہیں ہوسکا۔
یہ پیش رفت پاکستان میں ایندھن کے تحفظ سے متعلق کئی ہفتوں سے جاری خدشات کے بعد سامنے آئی ہے۔
لڑائی کے باعث تیل اور گیس کی ترسیل متاثر ہوئی، مال برداری اور انشورنس کے اخراجات بڑھے اور ملک میں پیٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔
پیٹرولیم کے وزیر علی پرویز ملک نے ہفتے کے آخر میں کہا تھا کہ اگر شدید قلت پیدا ہوئی تو پیٹرول کی قیمت ایک ہزار روپے فی لیٹر تک پہنچ سکتی ہے۔
تاہم انہوں نے اسے پیش گوئی کے بجائے ممکنہ قلت کی صورت میں ایک ممکنہ نتیجے کے طور پر بیان کیا تھا۔
اسد حسن نے کہا کہ وزیر کے بیان کو بعد میں آنے والی ممکنہ قلت کی وارننگ کے طور پر لیا گیا، تاہم ان کے مطابق فی الحال ایندھن کی قلت کا خدشہ نہیں ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے کہا، ’ایندھن کے حوالے سے فی الحال قلت کا کوئی خاص خدشہ نہیں ہے۔ وزیر نے ایک ممکنہ قلت کے نتیجے کی مثال کے طور پر یہ بات کہی تھی، ان کا مطلب یہ نہیں تھا کہ ایسی صورتِ حال واقعی پیدا ہونے والی ہے۔‘
ایڈیشنل سیکریٹری پیٹرولیم ظفر عباس نے بھی بتایا کہ پاکستان کے پاس اکتوبر کے لیے مناسب مقدار میں ایندھن کا انتظام موجود ہے جبکہ نومبر کی ضروریات آنے والے ہفتوں میں طے کی جائیں گی۔
انہوں نے عرب نیوز کو بتایا کہ ’باب المندب کے راستے سپلائی جاری ہے اور اکتوبر کے لیے کافی ایندھن موجود ہے، جبکہ نومبر کے انتظامات اگلے ماہ کیے جائیں گے۔‘
حکومت پہلے بھی بتا چکی ہے کہ پاکستان بڑے سٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر کے بجائے تجارتی ذخائر پر انحصار کرتا ہے، جس کے باعث خام تیل کی ترسیل میں طویل رکاوٹ کی صورت میں ملک زیادہ متاثر ہوسکتا ہے۔
ایک پاکستانی ریفائنری کے سینئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بحیرہ احمر کے راستے کو آبنائے ہرمز میں رکاوٹ کے بعد ملک کی ’لائف لائن‘ قرار دیا۔
ایک اور صنعتی عہدیدار کے مطابق سپلائی کی بحالی سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں براہِ راست کم نہیں ہوں گی، تاہم پاکستانی ریفائنریوں کو زیادہ لچک ملے گی اور ملک میں شدید قلت کا خطرہ کم ہوگا۔
انہوں نے کہا، ’سپلائی کی بحالی سے پاکستانی ریفائنریوں پر دباؤ کم ہوگا، جو اس سے قبل آبنائے ہرمز کے گرد پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے باعث سپلائی میں مشکلات اور مخصوص راستوں پر انحصار کا سامنا کر رہی تھیں۔‘
