اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے خیبرپختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں مسجد پر خودکش حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے تمام ریاستوں پر زور دیا ہے کہ وہ اس حملے کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے حکومت پاکستان کے ساتھ فعال تعاون کریں۔
سلامتی کونسل کے صدر جیروم بونافون نے 22 ستمبر کو جاری بیان میں کہا کہ 18 ستمبر 2026 کو کوہاٹ کی ایک مسجد میں ہونے والا خودکش حملہ ’گھناؤنا اور بزدلانہ‘ فعل تھا، جس کے نتیجے میں کم از کم 24 پاکستانی شہری جان سے گئے اور 88 زخمی ہوئے۔
بیان کے مطابق جان سے جانے والوں میں سات عام شہری اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 17 اہلکار بھی شامل تھے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
حملے کی ذمہ داری حافظ گل بہادر سے منسلک دھڑے اور مقامی عسکریت پسند گروپ اتحاد المجاہدین پاکستان نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
سلامتی کونسل کے ارکان نے متاثرین کے اہل خانہ، حکومت پاکستان اور پاکستانی عوام سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا، جبکہ زخمیوں کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
ساتھ ہی بیان میں اس حملے میں ملوث افراد، منصوبہ سازوں اور معاونین کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
سلامتی کونسل نے اپنے بیان میں دہشت گردی کی تمام شکلوں اور مظاہر کو بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے سنگین ترین خطرات میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’دہشت گردی کی کوئی بھی کارروائی، اس کے محرکات، مقام، وقت یا اس کے مرتکب افراد سے قطع نظر، مجرمانہ اور ناقابل جواز ہے۔‘
کونسل کے ارکان نے تمام ریاستوں پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے تحت اپنی ذمہ داریوں کے مطابق اس حملے کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے حکومت پاکستان کے ساتھ فعال تعاون کریں۔
بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ تمام ممالک اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں، بشمول انسانی حقوق، پناہ گزینوں اور بین الاقوامی انسانی قانون، کے مطابق دہشت گردی سے پیدا ہونے والے خطرات کا مقابلہ کریں۔
