دفتر خارجہ نے منگل کو بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سعودی عرب پر ایران کی حمایت یافتہ حوثی باغی گروپ کے حالیہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے مکہ دفاعی معاہدے کے تحت تعاون مزید مضبوط بنانے کے لیے اسلام آباد کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
حوثیوں نے رواں ماہ سعودی عرب کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے۔ گروپ نے رواں سال کے آغاز میں سعودی عرب کی بحری ناکہ بندی کی دھمکی دی تھی۔
یمن کی حکومت کی حمایت کرنے والے اتحاد کے مطابق ہفتے کو ریاض کو نشانہ بنانے والے ایک بیلسٹک میزائل کو مار گرایا گیا۔
گذشتہ ہفتے سعودی فورسز نے مکہ مکرمہ کی جانب آنے والے ایک میزائل کو بھی روک لیا تھا، جس پر دنیا بھر کے مسلم ممالک کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا۔
Deputy Prime Minister/Foreign Minister Senator Mohammad Ishaq Dar @MIshaqDar50 met with His Highness Prince Faisal bin Farhan Al Saud @FaisalBinFarhan, Foreign Minister of Saudi Arabia, on the sidelines of the 81st Session of the UN General Assembly in New York today.
The two… pic.twitter.com/QyrhzdriyG
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) September 22, 2026
رواں ماہ حوثیوں کے مختلف حملوں میں سعودی عرب میں 80 سے زائد افراد زخمی ہوئے، جبکہ ایک اہم تیل پائپ لائن کی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔ پاکستان مسلسل ان حملوں کی مذمت کرتا رہا ہے اور اگست میں سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ طے پانے والے سہ فریقی دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کی مدد کرنے کے عزم کا اظہار کر چکا ہے۔
پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر نیویارک میں اسحاق ڈار نے اپنے سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان سے ملاقات کی۔
دفتر خارجہ نے کہا کہ ’نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے مملکت کو نشانہ بنانے والے حالیہ حملوں کی مذمت کی۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
دفتر خارجہ کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال کیا اور معاہدے کے تحت تعاون مزید مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ خطے میں امن، استحکام اور سلامتی کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔
مکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان، ترکی اور سعودی عرب میں سے کسی ایک ملک پر حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
علاوہ ازیں اسحاق ڈار اور فیصل بن فرحان نے سفارتی اور سرکاری/خصوصی پاسپورٹ رکھنے والے دونوں ممالک کے افراد کے لیے ویزا کی شرط ختم کرنے کے معاہدے پر بھی دستخط کیے۔
اسحاق ڈار نے امید ظاہر کی کہ اس اقدام سے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اعلیٰ سطحی روابط اور ادارہ جاتی تبادلوں میں مزید سہولت پیدا ہوگی اور دونوں ممالک کے اسٹریٹجک شراکت داری کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔
