’میرے بابا شپ پر ہیں۔‘کراچی سے تعلق رکھنے والے انجینیئر محمد حماد عبیدہ کا تین سالہ بیٹا آج بھی اپنے والد کے بارے میں یہی کہتا ہے۔ اسے اتنا معلوم ہے کہ اس کے والد جہاز پر کام کرتے ہیں اور عموماً کئی ماہ بعد واپس آتے ہیں، مگر اسے یہ معلوم نہیں کہ 13 ستمبر کو عمان کے قریب جس بحری جہاز پر حملہ ہوا، اس کے بعد سے اس کے والد کہاں ہیں۔
محمد حماد عبیدہ پانامہ کے پرچم بردار جہاز ’ MT El Gaia‘ پر تھرڈ انجینیئر کے طور پر کام کر رہے تھے اور اہل خانہ کے مطابق حملے کے وقت انجن روم میں ڈیوٹی پر موجود تھے۔ حملے کے بعد سے وہ لاپتہ ہیں۔
ان کے اہل خانہ کو اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ آیا حماد زندہ ہیں یا نہیں۔ پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ لاپتہ پاکستانی شہری کی حتمی موجودگی کا مقام معلوم نہیں اور اس مرحلے پر ان کی موت کی تصدیق کرنا قبل از وقت ہوگا۔
حماد کی والدہ ثروت زرین نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ ان کا بیٹا تقریباً 10 سے 12 سال سے بحری جہازوں پر ملازمت کر رہا تھا اور اپنے پیشے سے متعلق مزید امتحانات کے لیے کئی مرتبہ برطانیہ بھی گیا۔
ان کے مطابق حماد کی تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت کے لیے خاندان نے بہت کچھ خرچ کیا۔
ثروت کہتی ہیں کہ حماد کی گمشدگی نے پورے خاندان کو ایک ایسی بے یقینی میں مبتلا کر دیا ہے جس کا کوئی اختتام نظر نہیں آ رہا۔
’ہم زیرو پر کھڑے ہیں، صرف انتظار کر رہے ہیں کہ شاید اللہ پاک کوئی معجزہ دکھا دے۔‘
وہ بتاتی ہیں کہ حماد کا تین سالہ بیٹا ابھی چھوٹا ہے اور اپنے والد کی غیر موجودگی کو پوری طرح سمجھنے کی عمر میں نہیں۔
’وہ کبھی کبھی باتوں میں کہتا ہے کہ میرے بابا شپ پر ہیں۔ وہ بچہ ہے، اسے کیا معلوم کہ کیا ہوا ہے۔‘
ثروت زرین کے مطابق اگر ان کے بیٹے کو واقعی کچھ ہوا ہے اور اسے ’شہادت‘ کا درجہ ملا ہے تو وہ اللہ کی رضا میں راضی ہیں، لیکن خاندان کو کم از کم یہ بتایا جانا چاہیے کہ ان کے بیٹے کے ساتھ کیا ہوا۔
’جن کے پاس یہ کام ہے، انہیں ہمیں لکھ کر اور واضح طور پر بتانا چاہیے کہ اس سلسلے میں کیا پیش رفت ہوئی ہے۔‘
حماد کے چھوٹے بھائی محمد فواد عبیدہ کے مطابق ان کے بھائی تقریباً 14 سال سے میری ٹائم فیلڈ میں کام کر رہے تھے اور بطور تھرڈ انجینیئر مختلف جہازوں پر خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔
فواد کے مطابق حماد 6 ستمبر کی رات روانہ ہوئے اور 7 ستمبر کو عمان سے جہاز پر سوار ہوئے تھے۔
ان کے مطابق حماد نے آخری مرتبہ خاندان کو بتایا تھا کہ جہاز متحدہ عرب امارات سے ملائیشیا کی طرف جا رہا ہے اور ممکنہ طور پر 15 روز میں ملائیشیا پہنچے گا۔
فواد نے بتایا کہ 13 ستمبر کی رات خاندان کو اطلاع ملی کہ جہاز پر حملہ ہوا ہے۔
’ہمیں یہ معلوم ہوا کہ شاید میزائل یا ڈرون حملہ ہوا ہے اور اس کے نتیجے میں انجن روم اور اس کے آس پاس خوفناک صورت حال پیدا ہوئی۔‘
ان کے مطابق بعد میں انہیں بتایا گیا کہ حملے کے وقت حماد انجن روم میں موجود تھے۔
’ہمیں سرکاری طور پر کہیں سے بھی تصدیق نہیں ہوئی کہ میرا بھائی شہید ہو گیا ہے یا زندہ ہے۔‘
فواد کا کہنا ہے کہ کچھ کریو ممبرز کی مشاہداتی معلومات کی بنیاد پر خاندان کو خدشہ ہے کہ حماد شاید جان سے چلے گئے ہیں، لیکن اس بارے میں کوئی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی۔
انہوں نے بتایا کہ حملے سے تقریباً چھ گھنٹے قبل ان کی حماد سے بات ہوئی تھی اور اس وقت حماد نے کسی خطرے کا ذکر نہیں کیا تھا۔
’اس نے کوئی اس طرح کی بات نہیں کی تھی۔ ہمیں تو بعد میں اس کے ایک بیچ میٹ کے ذریعے معلوم ہوا کہ اس طرح کا واقعہ ہو گیا ہے اور محمد حماد عبیدہ، جو تھرڈ انجینیئر تھے، ابھی تک لاپتہ ہیں۔‘
فواد کے مطابق خاندان کئی دن سے یہ جاننے کی کوشش کر رہا ہے کہ حماد کہاں ہیں اور ان کے ساتھ کیا ہوا۔
جہاز پر کتنے افراد تھے؟
فواد عبیدہ کے مطابق جہاز پر 25 کریو ممبرز موجود تھے، جن میں سے 23 افراد کو ریسکیو کیا گیا جبکہ دو لاپتہ ہوئے۔ ان کے مطابق ان ایک انڈین شہری سمیت ان کا بھائی محمد حماد عبیدہ ان دو لاپتہ افراد میں شامل ہیں۔
فواد کے لیے اپنے بھائی کی گمشدگی کے ساتھ سب سے مشکل سوال حماد کے تین سالہ بیٹے کا ہے۔
’وہ آج بھی تصاویر دیکھتا ہے، بار بار بابا کہتا ہے اور کہتا ہے کہ ویڈیو کال کے ذریعے بات کروائیں۔ اب میں اسے کیا بتاؤں؟‘
فواد کہتے ہیں کہ انہیں سمجھ نہیں آتا کہ بچے کو کس طرح بتایا جائے کہ اس کے والد کے بارے میں ابھی تک کچھ معلوم نہیں۔
خاندان کا حکومت سے رابطے اور معلومات کا مطالبہ
فواد کے مطابق انہوں نے وزارت خارجہ سمیت متعلقہ اداروں سے رابطہ کیا اور ذاتی طور پر بھی دفتر خارجہ گئے۔
ان کا کہنا ہے کہ انہیں یہ واضح طور پر نہیں بتایا گیا کہ حکومت پاکستان کو واقعے کے بارے میں کیا معلومات حاصل ہیں یا لاپتہ پاکستانی کی تلاش کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
فواد نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ واقعے کو سنجیدگی سے لیا جائے اور خاندان کو حماد کے بارے میں باقاعدہ معلومات فراہم کی جائیں۔
انہوں نے کہا: ’جو ہونا تھا وہ ہو گیا، اب کم از کم یہ ہونا چاہیے کہ حکومت اس واقعے کی ذمہ داری لے اور ہمارے بھائی کے بارے میں معلومات حاصل کرے۔‘
پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے 17 ستمبر 2026 کو ہفتہ وار پریس بریفنگ میں بتایا تھا کہ 13 ستمبر کو عمان کے ساحل کے قریب ایک بحری جہاز حملے کی زد میں آیا۔
ترجمان کے مطابق: ’جہاز پر 23 پاکستانی کریو ممبرز موجود تھے، جن میں سے 22 کو بحفاظت نکال لیا گیا جبکہ ایک پاکستانی، جو انجن روم میں موجود تھا، تاحال لاپتہ ہے۔‘
ترجمان نے مزید کہا کہ ’لاپتہ پاکستانی کی حتمی موجودگی کا مقام ابھی معلوم نہیں ہوا۔‘
دفتر خارجہ کے مطابق جہاز کو اب متحدہ عرب امارات لے جایا جا رہا ہے اور محفوظ رہنے والے پاکستانیوں کو وہاں سے پاکستان واپس لایا جائے گا۔
یوں محمد حماد عبیدہ کے خاندان کے لیے فی الحال سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ وہ کہاں ہیں۔ ان کی والدہ ثروت اور بھائی فواد سرکاری تصدیق کے منتظر ہیں، جبکہ حماد کا تین سالہ بیٹا اب بھی یہی سمجھتا ہے کہ اس کے ’بابا شپ پر ہیں۔‘
