حکومت نے جمعے کو اعلان کیا ہے کہ پاکستان کے مرکزی بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر ’ریکارڈ بلند سطح‘ یعنی 21.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔
وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ زرمبادلہ کے ذخائر ریکارڈ بلند سطح پر پہنچنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کے بیرونی مالیاتی وسائل مضبوط ہو رہے ہیں اور مالیاتی بحرانوں سے نمٹنے کی صلاحیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
پاکستان گذشتہ چند برس سے معاشی بحران کا سامنا کرتا رہا ہے، جو 2023 میں عروج پر پہنچا جب ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر تین ارب ڈالر سے بھی کم رہ گئے تھے۔
2023 میں پاکستان قرضوں کی ادائیگی میں ناکامی اور دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ گیا تھا اور اس کے پاس درآمدات کی ادائیگی کے لیے صرف چند ہفتوں کے ذخائر باقی رہ گئے تھے تاہم، آخری وقت میں عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ ہونے والے مالیاتی بیل آؤٹ معاہدے نے پاکستان کو اپنے ذخائر بڑھانے اور بحران سے نکلنے میں مدد دی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کی تاریخ کی بلند ترین سطح 21.4 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اظہارِ تشکر کیا ہے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کا پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کی تاریخ کی بلند ترین سطح 21.4 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اظہارِ تشکر
“زرمبادلہ کے ذخائر 21.4 ارب ڈالر تک پہنچنا معاشی ٹیم کی دن رات محنت اور درست سمت میں کیے گئے اقدامات کا ثبوت ہے۔ ترسیلاتِ زر اور سروسز کی برآمدات میں نمایاں… pic.twitter.com/yUy7MCDxLR
— Government of Pakistan (@GovtofPakistan) September 18, 2026
ایکس پر جاری بیان میں وزیر اعظم نے لکھا: ’زرمبادلہ کے ذخائر 21.4 ارب ڈالر تک پہنچنا معاشی ٹیم کی دن رات محنت اور درست سمت میں کیے گئے اقدامات کا ثبوت ہے۔ ترسیلاتِ زر اور سروسز کی برآمدات میں نمایاں بہتری، کرنٹ اکاؤنٹ کی بہتر صورتحال اور مالیاتی نظم و ضبط نے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے میں اہم کردار ادا کیا۔‘
خرم شہزاد نے ایکس پر لکھا کہ زرمبادلہ کے ذخائر کی موجودہ سطح، یعنی 21.4 ارب ڈالر، کا مطلب ہے کہ پاکستان کے پاس تین ماہ سے زیادہ کی درآمدات کے لیے زرمبادلہ موجود ہے۔
ان کے مطابق 2023 میں معاشی بحران کے عروج پر پاکستان کے پاس صرف دو ہفتوں کی درآمدات کے لیے زرمبادلہ موجود تھا۔
خرم شہزاد نے جمعرات کو کہا: ’یہ صرف زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ نہیں ہے بلکہ پاکستان کے بیرونی مالیاتی وسائل اور معاشی بحرانوں سے نمٹنے کی صلاحیت میں نمایاں بہتری کی عکاسی کرتا ہے، جس سے بیرونی مالی ذمہ داریاں پوری کرنے اور عالمی معاشی جھٹکوں کا مقابلہ کرنے کی ملک کی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے۔‘
انہوں نے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کی وجوہات میں ترسیلات زر میں بہتری، خدمات کی برآمدات میں اضافہ، کرنٹ اکاؤنٹ کی بہتر صورت حال اور عالمی کیپیٹل مارکیٹوں تک دوبارہ رسائی کو قرار دیا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
خرم شہزاد نے کہا: ’بحرانی سطح کے ذخائر سے ریکارڈ بلند سطح تک، پاکستان کی بیرونی مالیاتی مضبوطی دوبارہ بحال ہو گئی ہے۔‘
یہ پیش رفت ایسے اہم وقت میں ہوئی ہے جب پاکستان مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع سے نمٹ رہا ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور پاکستان کے لیے ایندھن کی درآمد مہنگی ہوگئی ہے۔
پاکستان اپنی زیادہ تر ایندھن کی ضروریات مشرق وسطیٰ سے درآمد کرتا ہے اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کا مطلب ہے کہ اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے پاکستان کو زیادہ رقم ادا کرنا ہوگی۔
پاکستان نے گذشتہ برسوں میں پائیدار معاشی ترقی حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف توانائی، ٹیکس نظام، سرکاری ملکیتی اداروں اور دیگر شعبوں میں طویل مدتی اصلاحات پر زور دیتے رہے ہیں۔
پاکستان کو امید ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے سے چین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور آئی ایم ایف جیسے دوطرفہ اور کثیرالجہتی قرض دہندگان پر اس کا انحصار کم کرنے میں مدد ملے گی۔
