پاکستان اور گوگل کے درمیان معاہدے کی تفصیل ظاہر کرنے کا مطالبہ

پاکستان میں قائم میڈیا واچ ڈاگ ’فریڈم نیٹ ورک‘ نے گوگل اور حکومت پاکستان سے سوال کیا ہے کہ دونوں کے درمیان حالیہ شراکت داری کے معاہدے میں نگرانی، سنسرشپ اور شہریوں کی ذاتی معلومات تک غیر ضروری رسائی روکنے کے لیے کیا حفاظتی اقدامات شامل کیے گئے ہیں۔

فریڈم نیٹ ورک نے بدھ کو جاری ایک کھلے خط میں پاکستان میں ڈیجیٹل وژن کو آگے بڑھانے کے لیے گوگل اور حکومت کے درمیان مفاہمت کی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کا خیرمقدم کیا، تاہم معاہدوں کی تفصیلات عوام کے سامنے نہ لائے جانے پر تشویش کا اظہار کیا۔

میڈیا واچ ڈاگ نے سوال اٹھایا کہ ’آخر کیا طے کیا گیا ہے؟ کیا حکومت یا گوگل تمام مفاہمت کی یادداشتیں، معاہدے، کنٹریکٹس یا دیگر انتظامات شائع کریں گے؟ 

’اگر معاہدے کی بعض شقوں کو خفیہ رکھنا ضروری ہے تو یہ فیصلہ کس نے کیا، اس کی کیا وجہ تھی اور کس قانون کے تحت ایسا کیا گیا؟‘

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

صحافتی آزادیوں کے لیے سرگرم ادارے نے یہ بھی پوچھا کہ کیا صارفین کے ڈیٹا، مواد، میٹا ڈیٹا یا حکومتی ڈیٹا بیس تک رسائی سے متعلق کوئی غیر اعلانیہ وعدے یا یقین دہانیاں بھی ان معاہدوں کا حصہ ہیں؟

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے 18 اگست، 2026 کو اسلام آباد میں گوگل کے نو رکنی وفد سے ملاقات کی تھی، اس موقعے پر پاکستان میں گوگل کے پہلے دفتر کا افتتاح بھی کیا گیا۔

وفد کی قیادت گوگل کے حکومتی امور اور عوامی پالیسی کے نائب صدر ولسن وائٹ کر رہے تھے جبکہ اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کی ناظم الامور نیٹلی بیکر بھی وفد کے ہمراہ موجود تھیں۔

وزیراعظم نے پاکستان میں دفتر کھولنے کے گوگل کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے کمپنی کے ساتھ پاکستان کی شراکت داری مزید مضبوط ہوگی۔

انہوں نے پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کو آگے بڑھانے میں گوگل کے کردار کو سراہا اور ان اقدامات کی تعریف کی جن کے ذریعے ہزاروں پاکستانی نوجوانوں کو باعزت اور مفید روزگار کے مواقع حاصل کرنے میں مدد ملی۔

شہباز شریف نے کہا تھا کہ گوگل کی مقامی موجودگی قائم ہونے کے بعد زیادہ اثر انگیز پروگراموں کو مزید وسعت دی جا سکتی ہے۔

ولسن وائٹ نے وزیراعظم کو گوگل کے مستقبل کے منصوبوں سے آگاہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ کمپنی پاکستان کی نوجوان آبادی میں موجود بے پناہ صلاحیتوں کو تسلیم کرتی ہے اور انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، گیمنگ اور دیگر شعبوں میں مہارت بڑھانے کے پروگراموں کو وسعت دینے کی خواہاں ہے۔

بعد ازاں وزیراعظم، ولسن وائٹ، نیٹلی بیکر اور دیگر شخصیات نے مشترکہ طور پر ایک یادگاری تختی کی نقاب کشائی کی، جس کے ذریعے پاکستان میں گوگل کے دفتر کے افتتاح کا باضابطہ اعلان کیا گیا۔

فریڈم نیٹ ورک نے اپنے کھلے خط میں مزید سوال اٹھایا کہ پاکستانی حکام کن حالات میں گوگل صارفین سے متعلق معلومات طلب کر سکتے ہیں؟ 

’کیا ہر درخواست کے لیے قانونی طور پر درست طریقۂ کار اور عدالتی نگرانی لازمی ہوگی؟ کیا گوگل ایسی درخواستوں کو مسترد کرنے کا اختیار رکھے گا جو حد سے زیادہ وسیع، مبہم یا بنیادی حقوق سے متصادم ہوں؟‘

فریڈم نیٹ ورک نے یہ بھی جاننا چاہا کہ آیا ان معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں میں حکومت کی جانب سے صحافیوں کے Gmail، Google Drive، تصاویر، YouTube اکاؤنٹس، سرچ سے متعلق معلومات یا دیگر ایسے ڈیٹا تک رسائی کے خلاف واضح اور غیر مبہم حفاظتی ضمانتیں شامل ہیں جو صحافیوں کے خفیہ ذرائع کو بے نقاب کر سکتے ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

میڈیا واچ ڈاگ نے گوگل سے مطالبہ کیا کہ وہ اس بات کی ضمانت دے کہ محض کسی حکومتی ادارے کی درخواست پر کوئی مواد حذف نہیں کیا جائے گا یا مواد کو بلاک یا حذف کرنے کی درخواستوں کا جائزہ شفاف قانونی اصولوں کے تحت لیا جائے گا۔ 

ادارے نے کہا کہ جہاں قانوناً ممکن ہو، صارفین کو ایسے فیصلوں سے آگاہ کیا جانا چاہیے اور انہیں انہیں چیلنج کرنے کا موقع بھی دیا جانا چاہیے۔

فریڈم نیٹ ورک نے پاکستانی شہریوں کے ڈیٹا کو ذخیرہ کرنے کے مقام کے حوالے سے بھی تشویش کا اظہار کیا۔

ادارے کے مطابق پاکستان اس وقت قومی ڈیٹا گورننس کا ایک ایسا فریم ورک تشکیل دے رہا ہے جو ڈیٹا کی خود مختاری، کم سے کم معلومات کے افشا اور شہریوں کے اس حق پر زور دیتا ہے کہ وہ جان سکیں کہ ان کی معلومات تک کس نے رسائی حاصل کی ہے۔

میڈیا واچ ڈاگ نے گوگل سے سوال کیا کہ پاکستانی صارفین کا ڈیٹا پاکستان میں، بیرون ملک یا دونوں مقامات پر رکھا جائے گا۔ 

فریڈم نیٹ ورک نے کہا کہ گوگل اور حکومت پاکستان کے درمیان ڈیٹا شیئرنگ کے کوئی غیر رسمی یا غیر دستاویزی انتظامات نہیں ہونے چاہییں۔

پریس ریلیز میں میڈیا واچ ڈاگ نے ٹیکنالوجی کمپنی سے یہ سوال بھی کیا کہ ’پاکستان میں گوگل کی جانب سے رازداری اور انسانی حقوق کے حفاظتی اقدامات پر عمل درآمد کا آزادانہ آڈٹ کون کرے گا؟‘

فریڈم نیٹ ورک نے تجویز دی کہ اس سوال کا جواب صرف حکومت نہیں ہونا چاہیے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *