پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 27 ستمبر اور جماعت اسلامی کے 20 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کے اعلان کے بعد شہر کے مختلف داخلی اور خارجی راستوں کو بند کرنے کے لیے سڑکوں کے کنارے پر بڑی تعداد میں کنٹینر رکھ دیے گئے ہیں۔
صورت حال کو دیکھتے ہوئے وفاقی حکومت نے صوبوں سے پولیس کی نفری طلب کر لی ہے جب کہ پنجاب میں پانچ روز کے لیے عوامی اجتماعات پر پابندی لگا دی گئی ہے۔
پی ٹی آئی رہنما اور خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے پانچ اگست کو پشاور میں ایک جلسے سے خطاب میں 27 ستمبر کو اسلام آباد جانے کا اعلان کیا تھا۔
اپنے خطاب میں ان کا کہنا تھا ’اب بہت ہو چکا، نکلنے کا وقت آ گیا ہے۔ 27 ستمبر کو اسلام آباد مارچ ہو گا۔
’اگر آپ سب عمران خان کے لیے تیار ہیں تو پھر 27 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کریں گے۔‘
ادھر امیر جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے 12 ستمبر کو گوجرانوالہ میں جلسے خطاب کرتے ہوئے پیٹرولیم لیوی کے خاتمے، مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی کے خلاف جاری احتجاج اور دھرنے کو لانگ مارچ میں تبدل کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے 20 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔
دونوں لانگ مارچز کے پیش نظر کسی بھی صورت حال سے نمٹنے اور سکیورٹی یقینی بنانے کے لیے اسلام آباد میں تعیناتی کے لیے پنجاب، سندھ اور بلوچستان سے ساڑھے 23 ہزار پولیس اہلکار طلب کر لیے ہیں۔
کابینہ ڈویژن کے 12 ستمبر کے مراسلے کے مطابق پنجاب سے 15 ہزار، سندھ سے آٹھ ہزار اور بلوچستان سے 500 اہلکار 20 ستمبر تک اسلام آباد پہنچانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
پنجاب میں عوامی اجتماعات پر پابندی
پنجاب حکومت نے دہشت گردی کی ممکنہ کارروائیوں کے حوالے سے ’متعدد تھریٹ الرٹس‘ کا حوالہ دیتے ہوئے 13 سے 17 ستمبر تک صوبے بھر میں ہر قسم کے اجتماعات پر پانچ روز کے لیے پابندی عائد کر دی ہے۔
13 ستمبر کو جاری کیے گئے نوٹیفکیشن میں کہا گیا ’امن و امان اور جان و مال کو لاحق سنگین خطرات کے پیش نظر پنجاب بھر میں دفعہ 144 نافذ کی گئی ہے۔
’قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو فوری نوعیت کے خطرات کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق ’دہشت گرد تنظیمیں عوامی اجتماعات کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔‘
’جلسوں، ریلیوں، مجالس، دھرنوں، جلوسوں اور مظاہروں کی صورت میں لوگوں کے بڑے اجتماعات کے ممکنہ دہشت گرد حملوں کا آسان ہدف بننے کا خدشہ ہے۔‘
پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاریاں
لانگ مارچ سے قبل پی ٹی آئی نے دعویٰ کیا ہے کہ پنجاب کے مختلف شہروں میں پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کی مبینہ گرفتاریاں اور گھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
پی ٹی آئی کے مطابق حکومت کارکنوں کو اسلام آباد پہنچنے سے روکنے کے لیے یہ کارروائیاں کر رہی ہے۔
تاہم پنجاب حکومت کا کہنا ہے کہ لانگ مارچ کے حوالے سے عدالت جو فیصلہ دے گی، اس پر عمل درآمد کیا جائے گا۔
حکومتی عہدے داروں نے واضح کیا ہے کہ احتجاج یا لانگ مارچ کے نام پر امن و امان خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
