’جیسے جی ایم سید بول رہے ہوں‘

کراچی کی حبس زدہ ہوائیں جب لیاری کی تنگ گلیوں، بوسیدہ عمارتوں اور کھڈہ مارکیٹ کی پرانی دیواروں سے ٹکراتی ہوئی گزرتی ہیں تو اپنے ساتھ صرف بیتے ہوئے قصوں کی صدا نہیں سناتیں بلکہ تاریخ کے وہ ابواب بھی واضح کر دیتی ہیں جو وقت کی گرد میں کہیں دب گئے ہیں۔

ان ابواب میں فکر کا تصادم بھی ہے، قومیت کا سوال بھی، مذہب کی تعبیر کا اختلاف بھی اور اپنی مٹی، زبان اور شناخت سے وفا داری کا وہ عہد بھی، جسے وقت کی کروٹیں مٹا نہیں سکیں۔

یہ کہانی ایک ایسے خط سے شروع ہوتی ہے جس نے نصف صدی قبل پاکستان کی ایک معتبر دینی جماعت کے اندر فکری ہلچل پیدا کر دی تھی۔

13 مارچ 1972 کی ایک صبح، جب بنگلہ دیش کے قیام کی صورت میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا زخم ابھی تازہ تھا اور ملک اپنی نئی شناخت تلاش کر رہا تھا، ڈیرہ اسماعیل خان سے قومی اسمبلی کے رکن اور جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی ناظم مفتی محمود کو اپنی جماعت کے سکھر کے سٹیشن روڈ پر واقع دفتر سے ایک مکتوب موصول ہوا۔

اس خط میں جے یو آئی سندھ کے جنرل سیکرٹری حافظ محمد اسماعیل کی جانب سے بھیجی گئی ایک طویل قرارداد تھی، جو تقریباً ڈیڑھ ماہ قبل، 30 جنوری 1972 کو جمعیت کے ایک اجلاس عام میں منظور کی گئی تھی۔ اس وقت مولانا محمد شاہ امروٹی صوبائی امیر تھے جبکہ حافظ محمد اسماعیل صوبائی جنرل سیکرٹری کی حیثیت سے تنظیمی امور چلا رہے تھے۔

جب مفتی محمود نے اس قرارداد کے الفاظ پر نگاہ دوڑائی، تو ان کا قلم بے ساختہ ایک تاریخی شکوہ رقم کرنے لگا: ’کل سفر سے واپس آیا۔ ڈاک میں آپ کی وہ قرارداد ملی جو بہت طویل تھی۔ میرے محترم! میں تو اس قرارداد کو پڑھ کر یوں محسوس کر رہا تھا جیسے جی ایم سید بول رہے ہوں اور سندھی قومیت ہی جمعیت علمائے اسلام کا واحد مقصد ہے۔‘

یہ جملہ محض ایک تنقید نہیں تھا، بلکہ ایک ایسا سچ تھا جس نے مذہب کے نام پر بننے والے بیانیے اور وطن، مٹی اور زبان سے جڑی ’سندھی قوم پرستی‘ کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا تھا۔

مفتی محمود کے لیے اس قرارداد کا متن کسی دھماکے سے کم نہیں تھا۔ انہوں نے متنبہ کیا تھا کہ اگر اس پالیسی کو اپنایا گیا تو جمعیت علمائے اسلام صرف حیدر آباد اور سکھر تک محدود ہو کر رہ جائے گی اور جی ایم سید کے نظریاتی مقام سے آگے نہیں بڑھ سکے گی۔

جمعیت علمائے اسلام سندھ کی اس قرارداد میں مرکز کے پاس صرف چار شعبے (دفاع، خارجہ، کرنسی اور بیرونی تجارت) رکھنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

 لیکن بات صرف اختیارات کی نہیں تھی بلکہ یہ سندھی شناخت اور وسائل کے تحفظ کا ایک مکمل بیانیہ تھا۔ مطالبہ کیا گیا کہ سندھ کے تمام اعلیٰ اداروں میں تعلیم اور سرکاری خط و کتابت صرف سندھی زبان میں ہو۔

1945 کے تاریخی معاہدے کے تحت سندھ کے پانی کا حق تسلیم کرنے پر زور دیا گیا۔ ون یونٹ کے نفاذ کے بعد آنے والے بیرونی افسران کو واپس بھیجنے، ان کے ڈومیسائل منسوخ کرنے اور ووٹر لسٹوں سے غیر مقامی افراد کے نام خارج کرنے کی سفارش کی گئی۔

اس کے ساتھ ساتھ غیر مقامی افراد کو سندھ میں الاٹ کی گئی زمین کی لیز ختم کرنے کا مطالبہ بھی اس قرارداد کا حصہ تھا۔

مفتی محمود نے اسے مسترد کر دیا۔ اس نظریاتی اختلاف پر حافظ محمد اسماعیل نے جمعیت سے علیحدگی اختیار کر لی۔ انہوں نے پہلے ’سندھ ساگر پارٹی‘ کی بنیاد رکھی اور بعد میں 1984 میں ’جمعیت علمائے سندھ‘ کو دوبارہ سرگرم کیا، جو بنیادی طور پر 1920 میں قائم ہوئی تھی۔

’دیوبند ثانی‘ کی منفرد فکر

اس قوم پرستانہ مذہبی بیانیے کی جڑیں کراچی کے علاقے لیاری میں واقع 134 سال پرانے مدرسہ عربیہ مظہر العلوم سے جا ملتی ہیں۔ 1884 میں مولانا عبداللہ کے قائم کردہ اس ادارے کو ’دیوبند ثانی‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

مدرسے کی تاریخ کا ایک اہم باب یہ ہے کہ مولانا عبداللہ کے صاحبزادے مولانا محمد صادق، موجودہ پاکستان پر مشتمل خطے سے ہندوستان میں قائم دارالعلوم دیوبند میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے جانے والے اولین افراد میں شامل تھے۔

یہاں مذہب اور وطنی قوم پرستی کا ایک منفرد امتزاج دکھائی دیتا ہے۔ مدرسے کے موجودہ مہتمم و پرنسپل اور جامعہ کراچی کے شعبہ تحقیق سے منسلک مولانا محمود حسن بتاتے ہیں کہ ان کے آباؤ اجداد نے تحریک آزادی ہند کے دوران شیخ الہند مولانا محمود الحسن اور مولانا عبید اللہ سندھی کے ساتھ مل کر کام کیا تھا۔

ان کے بقول: ’شیخ الہند نے تقسیم کی مخالفت کی تھی کیونکہ مذہب قوم کی بنیاد نہیں بن سکتا۔ قوم عقیدے، علاقے اور زبان کی بنیاد پر بنتی ہے۔ اگر پاکستان بنا ہے تو صوبوں نے اسے بنایا ہے اور ہر صوبے کے اپنے حقوق ہیں۔‘

کالا باغ ڈیم کے خلاف فتوی

سندھ کے حقوق کی پاسداری صرف سیاسی قراردادوں تک محدود نہیں رہی بلکہ پانی اور وسائل کے معاملے میں بھی اس مدرسے کا مؤقف ایک باقاعدہ فتوے کی صورت میں سامنے آیا۔ مولانا محمود حسن کالا باغ ڈیم کی تعمیر کو مذہبی اور ماحولیاتی، دونوں حوالوں سے غیر اسلامی قرار دیتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے: ’جب آپ پانی روکتے ہیں تو سندھ کے لوگ محروم ہو جاتے ہیں۔ اس سے ساحلی کٹاؤ کی وجہ سے ماحولیاتی مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں اور سمندر بردگی سے کئی گاؤں غائب ہو چکے ہیں۔ چونکہ کالا باغ ڈیم صوبے کو اس کے حقوق سے محروم کرتا ہے، اس لیے یہ غیر اسلامی ہے۔‘

یہی منفرد فکر تھی جس نے اس مدرسے کو افغان اور کشمیر ’جہاد‘ کے عمومی بیانیے سے بھی فاصلے پر رکھا۔

 اس معاملے میں مولانا محمود حسن کا مؤقف آج بھی دوٹوک ہے: ’ہم نہ تو 80 کی دہائی کی جنگ کو جہاد مانتے ہیں اور نہ طالبان کی جنگ کو۔ اگر آپ اسے قومی مزاحمت کہیں گے تو ہم حمایت کریں گے۔ اسی طرح مقبوضہ کشمیر میں جاری جدوجہد حق خود ارادیت کی جنگ ہے، مذہبی جہاد نہیں۔‘

اصولوں کی قیمت: تنہائی اور زوال

اس منفرد اور نسبتاً اعتدال پسند نظریے نے مدرسہ مظہر العلوم کو ایک گہری سیاسی اور مالی تنہائی میں دھکیل دیا ہے۔

ایک دور تھا جب 1970 کی دہائی میں ملکی ادارے اس مدرسے سے اپنے خطیبوں کا انتخاب کرتے تھے، لیکن افغان جدوجہد کی توثیق نہ کرنے کے باعث اسے اس فہرست سے نکال دیا گیا۔ آج یہ ادارہ وفاق المدارس العربیہ سے بھی رجسٹرڈ نہیں ہے جبکہ مالی وسائل کی کمی کے باعث یہاں زیر تعلیم طلبہ کی تعداد سینکڑوں سے گھٹ کر محض دو درجن کے قریب رہ گئی ہے۔

مدرسے کی لائبریری میں آج بھی انگریزی، اردو اور سندھی روزنامے رکھے جاتے ہیں۔ طلبہ کو بنیاد پرستی سے محفوظ رکھنے کے لیے ابن خلدون کا مقدمہ، شاہ ولی اللہ کی حجۃ اللہ البالغہ اور امام غزالی کی منہاج العابدین جیسی کتب پڑھائی جاتی ہیں۔

مدرسے کے مہتمم، مولانا محمود حسن، اپنے نظریاتی سفر اور شناخت کا خلاصہ انتہائی خوبصورت انداز میں کرتے ہیں: ’میری قومیت سندھی ہے جبکہ ہماری اجتماعی قومیت پاکستانی ہے اور او آئی سی جیسے فورمز امت ہیں۔ دین تشدد کی تعلیم نہیں دیتا۔‘

لیاری کی خاموش گلیوں میں قائم یہ تاریخی درس گاہ آج بھی اسی فکر کے ساتھ اپنا وجود برقرار رکھے ہوئے ہے کہ زمین، زبان اور انسانیت کا احترام ہی دین کے اصل جوہر سے ہم آہنگ ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *