شاید ہم سب 10 سال بعد مر چکے ہوں گے، تو اب آپ کیا کرنے والے ہیں؟ یہ خوش کن سوال ایک عام سنیچر کی صبح میرا استقبال کر رہا تھا، جب سچ کہوں تو میں زیادہ تر اس بات کے بارے میں سوچ رہی تھی کہ دوپہر کے کھانے میں کیا کھاؤں گی۔
لیکن نہیں، اپنی (انسانی ہاتھوں سے بنائی گئی) سِکنی چائے لاٹے کی چسکیاں لیتے ہوئے مجھے معلوم ہوا کہ بظاہر مصنوعی ذہانت کی بدولت ہم سب تباہی کے راستے پر ہیں۔
ٹیکنالوجی کمپنی اینتھروپک کے ’الائنمنٹ سائنس‘ کے سربراہ ایون ہبنجر کے مطابق، (جی ہاں، یہ ہی وہ کمپنی ہے جس نے تشویش ناک طور پر اپنے تازہ ترین اور جدید ماڈل کو برطانیہ کے اے آئی سکیورٹی انسٹی ٹیوٹ کی حفاظتی جانچ سے دور رکھا اور اسے صرف امریکی اداروں کے لیے جاری کیا)، مصنوعی ذہانت ’اگلی دہائی میں تمام انسانوں کو مار سکتی ہے۔‘
انہوں نے اس ہفتے ایکس پر لکھا: ’ہم واقعی سنجیدگی سے یہ یقین رکھتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت تمام انسانوں کو مار سکتی ہے!
’ذاتی طور پر میرا خیال ہے کہ اگلی دہائی میں اس کا امکان 10 فیصد سے زیادہ ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اینتھروپک اپنی پوری کوشش کر رہی ہے، لیکن ہمارے پاس ابھی تک سپر انٹیلی جنس کو انسانی مقاصد کے مطابق رکھنے (الائنمنٹ) کا کوئی حل نہیں، اور نہ ہی ہم واضح طور پر اس سمت میں درست رفتار سے آگے بڑھ رہے ہیں۔‘
ہبنجر (جن کا نام اتفاق سے انگریزی لفظ Harbinger یعنی ’پیش خیمہ‘ سے کافی مشابہت رکھتا ہے، خصوصاً تباہی کے پیش خیمے سے) نے مزید کہا کہ موجودہ ماڈلز سے خطرہ کم ہے، لیکن جس چیز کے بارے میں وہ اور ان کے ساتھی فکر مند ہیں، یہاں تک کہ انہوں نے گذشتہ ماہ ایک نمایاں خطراتی رپورٹ میں اس کا ذکر بھی کیا، وہ ہے: ’خود کو بہتر بنانے کے بار بار دہرانے والے عمل سے پیدا ہونے والی سپر انٹیلی جنس، جو ہماری توقع سے زیادہ تیزی سے وجود میں آ رہی ہے۔‘
ہبنجر کے ایک ساتھی جیسن کاکسن، جو پہلے چیٹ جی پی ٹی بنانے والی کمپنی اوپن اے آئی میں کام کر چکے ہیں، اس معاملے سے اس قدر خوف زدہ ہیں کہ انہوں نے اینتھروپک میں مصنوعی ذہانت کے محقق کی اپنی ملازمت ہی چھوڑ دی۔
ان کا کہنا تھا: ’وہ خود کو بہتر بنانے والی سپر انٹیلی جنس کی دوڑ میں سیدھے بھاگے جا رہے ہیں اور ہماری زندگیاں داؤ پر لگا رہے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کی طاقت کو کم نہ سمجھیں۔‘
آپ سے واقفیت اچھی رہی، لیکن اصل دھچکا یہ ہے کہ یہ بات مکمل طور پر معقول محسوس ہوتی ہے۔ ظاہر ہے، مصنوعی ذہانت اتنی ذہین ہو جائے گی کہ دہائی کے اختتام تک پوری انسانی نسل سے جان چھڑانا اسے ایک منطقی فیصلہ لگ سکتا ہے! آخر کیوں نہیں؟
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
جب آپ دیکھتے ہیں کہ امریکہ کے موجودہ صدر، جو دنیا کے طاقتور ترین شخص بھی ہیں، ایران پر مسلسل اور بے معنی بمباری کر رہے ہیں اور ساتھ ہی انہیں ’غلیظ لوگ‘ اور ’پاگل‘ قرار دے رہے ہیں، یا پھر پورٹس ماؤتھ اور ڈوور میں سیاہ لباس پہنے انتہائی دائیں بازو کے غنڈوں کو دیکھتے ہیں، تو مجھے بھی یہ خیال کافی معقول لگتا ہے۔
ہمارا سیارہ مر رہا ہے، اور ہم حالات کو مزید خراب کیے جا رہے ہیں۔ رہی بات اس کی کہ مصنوعی ذہانت ہمیں کیسے ختم کرے گی، تو دی انڈپینڈنٹ کے نیوز روم میں اس پر مختلف خوفناک تصورات زیرِ بحث آئے۔
کسی نے تصور کیا کہ روبوٹ ایک ہی وقت میں دنیا کے تمام جوہری ہتھیار استعمال کر کے بچ جانے والوں کو ایٹمی موسم سرما میں دھکیل دیں گے۔
کسی نے کہا کہ وہ ہمیں قومی بجلی کے نظام سے کاٹ دیں گے۔ کسی کے خیال میں وہ پانی کی فراہمی روک دیں گے۔ یا اگر ان کا تخیل زیادہ زرخیز ہوا تو شاید ایسے جراثیم چھوڑ دیں جو ہم میں سے اکثریت کو فوراً مار دیں۔
’دی لاسٹ آف اَس‘، ذرا دیکھو تو سہی!
یہاں تک کہ وزیراعظم اینڈی برنم بھی بظاہر پریشان دکھائی دیتے ہیں۔ وزیراعظم کے سوالات کے سیشن میں انہوں نے لبرل ڈیموکریٹ رہنما ایڈ ڈیوی سے کہا: ’ہبنجر بالکل درست ہیں کہ مصنوعی ذہانت ہماری قومی سلامتی کے لیے خطرات پیدا کر سکتی ہے، لیکن یہ ہمیں زیادہ محفوظ رکھنے کے حل کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔‘
ہمم۔
مجھے یہ کہتے ہوئے اچھا نہیں لگتا، لیکن جب بات انسانی نسل کے مستقبل کی ہو تو وزیراعظم کا یہ ’کچھ ادھر، کچھ اُدھر‘ والا اندازِ فکر مجھے زیادہ اطمینان نہیں دیتا۔ سب کچھ ٹھیک بھی ہو سکتا ہے، یا پھر۔۔ بالکل ٹھیک نہ بھی ہو۔
دیکھتے ہیں! اس کے باوجود، ہمارے مرتے ہوئے سیارے میں خوبصورتی بھی موجود ہے اور یہی وہ چیز ہے جسے میں سب سے زیادہ یاد کروں گی۔ ہم سب کریں گے۔
جب آپ کے سامنے یہ امکان ہو کہ ہمارے پاس شاید صرف چار یا ممکنہ طور پر 10 سال باقی ہیں (دنیا کے خاتمے سے متعلق زبان پریشان کن حد تک غیر واضح ہے)، تو میں یہ سوچنے سے خود کو روک نہ سکی کہ میں باقی وقت کے ساتھ کیا کروں گی۔
خاص طور پر یہ کہ اگر یہ انتباہات درست ثابت ہوئے تو میں اپنے آخری سال کن لوگوں کے ساتھ گزارنا چاہوں گی۔ میں کن باتوں کی زیادہ فکر کروں گی اور کن باتوں کی کم۔
اور میں اپنا وقت شعوری طور پر کس انداز میں صرف کرنا چاہتی ہوں۔
اور حیرت انگیز طور پر میرا نتیجہ یہ ہے کہ میں تقریباً وہی کچھ کرتی رہوں گی جو اب کر رہی ہوں: اپنے پیاروں کے ساتھ وقت گزارنا، دوڑ لگانا اور لکھنا۔
سادہ؟ یقیناً۔
لیکن میری بہت انسانی عمر یعنی چالیس کی درمیانی دہائی میں سیکھا گیا ایک مشکل مگر قیمتی سبق وہ چیز ہے جس کے بارے میں مصنوعی ذہانت کو کچھ معلوم نہیں: زندگی سے لطف اندوز ہونے کا راز یہ ہے کہ اسے سادہ رکھا جائے اور ہر احساس کو پوری طرح محسوس کیا جائے۔
باہر چہل قدمی کے لیے جائیں۔ کسی صدیوں پرانے درخت کی چھال کو چھوئیں۔ کسی ایسے شخص کے لیے شان دار کھانا پکائیں جس کی آپ پروا کرتے ہیں۔ ہنسیں۔
شارک مچھلیوں پر بنی کوئی فضول سی فلم دیکھیں۔
گلے لگائیں۔
اور ’میں تم سے محبت کرتا ہوں‘ اتنی بار کہیں کہ یہ جملہ کسی پرانے لحاف کی طرح نرم اور مانوس ہو جائے۔
جب مصنوعی ذہانت بنانے والے لوگ خود اپنے پیدا کیے ہوئے ’عفریتوں‘ سے بھاگ رہے ہیں اور ہمارے لیے انتباہات چھوڑتے جا رہے ہیں، تو عظیم انسانی شاعروں، مثلاً میری اولیور کے مشورے پر عمل کریں۔ ان کی خوبصورت نظم ’دی سمر ڈے‘ کو یاد کریں اور ہمارے باقی بچے ہوئے وقت کے بارے میں گہرائی سے سوچیں: ’مجھے بتاؤ، تم اپنی اس ایک وحشی، قیمتی اور بے حد نایاب زندگی کے ساتھ کیا کرنے کا ارادہ رکھتے ہو؟‘

